دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
دھرتی کا نایاب تحفہ ۔اظہر سید
اظہر سید
اظہر سید
دنیا کے عظیم ترین انسان مٹی پیدا کرتی ہے ،جہاں غلیظ ترین انسان پیدا ہوتے ہیں وہ بھی مٹی کا ہی قصور ہے ۔پاکستان کے آئین اور قانون کے محافظوں پر نظر ڈالیں ایک سے بڑھ کر ایک نظر آتا ہے ۔کوئی آئین کی پہلی عصمت دری کو نظریہ ضرورت کا کفن پہنا کر دفناتا ہے ،کوئی منتخب وزیراعظم کو پھانسی کی سزا سنانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے ،کوئی غیر آئینی حکمران کو آئین میں ترامیم کا حق دیتا ہے تو کوئی کسی سیاسی پارٹی کی ٹکٹیں فروخت کرتا ہے ۔کوئی سسلین مافیا کا نام لے کر عوام کو کھوتا بناتا ہے تو کوئی مخصوص ججوں کو ساتھ ملا کر کسی مخصوص سیاسی جماعت کی فائدے پہنچاتا ہے ۔
اس مٹی نے ان نایاب ہیروں کے ساتھ ایک ایسا سپوت بھی پیدا کیا ہے جو سب سے بازی لے گیا ۔ایسا انوکھا کبھی پیدا ہوا نہ ہو گا ۔اس جیسا کوئی بھی نہیں ۔لائین میں لگ کر ایک غیر آئینی حکمران کا حلف لیا اور جب یہ غیر آئینی حکمران بوجھ بنا تو اسی کے ساتھیوں کی ایما پر باغی بن گیا ۔ائین اور قانون کا محافظ بن گیا ۔
اس جیسا کبھی کوئی ماں پیدا نہیں کر سکتی ۔اس کے پاس روتے پیٹتے عوام انصاف کیلئے پہنچے ،ہماری عمر بھی کی کمائی ایک نوسر باز نے اپنا گھر "کے خواب دکھا کر لوٹ لی ہے ۔
اس نے عوام سے لوٹی ہوئی اربوں روپیہ کی دولت دیکھی تو بے بس عوام کو انصاف دینے کی بجائے ملزم کے بیٹے کو اپنی بیٹی دے دی ۔انصاف کو تیل لینے بھیج دیا ۔لالچی اور حریص ہمیشہ بہترین داؤ لگاتا تھا ۔جب غیر آئینی حکمران آیا بھاگ کر اس کا حلف لے لیا ۔جب غیر آئینی حکمران کے اپنے ساتھی اسے بوجھ سمجھنے لگے بھاگ کر انکی کشتی میں بیٹھ گیا ۔
بیٹی کے اچھے رشتہ کے متلاشی کے پاس جب ایڈن گارڈن اسکینڈل کا کیس آیا تو ملزم کے ساتھ آنے والے اس کے غیر شادی شادی بیٹے کو تاڑ لیا ۔ایک وچولے وکیل کو بیچ میں ڈالا اپنی بیٹی ملزم کے بیٹے سے بیاہ دی ۔
اصل ملزم مر گیا ۔عوام سے لوٹے اربوں روپیہ کے اثاثے بیٹے کو منتقل ہو گئے ۔ان اثاثوں سے اب بیٹی کی زندگی تو سنور ہی گئی تھی نواسوں کی نسلیں بھی سنور گئیں ۔ گھر بیٹھ کر کھائیں گی ۔
دنیا کی اس بساط پر اس جج ایسے خوش قمار کم ہی ہونگے جو چال بھی چلتے ہیں قیامت کی چلتے ہیں ۔
واپس کریں