اظہر سید
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی ایران امریکہ مذاکرات سے چند گھنٹے قبل کی گئی ٹویٹ حکومت پاکستان اور ایٹمی ہتھیاروں سے مسلح افواج کی سوچی سمجھی ترجمانی تھی ۔پیغام دیا جانا مقصود تھا اور پیغام دئے جانے کے بعد ٹویٹ ڈیلیٹ کر دی گئی ۔
آپریشن سیندور کے بعد کا کمانڈ سٹرکچر ماضی کی بھول بھلیوں سے باہر نکل آیا ہے ۔اپریشن سیندور کے دوران بھارت کے پاس صرف دو آپشن تھے ۔ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال سے جنوبی ایشیا میں اپنے سپر پاور کے کردار کو برقرار رکھتا یا پھر پاکستان کے خوفناک جوابی حملوں میں اپنے قیمتی اثاثے چینی ٹیکنالوجی سے اسی طرح تباہ کروا لیتا جس طرح ایس 400 اور رافال طیارے تباہ کروائے ۔
تیسری آپشن پاکستان کی ایٹمی ہتھیاروں کی طاقت کو تسلیم کرتا اور جنگ بندی کی درخواست کرنا تھی ۔بھارت نے تیسری آپشن قبول کی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی برتری تسلیم کر لی ۔
طاقت کا اپنا نشہ اور مزا ہوتا ہے ۔اسرائیل کے ایران پر پہلے حملہ کے دوران پاکستان نے اس طرح ایران کی مدد کی ایرانی پارلیمنٹ میں تشکر پاکستان کے نعرے لگائے گئے ۔
طاقت کے اثرات اس قدر توانا تھے پاکستان نے چالیس سالہ افغان پالیسی ترک کر دی اور تزویراتی گہرائی والے طالبعلموں کی طبیعت صاف کرنا شروع کر دی ۔
پاکستان ایک بڑے کھلاڑی کے طور پر اب عالمی برادری کے سامنے کھڑا ہے ۔پاکستان بلاشبہ اس مقام پر موجود ہے اسرائیل کو واضح دھمکی دے سکتا ہے ایران میں ایٹمی ہتھیار استعمال کئے پاکستان اسرائیل میں اسی طرز کے ایٹمی ہتھیار استعمال کرے گا ۔
صدر ٹرمپ کی ایرانی تہذیب مٹا دینے کی دھمکی اصل میں ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی تھی ۔پاکستان کی ثالثی تسلیم کر کے ایران کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات میں اپنے نائب صدر کو بھیجنے پر آمادگی اصل میں پاکستان کی ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی جوابی دھمکی کی وجہ سے تھا ۔
جن امن مذاکرات پر پوری دنیا کی نظریں جمی ہوں ان مذاکرات سے چند گھنٹے قبل اسرائیل کو پاکستانی وزیر دفاع کا دھمکی دینا بے وقوفی یا حماقت نہیں تھی سوچا سمجھا فیصلہ تھا ۔
ایٹمی طاقت کے وزیر دفاع نے اسرائیل کو لبنان پر وحشیانہ بمباری کے تناظر میں دھمکی دی تھی ۔خواجہ آصف کی ٹویٹ سے قبل لبنانی صدر پاکستان سے اسرائیلی بمباری رکوانے کی درخواست بھی کر چکے تھے ۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے پاکستانی وزیر دفاع کی ٹویٹ پر پریس نوٹ تو جاری کیا لیکن ساتھ میں لبنان پر بمباری بھی روک دی ۔
دنیا ہمیشہ سے طاقتور کے سامنے شرافت سے رہتی ہے ۔نہتے غزہ کے فلسطینیوں پر کبھی رحم نہیں کرتی ۔
پاکستان ایٹمی طاقت ہے ۔اسے لبنان ،غزہ اور ایران کی طرح ٹریٹ نہیں کیا جا سکتا ۔خواجہ آصف کی ٹویٹ کا پیغام یہی تھا ۔
واپس کریں