اظہر سید
فخر رحمٰن فیلڈ کا ساتھی تھا ۔فیلڈ میں کسی بھی میڈیا گروپ سے ہوں سب دوست ہوتے ہیں ۔فیلڈ کے دوستوں کی زاتی زندگی کے متعلق اتنا ہی جانتے ہیں جتنا وہ بتاتے ہیں ۔تین دہائیاں رپورٹنگ کی ہو ، بے شمار چیزوں کا پتہ چل جاتا ہے ۔ایجنسیوں کا طریق کار اور کسی بھی معاملہ پر ایس او پیز کبھی نہیں بدلتے کمانڈر یا افسر بھلے کوئی بھی ہو ۔نچلی سطح پر یا کسی افسر یا کمانڈر کے خلل دماغ کی وجہ سے کچھ استثنا ہوتے ہیں لیکن عمومی طور پر ایس او پیز پر ہی عمل ہوتا ہے ۔
ہمارے متعلق اگر فیلڈ کے دوستوں کو ایک دن پتہ چلے کسی ایجنسی کا میڈیا میں پلانٹڈ بندہ تھا ۔اچانک پتہ چلے کسی ملک دشمن سوشل میڈیا پیج کا ایڈمن تھا جو اس پراپیگنڈہ مشنری کا پرزہ تھا جو فوج،ایٹمی صلاحیت یا پاکستان دشمن ایجنڈے کو آگے بڑھاتا ہے سارے دوست حیرت زدہ رہ جائیں گے ۔
ہمیں گزشتہ روز فخر رحمٰن کی پیکا ایکٹ کے تحت گرفتاری کا پتہ چلا قدرتی طور پر افسوس ہوا غصہ بھی آیا ۔چند گھنٹوں بعد چند فون کال سے جو چیزیں سامنے آئیں تکلیف ہوئی معید پیرزادہ،صابر شاکر ،شاہین صہبائی ایسے ملک دشمن ایجنڈہ کو بڑھانے والوں میں ہمارا دوست بھی شامل تھا ۔
سارے زاتی تعلقات دوستیاں ایک طرف اپنی مٹی سے وفاداری اور محبت دوسرے پلڑے میں ۔
جنرل باجوہ اور جنرل فیض کے دور میں جس قدر تنقید ہم یعنی اظہر سید نے ڈٹ کر فوج کی سیاسی انجینئرنگ پر کی دعویٰ کرتے ہیں اس ملک میں رہ کر کسی نے اتنی جرآت اور دلیری کا مظاہرہ نہیں کیا ۔
بے خوفی کی وجہ صرف ایک تھی ہماری ہر تحریر ہماری اپنی تھی ،اپنے ملک کی محبت میں لکھی تھی ۔ایجنسیوں کے طریق کار کا ، ایس او پیز کا پتہ تھا ۔دامن صاف تھا ۔ہاتھ صاف تھے ۔کسی فون کال سے ،کسی بینک ٹرانزیکشن سے اور کسی ملاقات سے کچھ بھی نہیں مل سکتا تھا ۔
کسی صحافی کو اچانک نہیں اٹھایا جاتا ۔پہلے ایس او پیز فالو ہوتے ہیں ۔پھر پکڑا جاتا ہے ۔اٹھایا جاتا ہے ۔یہاں بھی بحرحال استثناء ہوتے ہیں ۔مالکان کا کمانڈ سٹرکچر کسی ایجنڈے پر چل رہا ہو اس راہ میں رکاوٹ ڈالنے والے کو بغیر ایس او پیز کے پکڑا جا سکتا ہے ۔
کوئی دماغی خلل کا افسر ،کمانڈر زاتی سطح پر خود سے کسی پر ہاتھ ڈال دیتا ہے ۔
فخر رحمٰن کے متعلق جو کچھ پتہ چلا ہے افسوسناک ہے اور بس ۔
واپس کریں