اظہر سید
امریکہ کو کسی نے نہیں ڈبویا یہ کیپٹلزم کے گھاٹ اترا ہے ۔سپر پاور کی کہانی اسی طرح ختم ہو رہی ہے جس طرح ماضی کی عظیم سلطنتیں فنا کے گھاٹ اتریں۔ایران پر حملہ اونٹ کی کمر پر تنکہ ہے جس کا بوجھ اٹھایا جانا ممکن نہیں رہا ۔
سب کو حقیقت کا پتہ چل گیا ہے ۔ایرانی جنگ بندی کا معاوضہ مانگنے لگے ہیں ۔سعودی عرب نے ایران پر حملہ نہیں کیا امریکی شکوہ کرنے لگے ہیں۔
کیپٹلزم خود غرض ہے ۔ یہ کیپٹلزم بیس سال تک امریکہ کو افغانستان میں بٹھا کر اس کا دودھ نکالتا رہا ۔ایک امریکی فوجی کی عینک ،کپڑے اور جسم پر سجے دوسرے سازو سامان سے دو سو سے زیادہ جونکیں خون چوستی رہیں ۔کھربوں ڈالر کے اخراجات کے بعد جب ہاتھی نڈھال ہو گیا تو ان جونکوں یعنی جنگی صنعتوں نے امریکہ کو افغانستان سے نکلنے کی اجازت دے دی۔
جنگی صنعت کے منہ کو جو خون لگ چکا ہے اس نے پہلے وینزویلا پر حملہ کروایا پھر ایران پر چڑھ دوڑا ۔مارکیٹ میں دوسرے کھلاڑی بھی موجود ہیں۔جب جونکیں امریکی معیشت کو چوس رہی تھیں چینی خاموشی سے ترقی کرتے جا رہے تھے ۔
آپریشن سیندور کے بعد بھارت کی دھوتی اتری ایران پر حملہ امریکی دھوتی اتار دے گا ۔سعودی عرب اس لئے ایران پر حملہ نہیں کر رہا باقیوں کی طرح سعودیوں کو بھی پتہ چل چکا ہے ہاتھی دم توڑ رہا ہے ۔
اردن،قطر،عراق ،بحرین شام کسی نے ایران پر حملہ نہیں کیا باوجود اس کے ایرانی میزائل انہیں نشانہ بناتے رہے ۔
ظلم تو یہ کرد بھی امریکیوں کے قابو میں نہیں آئے ۔کوئی دن جاتا ہے ایران جنگ ختم ہو جائے گی ۔امریکی دھوتی اتر جائے گی ۔خلیج کی ساری ریاستیں امریکیوں کے اثر سے آزاد ہو جائیں گے ۔دنیا کو چلانے کے نئے اصول وضع ہونگے ۔
گورباچوف نے پسپائی کا فیصلہ کر کے دنیا کو ایٹمی جنگ سے بچا لیا تھا ۔سوویت یونین کو تحلیل کر دیا تھا ۔
سوویت یونین چاہتا تو دنیا کو تین مرتبہ تباہ کر سکتا ہے ۔خود بھی مرتا ساری دنیا کو بھی مار دیتا لیکن روسی انسانیت کے محسن ثابت ہوئے ۔
امریکی معیشت بھی سوویت معیشت کی طرح برباد ہو چکی ہے ۔ملٹی نیشنل کمپنیوں نے سپر پاور کو کھا لیا ہے ۔امریکی اسی جگہ پر کھڑے ہیں جہاں کبھی سوویت یونین کھڑا تھا۔
وہی آپشن امریکہ کے پاس ہے جو کبھی سوویت یونین کے پاس تھا ۔ایٹمی ہتھیار استعمال کریں اور ایران کو شکست دے دیں یا پسپا ہو جائیں ۔امریکی ریاستوں کو آزاد ہونے کی اجازت دے دیں ۔
سوویت یونین نے ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کئے تھے ۔دیکھنا یہ ہے امریکی کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔
ایران میں ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار استمال کئے یا روایتی ایٹم بم استعمال کیا پورے خلیج کا نقشہ تبدیل ہو گا اور ساتھ میں دنیا کا نقشہ بھی بدلے گا ۔
دوسری جنگ عظیم میں صرف امریکیوں کے پاس جوہری ہتھیار تھے آج پانچ نہیں سات ایٹمی طاقتیں ہیں ۔کر لیں ایران میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال اور لے آئیں دنیا کو اس سطح پر جہاں اگلی عالمی جنگ پتھروں سے لڑی جائے ۔
واپس کریں