دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
گمشدہ دیہات
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
دیہات کبھی محض رہائش گاہیں نہیں تھے بلکہ ایک مکمل، زندہ اور خودکار ماحولیاتی نظام تھے جہاں زمین، درخت، پرندے، حشرات، انسان اور موسم ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح جڑے ہوتے تھے کہ پورا ماحول ایک ہی سانس میں جیتا محسوس ہوتا تھا۔ یہ توازن کسی مصنوعی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ صدیوں کے فطری ارتقاء نے اسے اس مقام تک پہنچایا تھا کہ دیہی زندگی خود کفالت، سکون اور قدرتی ہم آہنگی کی ایک روشن اور زندہ تصویر بن گئی تھی۔
اس دور میں مقامی درخت دیہی منظرنامے کا لازمی حصہ تھے۔ شیشم، بیری، کیکر، پیپل، توت اور دیگر مقامی نباتات نہ صرف زمین کی خوبصورتی تھے بلکہ زندگی کی بنیادی ضروریات کا مرکز بھی تھے۔ یہی درخت ایندھن کا ذریعہ تھے، یہی گھروں کی تعمیر میں استعمال ہوتے تھے، اور یہی جانوروں کے لیے سایہ اور چارہ فراہم کرتے تھے۔ زمین کو تھام کر یہ کٹاؤ سے بچاتے اور بارش کے پانی کو جذب کرنے، نمی برقرار رکھنے اور فضا کو متوازن رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے تھے۔ ان کی لکڑی مضبوط، پائیدار اور مقامی ماحول سے ہم آہنگ ہونے کے باعث گھروں کی چھتوں، شہتیروں، دروازوں، کھڑکیوں، چارپائیوں اور روزمرہ استعمال کے فرنیچر تک ہر جگہ استعمال ہوتی تھی۔ یوں یہ درخت دیہی معیشت اور روزمرہ زندگی کا ایک ناگزیر حصہ تھے۔
ان درختوں کے درمیان ایک بھرپور حیاتیاتی دنیا آباد تھی۔ پرندے اپنی آوازوں سے فضا کو زندگی بخشتے تھے، تتلیاں اور رنگ برنگے حشرات کھیتوں اور باغات میں حرکت اور نور بھرتے تھے۔ یہ محض جمالیاتی منظر نہیں تھا بلکہ ایک فعال ماحولیاتی نظام تھا جس میں پرندے نقصان دہ کیڑوں کو تلف کرتے تھے اور حشرات نباتاتی تولیدی نظام کے ذریعے فصلوں کی فطری افزائش میں مدد کرتے تھے، جس سے زراعت بغیر اضافی انسانی مداخلت کے قدرتی طور پر پھلتی پھولتی تھی۔
موسم بھی اسی قدرتی ہم آہنگی کا حصہ تھے۔ درخت ہوا کو معتدل رکھتے، درجہ حرارت کو متوازن کرتے اور مقامی بارشوں کے نظام کو سہارا دیتے تھے۔ گرمیوں کی شدت کم محسوس ہوتی تھی اور سردیوں کی سختی بھی ایک قدرتی حد کے اندر رہتی تھی۔ دیہات میں انسان فطرت کے خلاف نہیں بلکہ فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر زندگی گزارتا تھا۔
یہ پورا نظام ایک خود کار اور منظم ماحولیاتی اکائی کی صورت میں کام کرتا تھا، جہاں ہر عنصر دوسرے عنصر سے جڑا ہوا تھا۔ درخت پرندوں کو سہارا دیتے تھے، پرندے حشرات کو قابو میں رکھتے تھے، حشرات زمین کی زرخیزی اور فصلوں کی پیداوار میں کردار ادا کرتے تھے، اور یہی فصلیں انسان اور جانور دونوں کی زندگی کا سہارا بنتی تھیں۔ یہ ایک مکمل قدرتی سلسلہ تھا جو اپنی بقا کے لیے کسی بیرونی مدد کا محتاج نہیں تھا۔
وقت کے ساتھ اس خاموش اور متوازن نظام میں دراڑیں پڑنے لگیں۔ مقامی درختوں کی کٹائی میں اضافہ ہوا، زرعی زمینوں کے استعمال کے انداز بدل گئے، اور تیزی سے بڑھنے والے تجارتی درختوں نے ان مقامی اقسام کی جگہ لینا شروع کر دی جہاں کبھی قدرتی تنوع اپنی مکمل شان کے ساتھ موجود تھا۔ قدرتی جھاڑیاں کم ہونے لگیں اور جنگلی نباتات معدوم ہوتے چلے گئے۔ یہ تبدیلی فوری طور پر محسوس نہیں ہوئی، مگر اس کے اثرات وقت کے ساتھ گہرے ہوتے گئے۔
آج جب ہم ماضی کو دیکھتے ہیں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ دیہات کا حسن صرف زمین یا مکانات میں نہیں تھا بلکہ اس مکمل ماحولیاتی ربط میں تھا جو ہر جاندار کو دوسرے جاندار کے ساتھ جوڑتا تھا۔ جب یہ ربط کمزور پڑا تو اس کے اثرات صرف درختوں تک محدود نہیں رہے بلکہ پرندوں کی کمی، حشرات کے زوال، موسموں کی شدت اور انسانی زندگی کے سکون میں تبدیلی کی صورت میں پورے ماحول میں پھیل گئے۔
یہ تصنیف اسی حقیقت کی طرف ایک واضح اشارہ ہے کہ دیہات صرف جگہیں نہیں تھے بلکہ ایک مکمل زندہ ماحولیاتی دنیا تھے—اور اسی دنیا کے بکھرنے کی کہانی آگے آنے والے صفحات میں مزید واضح ہوتی جائے گی۔
واپس کریں