خالد خان۔ کالم نگار
ہمیں قدرت نے ایک مکمل اور متوازن دنیا عطا کی ہے۔ یہ زمین محض مٹی کا ایک گولہ نہیں بلکہ زندگی کا ایک عظیم الشان نظام ہے جس میں ہر شے ایک دوسرے سے بندھی ہوئی ہے۔ ہوا، پانی، مٹی، پہاڑ، دریا، جنگلات، پرندے، جانور، حشرات اور انسان سب ایک ایسی زنجیر کی کڑیاں ہیں جس کی مضبوطی ایک دوسرے کے وجود سے وابستہ ہے۔ فطرت نے اس نظام کو کروڑوں برس میں تشکیل دیا ہے۔ اس میں کوئی شے بے مقصد نہیں، کوئی وجود غیر ضروری نہیں اور کوئی مخلوق ایسی نہیں جس کا ہونا یا نہ ہونا برابر ہو۔ ایک ننھا سا کیڑا بھی اس زمین کی بقا میں اتنا ہی اہم ہے جتنا ایک تناور درخت، اور ایک درخت اتنا ہی ضروری ہے جتنا انسان۔
انسان کی سب سے بڑی غلطی یہ رہی کہ اس نے خود کو زمین کا مالک سمجھ لیا۔ اس نے یہ گمان کر لیا کہ یہ دنیا صرف اس کی آسائش اور خواہشات کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ زمین کسی ایک نسل، قوم یا مخلوق کی جاگیر نہیں۔ یہ تمام جانداروں اور غیر جانداروں کی مشترکہ میراث ہے، ایک شریک شاملات ہے، جس پر ہر وجود کا برابر حق ہے۔ انسان اگر اس زمین پر رہتا ہے تو پرندے بھی اسی کے مکین ہیں، جنگلی جانور بھی اس کے وارث ہیں، درخت بھی اس کے باشندے ہیں اور آنے والی نسلیں بھی اس امانت کی حق دار ہیں۔ جب انسان اس حقیقت کو بھول جاتا ہے تو وہ فطرت کے خلاف جنگ چھیڑ دیتا ہے، اور فطرت کے خلاف لڑی جانے والی ہر جنگ آخرکار انسان کی اپنی شکست پر ختم ہوتی ہے۔
زمین پر زندگی کا سلسلہ درختوں کے بغیر نامکمل ہے۔ ہماری سانسیں دراصل درختوں کی عطا ہیں۔ ہم جو ہوا اپنے پھیپھڑوں میں بھرتے ہیں، اس کے پس منظر میں بے شمار درختوں کی خاموش خدمت شامل ہوتی ہے۔ وہ نہ اجرت مانگتے ہیں، نہ شکایت کرتے ہیں، نہ احتجاج کرتے ہیں۔ وہ گرمی میں سایہ دیتے ہیں، بارشوں کو متوازن رکھتے ہیں، مٹی کو بکھرنے سے بچاتے ہیں، زیر زمین پانی کو محفوظ رکھتے ہیں، پرندوں کو گھر دیتے ہیں، جانوروں کو پناہ دیتے ہیں اور انسان کو زندگی دیتے ہیں۔ مگر انسان نے اپنے سب سے بڑے محسن کے ساتھ وہ سلوک کیا جو شاید کسی دشمن کے ساتھ بھی نہ کیا جاتا۔
ترقی کے نام پر جنگلات کاٹے گئے، شہروں کو پھیلانے کے لیے درخت اکھاڑے گئے، سڑکوں، عمارتوں اور منافع کی خاطر سبزہ ختم کیا گیا۔ کلہاڑی درختوں پر چلتی رہی اور انسان تالیاں بجاتا رہا۔ اسے معلوم ہی نہ ہوا کہ ہر گرتا ہوا درخت دراصل اس کے مستقبل کا ایک ستون اپنے ساتھ لے جا رہا ہے۔ جب کسی درخت پر آرا چلتی ہے تو حقیقت میں زندگی کے ایک پورے نظام کو زخمی کیا جاتا ہے۔ ایک درخت کے ساتھ بے شمار پرندوں کے گھونسلے ختم ہوتے ہیں، حشرات کی دنیا متاثر ہوتی ہے، مٹی کی زرخیزی کم ہوتی ہے، بارشوں کا توازن بگڑتا ہے اور فضا کا نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔ گویا درخت پر چلنے والی کلہاڑی آخرکار انسان کی اپنی پیروں تک پہنچتی ہے۔
آج اگر موسم بے ترتیب ہو چکے ہیں، اگر گرمی ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہے، اگر خشک سالی بڑھ رہی ہے، اگر سیلاب تباہی مچا رہے ہیں، اگر زلزلے لپک رہے ہیں، اگر زمین کی زرخیزی کم ہو رہی ہے، اگر حیاتیاتی تنوع سکڑ رہا ہے اور اگر نت نئی بیماریاں انسان کا تعاقب کر رہی ہیں تو یہ سب اچانک پیدا ہونے والے مسائل نہیں۔ یہ فطرت کے ساتھ ہماری طویل ناانصافیوں کا نتیجہ ہیں۔ ہم نے زمین کا توازن بگاڑا، ہم نے جنگلات کو ختم کیا، ہم نے بے شمار جانداروں کے مسکن تباہ کیے، ہم نے پرندوں اور حشرات کی نسلوں کو معدوم کیا اور پھر حیران ہونے لگے کہ فطرت کا نظام کیوں بگڑ رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فطرت بدلہ نہیں لیتی، وہ صرف اپنے قوانین کے مطابق جواب دیتی ہے۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ اب انسان کو اپنی غلطیوں کا احساس ہونے لگا ہے۔ جگہ جگہ شجرکاری مہمات چل رہی ہیں، حکومتیں، ادارے، تنظیمیں اور عام لوگ درخت لگانے کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ لیکن یہاں ایک ایسا مسئلہ موجود ہے جس پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔ مسئلہ نیت کا نہیں، علم کا ہے۔ ہماری خواہش درست ہے مگر ہماری معلومات اکثر نامکمل ہوتی ہیں۔ ہم درخت تو لگا رہے ہیں مگر یہ سوچنے کی زحمت کم کرتے ہیں کہ کون سا درخت لگایا جا رہا ہے، وہ کس خطے سے تعلق رکھتا ہے اور اس کے مقامی ماحول پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
بہت سی شجرکاری مہمات میں ایسے درخت لگائے جا رہے ہیں جو اس سرزمین کے مقامی باشندے نہیں۔ وہ اپنے آبائی علاقوں میں یقیناً مفید ہو سکتے ہیں لیکن ہر درخت ہر زمین کے لیے موزوں نہیں ہوتا۔ فطرت کا اپنا جغرافیہ اور اپنا مزاج ہوتا ہے۔ بعض غیر مقامی درخت زیر زمین پانی بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں، بعض مقامی نباتات کی نشوونما میں رکاوٹ بنتے ہیں، بعض کے نیچے دوسری گھاس اور پودے پنپ نہیں پاتے، بعض مقامی پرندوں اور حشرات کو وہ خوراک اور پناہ فراہم نہیں کرتے جو مقامی درخت مہیا کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بظاہر سبز نظر آنے والی زمین اندر سے حیاتیاتی طور پر کمزور ہوتی جاتی ہے۔ ایسے درخت بعض اوقات زمین، پانی اور مقامی حیات کے لیے بوجھ بن جاتے ہیں۔ ان کی پرورش کے لیے زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں اور ان کے گرد ایک مصنوعی نظام قائم کرنا پڑتا ہے جو قدرتی توازن پیدا کرنے کے بجائے اس سے مزید دور لے جاتا ہے۔
اس کے برعکس مقامی درخت اس سرزمین کی اپنی اولاد ہوتے ہیں۔ وہ اسی مٹی میں پیدا ہوئے، اسی موسم میں پروان چڑھے اور اسی ماحول کے ساتھ ہم آہنگ ہوئے۔ انہیں کم پانی درکار ہوتا ہے، وہ مقامی موسمی حالات کو بہتر طور پر برداشت کرتے ہیں، مقامی پرندوں کے لیے خوراک اور آشیانہ بنتے ہیں، شہد کی مکھیوں اور گردہ افشانی کرنے والے حشرات کو سہارا دیتے ہیں، مٹی کو مضبوط کرتے ہیں، زیر زمین پانی کے نظام کی حفاظت کرتے ہیں اور پورے ماحولیاتی توازن کو استحکام بخشتے ہیں۔ بیری، توت، پھلائی، شیشم، کیکر، دھریک، بنیر، زیتون اور دیگر مقامی درخت صرف سایہ نہیں دیتے بلکہ اپنے ساتھ ایک مکمل حیاتیاتی دنیا لے کر آتے ہیں۔ ان کی شاخوں پر پرندے بستے ہیں، ان کے پھولوں پر حشرات آتے ہیں، ان کے نیچے مٹی زندہ رہتی ہے اور ان کے گرد فطرت اپنا پورا حسن بکھیرتی ہے۔
فطرت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اگر اسے موقع دیا جائے تو وہ اپنے زخم خود بھرنا شروع کر دیتی ہے۔ اگر ہم مقامی درختوں کو دوبارہ زمین پر لوٹانا شروع کر دیں، اگر ہم مقامی نباتات کو تحفظ دیں، اگر ہم قدرتی نظام کو دوبارہ سانس لینے کا موقع فراہم کریں تو چند برسوں میں حیرت انگیز تبدیلیاں سامنے آ سکتی ہیں۔ پرندے واپس آئیں گے، حشرات کی دنیا بحال ہوگی، مٹی میں زندگی لوٹے گی، پانی کے ذخائر بہتر ہوں گے اور زمین دوبارہ اپنے فطری توازن کی طرف سفر شروع کر دے گی۔ یہ کوئی خواب نہیں بلکہ فطرت کا آزمودہ اصول ہے۔
ہمیں دراصل درخت نہیں لگانے، ہمیں اپنی کھوئی ہوئی دانش واپس لانی ہے۔ ہمیں اس سرزمین کو وہی لوٹانا ہے جو ہم نے اس سے چھین لیا تھا۔ ہمیں ان درختوں کو دوبارہ جگہ دینی ہے جو صدیوں تک ہمارے پہاڑوں، میدانوں اور وادیوں کی شناخت تھے۔ ہمیں ان مقامی انواع کو زندہ کرنا ہے جن کے سہارے یہ خطہ آباد تھا۔ یہ کام کسی ایک موسم، کسی ایک مہم یا کسی ایک سال کا محتاج نہیں۔ ایک بار جب مقامی درختوں کی بنیاد مضبوط ہو جائے گی تو فطرت خود آگے کا سفر طے کر لے گی۔ بیج گریں گے، پودے اگیں گے، نسلیں پھیلیں گی اور زندگی اپنے فطری راستے پر واپس آ جائے گی۔
انسان نے زمین سے بہت کچھ لیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ کچھ واپس بھی کرے۔ اگر ہم واقعی اپنی آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، سرسبز اور متوازن دنیا دینا چاہتے ہیں تو ہمیں مقامی درختوں، مقامی نباتات اور مقامی ماحولیاتی نظام کی طرف لوٹنا ہوگا۔ یہی فطرت کا راستہ ہے، یہی بقا کا راستہ ہے اور یہی وہ قرض ہے جو زمین ہم سے صدیوں سے مانگ رہی ہے۔ جب ہم یہ قرض ادا کر دیں گے تو زمین پھر سے سانس لے گی، دریا پھر سے گنگنائیں گے، پرندے پھر سے لوٹ آئیں گے اور زندگی کا وہ توازن، جسے ہم نے اپنے ہاتھوں بگاڑا تھا، دوبارہ بحال ہو جائے گا۔ تب انسان بھی محفوظ ہوگا اور فطرت بھی، اور یہی وہ ورثہ ہوگا جو ہم آنے والی نسلوں کے سپرد کر سکیں گے۔
واپس کریں