دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
بھارت بنے گا پاکستان
اظہر سید
اظہر سید
پاکستان تو بدل گیا ہے لیکن بھارتی پاکستان کے راستے پر چل نکلے ہیں ۔بنگال اور کیرالہ کے صوبائی اسمبلی کے نتایج اس بات کی واضح دلیل ہیں جھوٹ ،دھوکہ اور فراڈ کے جس مکروہ نظام سے ایک زناکار پلے بوائے کو پاکستان میں مسیحا بنایا گیا اسی جھوٹ ،دھوکہ اور فراڈ پر مشتمل مسلمان دشمنی کے پراپیگنڈہ سے بی جے پی بنگال میں کامیاب ہو گئی ہے ۔کیرالہ میں پانچ دہائیوں سے کامیاب ہونے والی کیمونسٹ پارٹی شکست کھا گئی ہے ۔
بھارت جتنا بڑا ملک ہے ۔جتنی متنوع ابادی بھارت کی ہے صرف سیکولرازم ہی اس کی بقا کی ضمانت بن سکتا ہے ۔دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سیکولرازم کی بجائے ہندوازم کی بھینٹ چڑھ گئی ہے اور اس کی کوکھ سے صرف انتشار پیدا ہو گا اور بس ۔
پاکستان میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد مالکان نے کھل کر مذہب کا استعمال کیا ۔ریاست پر گرفت قائم رکھنے کیلئے عدلیہ اور میڈیا میں دلالی کی صنعت کو فروغ دیا ۔ نچلے طبقہ کے کم نسل لوگوں کو اعلی عہدے اور اختیارات دے کر اپنی منشا کے نتایج حاصل کئے ۔
اس پالیسی کی انتہا مرشد کی صورت میں سامنے آئی تو مالکوں کو ہوش آیا ادارے تباہ ہو جائیں ،عوام کا ریاست پر اعتماد ختم ہو جائے، ملک ٹوٹ جاتے ہیں ۔
پاکستان نے زناکار مرشد کے تجربہ کے بعد واپسی کا سفر شروع کر دیا ہے ۔اس کے نتایج بھی سامنے آنے لگے ہیں لیکن بھارتی پاکستان کے راستے پر چل نکلے ہیں ۔
ملا ملٹری اتحاد جو کبھی پاکستان کے انتشار کا باعث بنا تھا بالکل وہی اتحاد بھارتی فوج اور انتہا پسند ہندوؤں کی جماعت میں نظر آرہا ہے ۔دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی سب سے بڑی سیکولر فوج کا سربراہ حلف سنبھالنے کے بعد مندر میں اظہار تشکر کیلئے جاتا ہے ،اس سے پہلے بھارتی فوج کے کسی سربراہ نے فوج کا سیکولر تشخص مجروح نہیں ہونے دیا تھا ۔
ففتھ جنریشن وار کا جو چن جنرل باجوہ نے چڑھایا تھا وہی چن اب بھارتی ہندوانہ جمہوریت چڑھا رہی ہے ۔اپریشن سیندور میں جس طرح جھوٹ کا طومار باندھا گیا جنرل باجوہ کے حواری پیچھے رہ گئے ہیں ۔
بھارتی عدلیہ بھی انتہا پسند ہندوؤں کی عدلیہ بنتی جا رہی ہے اور اسکی بنیاد اس وقت رکھی گئی جب بی جے پی کے ایجنڈے پر چلنے والے چیف جسٹس کو ریٹارمنٹ کے بعد بھارتی راجیہ سبھا کی ممبر شپ کا تحفہ دیا گیا۔
بھارت میں مسلمان ایک بہت بڑی حقیقت ہیں ۔انکے خلاف پراپیگنڈہ کی بنیاد پر الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے میں پاکستان کے حوالہ سے شر نہیں خیر ہی خیر ہے ۔
بھارتی معاشرہ انتشار کا شکار ہو گا ۔ممتا بنیر جی پندرہ سال بعد ہاری ہیں ۔بے جی پی نے بنگال کا مورچہ مسلمان نفرت کی بنیاد پر جیتا ہے ۔
کیرالہ میں بھلے بی جے پی کامیاب نہیں ہوئی لیکن وہاں کیمونسٹ پارٹی کے خلاف کئے گئے مسلسل پراپیگنڈہ نے اسے شکست سے دو چار کر دیا ۔
دنیا جس تیز رفتاری سے تبدیل ہو رہی ہے بھارتی معاشرہ میں انتشار پاکستان کے حوالہ سے خوش کن ہے ۔
واپس کریں