دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
جنگ چین امریکہ کی ہے ۔اظہر سید
اظہر سید
اظہر سید
نری حماقت ہے یہ سوچنا ایران اسرائیل اور مہلک ہتھیاروں سے لیس امریکہ کو برابر کی ٹکر دے رہا ہے ۔اسرائیل کے پہلے حملہ میں ایران کو بے پناہ نقصان پہنچایا گیا تھا ۔حالیہ دوسرے حملہ میں امریکہ کو برطانیہ کی عملی معاونت اور خلیجی ریاستوں میں اپنے اڈوں کی مدد حاصل تھی ۔ایران کی صف اول کی سیاسی اور فوجی قیادت ختم کی جا چکی ہے ۔اتنے بڑے نقصانات کے باوجود ایران کی کامیابیاں سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے ۔اگر یہ تصور کیا جائے ایران میں عملاً چین امریکہ اور اسرائیل سے لڑ رہا ہے تو بات سمجھ میں آتی ہے ۔
ایک چھوٹی سی مثال ہے جنگ کے اٹھارویں یعنی کل کے روز امریکہ کا سٹلییھ ایف 35 طیارہ لاک کر کے گرایا گیا تو اج ایرانی فضاؤں میں ایف 35 طیارے غائب تھے ۔
جنگ کے تیسرے روز بحرین،قطر اور اردن میں جدید ترین ریڈار سسٹم ایک ہی روز اسی طرح تباہ کر دئے گئے جس طرح آپریشن سیندور میں پاکستان نے ایس 400 نظام تباہ کیا تھا ۔اگلے تین روز میں امریکی بچا کچھا سسٹم اٹھا کر اسرائیل لے گئے ۔یوکرائن سے فضائی نگرانی کا نظام اور جنوبی کوریا سے دو ریڈار سسٹم واپس لے لئے ۔
امریکہ اسرائیل حملہ کے پورے سات دن کے بعد طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر کامیاب میزائل حملہ سے یہ خوفناک جنگی مشین میدان جنگ سے واپس بلا لی گئی ۔
جیرالڈ فورڈ طیارہ بردار جہاز جس طمطراق سے آیا تھا جہاز کے مختلف حصوں میں آگ لگنے کے بعد اسی تیز رفتاری سے واپس بھاگ نکلا جس طرح بھارتی طیارہ بردار جہاز وکرانت جو کراچی کی طرف روانہ ہوا تھا راستے میں ہی واپس بھاگ نکلا تھا ۔
کل ایرانی میزائلوں نے دس جہتی میزائل شیلڈ کو ناکام بنا کر اسرائیل کے ڈیمونا ایٹمی مرکز پر حملہ کیا ۔اس سے دو روز قبل اسرائیل کی حیفا ائل ریفائنری پر کامیاب حملہ کیا گیا تھا اور تاحال وہاں آگ لگی ہوئی ہے۔
ایران پر ڈھائی ہفتے سے روزانہ دو سو سے زیادہ جدید ترین لڑاکا طیارے تباہی مچا رہے ہیں۔شہری انفراسٹرکچر ملیا میٹ ہو چکا ہے ۔پھر کونسی قوت ہے جو ایران کے جوابی حملے کامیاب بنا رہی ہے ۔ڈرون ختم ہو رہے ہیں نہ میزائل لانچر ۔
دو اور دو چار کے مطابق ایران کو مسلسل سپلائی مل رہی ہے ۔ایران کو مسلسل ٹیکنیکی معاونت مل رہی ہے ۔ایران کی مدد کرنے والی قوت چین ہے ۔
خلیجی ریاستوں کو ایران پر جوابی حملوں سے روکنے والی قوت پاکستان ہے ۔
جنگ بندی ہو یا جنگ جاری رہے حتمی لوزر امریکہ اور اسرائیل ہیں۔یہ جنگ ختم ہو کر بھی جاری رہے گی کہ اس کے اثرات امریکہ اور اسرائیل دونوں کو بھگتنا ہیں۔
امریکی معیشت نادہندہ ہے ۔اسے ہر مہینے اربوں ڈالر کے قرضوں کی ادائیگیاں کرنا ہوتی ہیں ۔
امریکی دیوانوں کی طرح کبھی وینزویلا چڑھ دوڑتے ہیں ۔کبھی ایران پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔کبھی گرین لینڈ، کینیڈا اور کبھی کیوبا پر قبضہ کے اعلان کرتے ہیں اصل میں انکے دانے مک گئے ہیں۔انہیں سپر پاور کی حیثیت برقرار رکھنے کیلئے نئے وسائل کی ضرورت ہے ۔انہیں چین کا راستہ روکنے کیلئے توانائی کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے ۔
چینی سب جانتے ہیں ۔ایران چینیوں کیلئے ریڈ لائن ہے ۔چین کو اپنی صنعتی مشین چلانے کیلئے تیل کی ضرورت ہے ۔ایران پر امریکی حملہ کامیاب ہو یا ناکام افراتفری ضرور پیدا ہونا ہے ۔عالمی افراتفری شروع بھی ہو چکی ہے ۔امریکی ناکام ہونگے اور انہیں ناکام ہونا ہی ہے ۔توانائی کے زخائر پر امریکی کنٹرول ختم ہونا ہی ہے ۔چین کی زنبیل میں بہت سارے تیر موجود ہیں۔چینی توانائی کے زخائر پر امریکی قبضہ کبھی نہیں ہونے دیں گے کہ یہ انکی بقا کا سوال ہے ۔
واپس کریں