طاہر سواتی
ستر ارب ڈالر ماہانہ کے سود میں پھنسے امریکہ کا ہر قدم الٹا پڑ رہا ہے ۔چینی میسنے بنے گیلے کپڑے کو نچوڑتے ہی جا رہے ہیں ۔غضب خدا کا قہر ناکی کے ڈنکے بجاتے ایٹمی توانائی سے چلنے والے ابراہم لنکن اور جیرالڈ فورڈ کی خلیج کے پانیوں میں ایسی پٹائی ہوئی گیلی دھوتی سنبھالتے بھاگ لئے ۔بحالی کیلئے کوئی چھ ماہ بتاتا ہے کوئی ایک سال دور کی کوڑی لاتا ہے ۔پچھلی پانچ دہائیوں سے طاقت کے یہ دیوتا دنیا بھر کے سمندروں میں دندناتے پھرتے تھے ۔دشمنوں کی سانسیں انکی آمد کی خبر گویا بند کر دیتی تھی ۔ایرانی میزائلوں نے ایسی جم کر پٹائی کی ایپسٹن فائلز کے ہیرو بابا جی روتے ہوئے بتاتے ہیں جیرالڈ فورڈ پر"سترہ سمت سے حملہ ہوا"
بحرین،قطر اور دوبئی کے اڈوں سے امریکی فوجی ایسے غائب ہوئے گدھے کے سر سے سینگ ۔
پانچ ریڈار سسٹم تھے چار ایرانیوں نے میزائلوں سے سکریپ بنا دئے پانچواں اٹھا کر اسرائیل بھاگ گئے "بھاگتے چور کی لنگوٹی"
یہ اڈے دنوں میں نہیں چالیس سالوں کی محنت سے توانائی کے زخائر پر قبضے کیلئے قائم کئے تھے ۔عربوں کی تجوریاں خالی کر دی تھیں ۔اب سائیں سائیں کی آوازیں باقی ہیں اڈوں پر امریکی چڑیاں اور چڑے پھڑ اڑ گئے۔
ایران پر حملہ دو سو ارب ڈالر کا پڑا ہے ۔ابنائے ہرمز آج بھی بند ہے ۔
چین نے آج دھمکی دی ہے"خبردار ہمارے ایران کے ساتھ معاہدے ہیں"۔بھارتی بنیا ایک ارب کی ابادی پالنے کیلئے جلد ہی جاپان،چین،جرمنی اور یورپین یونین کے ساتھ مل کر بانگیں دیتا نظر آئے گا "بابا جی معاف کرو مسلہ حل کرو"
گورباچوف بن جاؤ ،پیچھے ہٹ جاؤ ۔تیسری عالمی جنگ کوئی نہیں چاہتا ۔
معیشت نادہندہ ہے ۔ہر داؤ الٹا پڑ رہا ہے ۔ایران ٹھکانہ تھا چین نشانہ تھا لیکن تجوری خالی ہے ۔
آج پینٹاگون کے ایک جنرل سے نیویارک ٹائمز کے رپورٹر نے پوچھا ایف 35 ایران نے کس ہتھیار سے گرایا" فرمایا "ہمیں ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ۔
ایک چینی تھنک ٹینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے چین اگر کسی جنگ میں آیا چند گھنٹے کے اندر آسمان پر اڑنے والی ساری آنکھیں اندھی کر دی جائیں گی ۔یعنی سارے مصنوعی سیارے مار گرائیں گے ۔
واپس کریں