اظہر سید
نوسر باز اور اسکو مدینہ کی مثالی ریاست کا معمار بنانے کیلئے ففتھ جنریشن وار کی جو خوفناک غلطی کی گئی ہمیں نہیں لگتا دوبارہ سسٹم ڈی ریل کیا جائے گا ۔غلطی کا ادراک اس قدر ہمہ گیر تھا مالکوں نے اپنے چیف کو کئی سالوں تک سسٹم چلانے کیلئے جرمن فیلڈ مارشل رومیل سے بھی بڑا تقدس دے ڈالا ۔رومیل کے پاس افریقہ میں اتحادی فوج کا درمیان سے کاٹنے کا فخر تھا تو ہمارے جنرل کے پاس بھارتیوں کا تین دہائیوں سے علاقہ کی سپر پاور ہونے کا نشہ ہرن کرنے کا فخر تھا ۔
خطہ سے زیادہ دنیا کی صورتحال جتنی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے کمپنی یہی سلسلہ چلائے گی ۔اندرونی تحفظات تابعداری کے ساتھ اس طرح طے پا رہے ہیں صوبوں نے وفاقی محاصل سے اپنا حصہ کم کر کے مرکز کو بطور قرضہ دینے کی حامی بھر لی ہے ۔جب پیار سے مسائل حل ہو رہے ہوں تو پھر ڈنڈہ اٹھانے یا نیا لیڈر مارکیٹ کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی ۔
چینیوں نے سی پیک کے خواب کی تکمیل کیلئے اپنے صدر کے تسلسل کو یقینی بنایا اور پاکستانیوں کو بھی یہی مشورہ دیا ۔ہمارے ہاں چونکہ کمپنی سربراہ ہی خدادا صلاحیتوں کا حامل اور قوم کی کشتی کو منجدھار سے نکالنے کی اہلیت رکھتا ہے اس لئے کمپنی نے سربراہ کو فیلڈ مارشل ہی نہیں بنایا کئی سالوں تک سسٹم چلانے کیلئے توسیع بھی دے ڈالی کہ یہ ملک کے بہترین مفاد میں تھا ۔اگر کوئی سمجھتا ہے نواز شریف یا زرداری صاحب نے کمپنی سربراہ کو طاقت فراہم کی وہ خود کو احمق سمجھے کہ یہاں ساری طاقت کمپنی کی ہے ۔فیصلے بھی کمپنی کے ہی چلتے ہیں ۔
چھوٹی سی ایک مثال ہے گلگت بلتستان میں آزاد امیدوار پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے نہ مسلم لیگ ن میں ۔شامل ہوئے تو استحکام پارٹی میں ۔ازاد امیدوار استحکام پارٹی میں شامل نہیں ہوئے اصل میں کمپنی کے استحکام کیلئے انہوں نے اپنا کردار ادا کیا ہے جو قومی کردار بھی ہے اور انتہائی آئینی قانونی اور اخلاقی بھی ۔
جب آئین قانون ،اخلاقیات اور قومی کردار یکساں ہوں تو کمپنی کیوں تبدیلی لائے گی ۔کس کیلئے لائے گی ۔
محنت اور خلوص کے ساتھ قومی امنگوں کو پورا کریں ۔اج ن لیگ کے سر پر ہما بیٹھا ہے کل پیپلز پارٹی کے سر پر بیٹھے گا ۔بھٹو ایسے باغی اب پیدا نہیں ہوتے ۔نواز شریف اور آصف علی زرداری ایسے محب وطن راہنماؤں کا دور ہے ۔مولانا فضل الرحمن نے عدلیہ کو غیر سیاسی بنانے کے آئینی عمل میں مزاحمت کی تھی پیا کے نظروں سے گر گئے ۔انہیں سہاگن بننے کا سکھ شائد ہی ملے ۔
پیا انصاف کرے گا ۔ن لیگ آج سہاگن بنی ہے پیپلز پارٹی کل سہاگن بنے گی ۔پیا کا پیار مسلسل پانے کیلئے دونوں بے مثال سگھرپن کا مظاہرہ کریں جو پیا من بھائی وہ شائد کچھ زیادہ عرصہ سہاگن کا سکھ پا لے ۔
غربت،مہنگائی افراتفری غیر معمولی چیزیں نہیں پیا طلاق دے دے ۔یہ دنیا بھر کا اجتماعی مسلہ ہے ۔غربت،بھوک اور بے روزگاری کا عفریت ترقی یافتہ ممالک میں بھی پنجے گاڑ رہا ہے پاکستانی تو ویسے بھی اس کے عادی ہیں ۔
کچھ بھی تبدیل نہیں ہو گا ۔سارے اپنے آئینی ،قانونی اور اخلاقی کردار ادا کریں ۔اگلا الیکشن ہو گا ۔جیتنے والے اگلی حکومت بنائیں گے اور کمپنی انہیں بھر پور معاونت فراہم کرے گی ۔یہی پاکستان کی تقدیر ہے
واپس کریں