اظہر سید
بلوچ احتجاج اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد درست سمت میں تھا ۔اس احتجاج کو انسانی حقوق کا تحفظ حاصل تھا اور ملک بھر کے جمہوریت پسندوں کی حمایت حاصل تھی ۔گزشتہ پانچ سال کے دوران بلوچ احتجاج نے جو شکل اختیار کر لی ہے وہ انسانی حقوق اور جمہوریت پسندوں کی حمایت کے دائرہ کار میں نہیں آتی ۔
بلوچستان میں اب بلوچ نوجوان اپنے حقوقِ کیلئے نہیں لڑ رہے بطور ایندھن استعمال ہو رہے ہیں ۔یہ ایندھن دشمن قوتیں خریدتی ہیں اور اپنے مفادات کے تنور میں جلاتی ہیں ۔
یہ کھیل ہمیشہ سے کھیلا جا رہا ہے ۔ہمیشہ کھیلا جائے گا ۔ اس کھیل کے کوئی اصول نہیں ۔بھارتیوں نے مقبوضہ کشمیر میں بطور ایندھن استمال ہونے والے مجاہدین کو خصوصی قوانین بنا کر مارا ۔ایک لاکھ کشمیری اس تنور میں جل گئے ۔جب پاکستان کی ایندھن خریدنے کی سکت ختم ہوئی یہ تنور بھی بجھ گیا ۔
افغانستان میں دو عالمی طاقتیں آئیں ۔پاکستان نے بطور ایندھن یہاں بہت کچھ جلایا ۔کسی طاقت کو اپنے پڑوس میں ٹکنے نہیں دیا ۔دونوں نامراد ہوئیں ۔
ویتنام میں چین اور روس نے خوب ایندھن جلایا ۔امریکی نامراد ہو کر نکلے ۔
تامل گوریلے دو دہائیاں تباہی مچاتے رہے ۔بھارتیوں نے ایندھن کی فراہمی روکی تامل تحریک کچل دی گئی ۔
بلوچ ایندھن کی فراہمی ایران اور افغانستان سے مسلسل ہو رہی تھی ۔ایران پیچھے ہٹ گیا ہے ۔افغانڈوز ریاست اور حکومت چلانے کیلئے پیسوں کے ضرورت مند ہیں ۔وہ پیسے لے کر ایندھن کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔دن آنے والے ہیں ۔افغانستان سے بھی ایندھن کی فراہمی بند ہو جائے گی ۔بلوچ تحریک بھی کچل دی جائے گی ۔
پاکستان مشرق کی ابھرتی ہوئی چینی کشتی کا سوار ہے ۔افغاںڈو ڈوبتی ہوئی سپر پاور اور اس کے حلیفوں بھارت اسرائیل کی کشتی میں سوار ہیں ۔وقت بدل رہا ہے ۔افغانڈو کی کشتی ڈوبے گی ۔
بلوچ عسکریت پسند جو اہداف چنتے ہیں وہ آزادی کے تحریک والوں کے نہیں ہوتے بلکہ تحریک کیلئے ایندھن فراہم کرنے والوں کے ہوتے ہیں ۔
متحدہ عرب امارات کی کشتی بھی بھنور میں ہے ۔گوادر بندرگاہ مستقبل ہے۔بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس لحاظ سے خوش آئند ہے پاکستان کی طاقتور فوج کو عسکریت پسندوں کو کچلنے کا اخلاقی اور قانونی جواز مل گیا ہے ۔
انسانی حقوق شہریوں کے ہوتے ہیں بے گناہ شہریوں کو مارنے والے دہشتگردوں کے نہیں ۔
واپس کریں