اظہر سید
ایران میں امریکہ اور اسرائیل کی کامیابی چین اور پاکستان دونوں کیلئے قابل قبول نہیں ۔چین خلیج کے توانائی کے وسائل پر امریکی قبضہ قبول کر کے اپنی گردن امریکیوں کے ہاتھ میں نہیں دے سکتا ۔پاکستان غیر مستحکم افغانستان ،بھارت اور اسرائیل نواز ایرانی حکومت میں اپنی گردن تین اطراف سے شکنجے میں نہیں پھنسا سکتا ۔
وزیر خارجہ کے دورہ چین سے پہلے صدر زرداری نے اسلام آباد میں چینی سفیر سے ملاقات کی تھی ۔
دو روز قبل آرمی چیف کے دورہ امارات میں دوبئی کے حکمرانوں کو بتا دیا گیا تھا ایران پر کسی خلیجی ریاست کا حملہ اس پورے خطہ کو اس صورتحال میں دھکیل دے گا شائد خلیجی ریاستیں ہی نہ رہیں ۔
اس سے بھی پہلے ایٹمی پاکستان کی طرف سے سعودی عرب کو ایران کے خلاف کسی بھی کاروائی سے روک دیا گیا تھا ۔چین اور پاکستان کی ساری کوشش امریکیوں کی اس حکمت عملی کے خلاف ہے خلیجی ممالک ایران کے خلاف جوابی کاروائی کریں اور امریکی انکی تجوریوں پر ہاتھ صاف کریں ۔
اس وقت چین اور پاکستان دونوں کامیاب ہیں ۔امریکی صدر جھنجلاہٹ میں کبھی سعودی کروان پرنس کے خلاف نازیبا گفتگو کرتا ہے اور کبھی وائٹ ہاؤس کی ترجمان پریس بریفنگ میں واضح کرتی ہے جنگ کے اخراجات خلیجی ممالک ادا کریں گے ۔
امریکی بدمعاشی کا سورج آبنائے ہرمز میں ڈوبے گا ۔چار ہفتے گزر گئے ایران کی میزائل زنبیل خالی نہیں کی جا سکی ۔
امریکی معیشت میں بے یقینی کا یہ عالم ہے فیڈرل ٹریژری شرح سود کم کرنے کی اہلیت کھو چکی ہے ۔
اخراجات کم کرنے کیلئے چار لاکھ ملازمتیں ختم کر دی گئیں ۔صحت کا بجٹ پچاس فیصد کم کر دیا گیا ۔دنیا بھر کے تمام امدادی پروگرام ختم کر دئے گئے ۔یو ایس ایڈ کے 95 فیصد پروگرام ختم اور 98 فیصد ملازم فارغ کر دئے گئے ۔
ٹیرف میں اضافہ سے اضافی وسائل حاصل کرنے کے فیصلہ سے تجارتی خسارہ بڑھ گیا ۔چینی درآمدات کم تو ہوئیں لیکن امریکی صارفین پر اضافی بوجھ پڑ گیا ۔
ڈالر میں تیل کی عالمی تجارت واحد چیز ہے جو ڈالر کو بچائے ہوئے ہے ۔ایران پر حملہ ناکام ہوا اور توانائی کے وسائل پر قبضہ نہ کیا جا سکا تو ڈالر کی ٹانگیں کمزور ہونا شروع ہو جائیں گی ۔جب ڈالر کمزور ہونا شروع ہوا تو 38 کھرب ڈالر کا امریکی جی ڈی پی سے بھی زیادہ کا قرضہ امریکہ کو کھا جائے گا ۔ہر مہینے ستر ارب ڈالر سود کی ادائیگیاں کرنا ہوتی ہیں ۔طاقتور ڈالر کی وجہ سے یہ ادائیگیاں رول اوور کر دی جاتی ہیں ۔
نادہندگی سامنے آتی ہے تو سینٹ اور کانگرس سے قرضوں کی حد میں اضافہ کرا لیا جاتا ہے ۔
بلی چوہے کا یہ کھیل اب آخری مرحلہ میں ہے ۔اج پاکستانی وزیر خارجہ بیجنگ میں ہیں کل چین براہ راست اس معاملہ میں شامل ہو جائے گا ۔
ایران کو شکست ہونے کے آثار واضح ہوئے چینی معاملہ میں چھلانگ لگا کر شامل ہو جائیں گے اور اس کی شروعات ہو چکی ہیں ۔
واپس کریں