اظہر سید
ایران پر امریکہ اسرائیل حملہ عالمی قوانین،ضابطوں اور اخلاقیات کے بغیر کیا گیا ۔اس حملہ سے یورپین یونین اور ناٹو ممالک براہ راست متاثر ہوئے ہیں ۔ایک ماہ سے زیادہ کے خوفناک حملوں کے باوجود ایران کو گرایا نہیں جا سکا ۔کل بھی ایران کی طرف سے اسرائیل کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا اور آج بھی ۔خلیجی ممالک میں امریکی مفادات پر کل بھی حملے ہوئے اور آج بھی ۔
اقوام متحدہ میں آبنائے ہرمز کھلوانے کی امریکی قرارداد میں یورپین یونین اور ناٹو اتحاد کے اہم طاقتور رکن فرانس نے چین اور روس کے ساتھ مل کر اس قرارداد کو ڈرافٹنگ کے مرحلہ میں ہی ختم کر دیا ۔
امریکہ کا ہمیشہ کا اتحادی برطانیہ بھی امریکی خواہشات پر چلنے کی بجائے برطانیوی مفادات کے نغمے سنا رہا ہے ۔امریکیوں کے سامنے کنواں ہے اور پیچھے کھائی ہے ۔ابنائے ہرمز کھلوائے بغیر جنگ بندی کرتے ہیں توانائی کی ترسیل کے اہم ترین راستے پر ایرانی اختیار کو جواز مل جائے گا ۔ایران پر حملے جاری رکھتے ہیں توانائی کا عالمی بحران امریکہ اور اسرائیل کو غلیظ ترین عالمی ولن بنا دے گا ۔
ناکامی کا کوئی باپ نہیں ہوتا ۔نیتن یاہو اور ٹرمپ دونوں مستقبل قریب کے وہ یتیم ہیں جنہیں اقوام عالمی اجتماعی گالیاں دے گی ۔ایران پر حملہ کے آغاز سے آج تک پانچ امریکی جنرل فارغ ہو چکے ہیں جبکہ اٹارنی جنرل سمیت چھ اعلی عہدیدار ایران پر حملہ کی مخالفت کر چکے ہیں ۔یہ کھیل زیادہ دیر جاری نہیں رہ سکتا ۔غزہ پر مسلسل بمباری سے اسرائیل عالمی نفرت کا نشانہ بننا شروع ہوا ۔ایران پر امریکہ کے ساتھ مل کر دوسرے حملہ سے جس عالمی بحران کا آغاز ہوا ہے اس کے نتایج بھی امریکہ کے ساتھ اسرائیل کو بھی بھگتنا ہیں ۔
حالیہ جنگ کے انڈے بچے موجودہ عالمی نظام کو اوپر نیچے کر دیں گے ۔جو حالات پیدا ہو رہے ہیں ایران پر ایٹمی حملہ یا زمینی افواج بھیجنے کی آپشن بھی امریکہ اسٹیبلشمنٹ کے اندر سے پیدا ہونے والی مزاحمت ختم کر دے گی ۔
اس جنگ کے بعد ایران کا اندرونی حکومتی ڈھانچہ ننگا ہو کر بہت کمزور ہو جائے گا ۔اس جنگ کے بعد امریکہ بے پناہ تباہی مچانے کے بعد بھی ناکام کہلائے گا ۔اس جنگ کے بعد جنگ کا فاتح چین کہلائے گا جو نئے عالمی نظام کا مرکزی مہرہ ہو گا ۔
یہ جنگ جنگوں کی وہ والدہ محترمہ بنے گی جس کی کوکھ سے چینی قیادت میں نیا عالمی نظام جنم لے گا ۔
اسرائیل جس طرح چھ دہائیوں سے مصر،اردن،شام ،لبنان ،ایران ،عراق اور خاص طور پر فلسطینیوں کے خلاف کامیاب فوجی کاروائیاں کرتا آرہا ہے اس پورے خطہ کی نفسیات میں اسرائیل کے خلاف اجتماعی نفرت ہے ۔طاقتور اور جدید ترین جنگی مشین ہونے اور امریکہ یورپ پشت پناہی کی وجہ سے یہ اجتماعی نفرت بے بسی کی وجہ سے کچھ نہیں کر پا رہی ۔
امریکہ کی کمزوری واضح ہو جائے ۔مغربی اتحاد ٹوٹ جائے موقع ملتے ہی یہ اجتماعی نفرت اور بدلہ کی آگ سب کچھ جلا کر خاک کر دے گی ۔غزہ میں حماس کی مزاحمت اور ایران کے مسلسل میزائل حملوں نے اسرائیل کے ناقابل شکست ہونے کی متھ توڑ دی ہے ۔چالیس سال قبل مصری افواج صحرا سینا میں اسرائیل کے ناقابل شکست ہونے کی متھ توڑ چکے ہیں لیکن امریکہ اور یورپ کی بھر پور مدد ،کمک اور معاونت کی وجہ سے مصری رکنے پر مجبور ہو گئے تھے ۔
اسرائیل کے پاس ایٹم بم ہے تو اب خلیجی ریاستوں کے پاس بھی پاکستان کی صورت میں ایٹم بم ہے ۔پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کی آڑ میں اسرائیل کے سامنے آکر بیٹھ گیا ہے ۔
ایران پر حملہ کے ابتدائی نتائج سامنے آنے لگے ہیں ۔مغربی ممالک کا طاقتور مفادات پر مبنی اتحاد ختم ہو رہا ہے ۔مزید نتایج امریکہ اور اسرائیل کی طاقت پر نئے سوالیہ نشان کھڑا کریں گے ۔
واپس کریں