اظہر سید
چار اکائیوں پر مشتمل وفاق میں موقع ملتے ہی جمہوریت کا پرچم اٹھا کر صوبوں کو مالی طور پر اضافی وسائل دینے والے جمہوریت کے پرچم بردار ایک بنیادی چیز بھول گئے تھے پورا ریاستی ڈھانچہ کرپٹ ہے ۔
جس ریاست کی بنیاد میں ہی اختیارات کی کشمکش شامل ہو وہاں کرپشن ناگزیر ہوتی ہے ۔ریاست پر کنٹرول اور قبضہ کی کشمکش میں ریاست کے تینوں ستون بدعنوانی پر کھڑے ہیں۔جمہوریت کے پرچم بردار موقع ملتے ہی اپنے پالتو جج بناتے ہیں ۔مالکان موقع ملتے ہی اپنے پالتو ریاست کے اہم ترین ستون عدلیہ میں بطور منصف بٹھاتے ہیں ۔
ایک اور غیر رسمی ستون میڈیا کو بھی پالتو بنایا جاتا ہے ۔مقننہ میں بھی جس کا داؤ لگے وہ اپنے پیادے لگاتا ہے ۔
بدعنوانی کے اس ڈھانچہ میں آئینی ترامیم کے زریعے صوبوں کو مالیاتی خودمختاری دی جائے وہ وفاق اور صوبوں کے درمیان نیا سوشل کنٹریکٹ نہیں بنتا مالیاتی افراتفری کا سبب بنتا ہے ۔اٹھارویں آئینی ترامیم سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے ۔
آئینی ترامیم میں صوبوں کو وفاقی محاصل میں اضافی وسائل دئے گئے لیکن کہیں بھی نتایج نظر نہیں آئے ۔وسائل کا بڑا حصہ بااثر طاقتور لوگوں نے دوبئی،اسپین،کینیڈا،امریکہ سوئٹزرلینڈ لینڈ اور دیگر محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا ۔اس حمام میں سارے ننگے ہیں ۔
ماضی کے طاقتور مالکان میں ایک سوچ جنرل اختر عبد الرحمن سے بھی پہلے موجود تھی کرپشن بڑا مسلہ نہیں ۔سابق چیف جنرل باجوہ نے تو ایک محفل میں کھل کر کہہ دیا تھا ملک کا مسلہ کرپشن نہیں ۔
نیچے سے اوپر تک جب ایک مخصوص سوچ موجود ہو تو کونسا نیا سوشل کنٹریکٹ اور کونسی صوبائی خودمختاری ۔
اللہ میاں بہت اچھے ہیں موجودہ چیف جنرل عاصم منیر کرپشن کو بنیادی مسلہ سمجھتے ہوئے نئی آئینی ترامیم کے حق میں ہیں ۔وفاق کے وسائل میں اضافہ کیا جائے ۔صوبائی خودمختاری کے نام پر صوبوں کو ملنے والے اضافی وسائل کو بیرون ملک اثاثے بنانے کے عمل سے نکالا جائے تاکہ مونس الٰہی ایسے سیاستدانوں کے بالکے اسپین میں پانی کی طرح پیسہ نہ بہائیں ،مرشد کی بہنیں امریکہ میں اربوں روپیہ کی پراپرٹی نہ خریدیں ۔
انتظامی افسران بال بچوں سمیت مغربی ممالک کی شہریت حاصل نہ کریں ۔
خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے اعلی فوجی افسران ریٹارمنٹ سے پہلے بیرون ملک بچوں کو منتقل کرتے ہیں نہ جائیدادیں خریدتے ہیں ۔
نئی آئینی ترامیم بہت ضروری ہیں تاکہ صوبے مالیاتی ڈسپلن کے تحت کم ہونے والے وسائل کے باوجود سرپلس بجٹ پیدا کریں۔ وفاق آئینی ترامیم سے زیادہ ہونے والے وسائل کو پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کیلئے استعمال کرے ۔
جب تک کرپشن ختم نہیں ہوتی کوئی نیا سوشل کنٹریکٹ صرف فراڈ ہو گا اور بس
واپس کریں