طاہر سواتی
جب امریکہ سمیت پوری مغربی دنیا ان کے خلاف تھی اور ان کا کام تمام کرنے نکلی تھی، تب یہ ہمارے پیارے اور آنکھوں کے تارے ہوا کرتے تھے۔
ہم ان کے خلاف جنگ میں ڈبل گیم کھیلتے ہوئے ایک طرف امریکہ سے ڈالر لیتے رہے، تو دوسری طرف ان کو بچاتے بھی رہے۔ حقانی ہوں یا دجال عمر، سب کو وی آئی پی سیکیورٹی دی گئی تھی۔
امریکہ نے بالآخر ہم سے یوں انتقام لیا کہ اپنے مفادات کے تحفظ کی ضمانت لے کر پورا افغانستان ان کے حوالے کر کے نکل گیا۔ آج ہمارے فوجی، پولیس اہلکار اور سویلین شہید ہو رہے ہیں اور وہی دنیا آرام سے سائیڈ پر بیٹھ کر تماشہ دیکھ رہی ہے۔
پچھلے سال جب ان کی دراندازی حد سے بڑھ گئی اور ہمارے چار ہزار سے زائد جوان شہید ہوئے، تب جا کر کچھ ہوش آیا اور ان کے خلاف کارروائی کرنا پڑی۔ اس وقت ترکی اور ایک برادر عرب ملک کے اندر اسلامی جذبہ بیدار ہوا اور انہوں نے مذاکرات کی کوششیں شروع کیں۔
دوحہ مذاکرات میں تو اس برادر میزبان ملک نے پاکستان کے مقابلے میں کھل کر ان کا ساتھ دیا۔ پھر جب پاکستان ایک حد سے زیادہ جھکنے سے انکاری ہوا، تو وہی برادر ملک نہ صرف پاکستان کے خلاف ہوا بلکہ ترکی کے ذریعے پاکستان کو مجبور کیا کہ ان کے خلاف کارروائیاں روک دی جائیں۔
پاکستان نے ترکی اور چین کی خاطر کئی ماہ تک ان کی دراندازی کا کوئی جواب نہیں دیا۔ پچھلے دنوں وہی برادر عرب ملک اور ترکی کا وفد صلح صفائی کے لیے افغانستان کے دورے پر گیا۔
افغان صحافی سمیع یوسفزئی نے اس دورے کے احوال کے حوالے سے ایک دلچسپ انکشاف کیا ہے کہ جب ترکی کے انٹیلی جنس چیف نے پاک افغان مسئلے کے حل کے لیے کابل سے رابطہ کیا، تو وہاں کے وزراء نے انہیں بتایا کہ وہ جن مسائل پر بات کرنا چاہتے ہیں، ان پر صرف قندھار میں بات ہو سکتی ہے اور یہ کابل میں موجود ہماری قیادت کے اختیار سے باہر ہے۔
اس سلسلے میں جب ترکی کے انٹیلی جنس چیف ملاقات کے لیے قندھار پہنچے، تو عین موقع پر ہیبت اللہ نے یہ کہہ کر ان سے ملنے سے انکار کر دیا کہ
”یہ مغربی ہیں، انہیں میرے دفتر نہ لاؤ۔“
آخر کار حکام نے قندھار کے گورنر ملا شیرین کے ساتھ ان کی ملاقات ایک مسجد میں کروائی، جو اس سطح کے سینئر غیر ملکی اہلکار کے لیے ایک غیر معمولی اور غیر سفارتی ماحول تھا۔
اس تجربے کے بعد ترکی کے انٹیلی جنس چیف نے پاکستانی حکام کو کھل کر بتایا کہ
”ان جاہلوں سے سنجیدہ رویے کی توقع رکھنا خود کو بیوقوف بنانے کے مترادف ہے۔“
جواب میں پاکستان نے کہا کہ ہم تو آپ کے کہنے پر رک گئے تھے، ورنہ ان کا شافی علاج ہمیں اچھے سے معلوم ہے۔
ترکی کے انٹیلی جنس چیف کے ساتھ نا مناسب سلوک کے بعد پاکستان نے جنگ بندی ختم کی ،
اور کوہاٹ میں حالیہ دہشت گردی کے بعد ان کے مضبوط ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں انہوں نے کل 10 ڈرونز کے ذریعے پاکستان پر فضائی حملے کی کوشش کی۔ پاکستان نے نہ صرف اس حملے کو ناکام بنایا بلکہ افغانستان کے اندر ان کے متعدد ڈرون ڈپوز کو بھی نشانہ بنایا۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اچانک ان کے پاس اتنی بڑی تعداد میں جدید ڈرونز کہاں سے آ گئے؟
مودی سرکار بے شک ان کی پشت پناہی کر رہی ہے، لیکن اس وقت بھارت کے ساتھ ان کا زمینی یا فضائی رابطہ انتہائی مشکل ہے۔
تو جناب! یہ اسی تناور درخت کا پھل ہے جسے ہم گزشتہ کچھ عرصے سے پانی پلا رہے ہیں۔ جب پاکستان نے مکہ معاہدے کے تحت حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا، تو پاسدارانِ نے اسی وقت یہ پیغام دے دیا تھا کہ اس کے نتائج آپ کے لیے اچھے نہیں ہوں گے۔ جس طرح پاسداران سعودی عرب کے خلاف براہِ راست کارروائی کے بجائے اپنی عراقی اور یمنی پراکسیز کو استعمال کر رہے ہیں، عین اسی طرز پر اب وہ افغان زومبیز کے کندھوں پر رکھ کر ڈرونز چلا رہے ہیں۔
بندہ جاہل گزشتہ تین برسوں سے اس فتنے کے خلاف بار بار خبردار کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ہم جب تک سو جوتے نہ کھا لیں، ہمیں پیاز ہضم ہی ہیں ہوتا۔
واپس کریں