اظہر سید
فوج دنیا کے کسی ملک کی ہو اپنے کمانڈ سٹرکچر کی مسلسل توہین برداشت نہیں کرتی ۔بندوق والے کی ایک مشترکہ سوچ ہوتی ہے ۔جمہوریت،عوامی رائے ،ملکی یا بین الاقوامی حالات فوج کے درعمل کی رفتار سست یا تیز کر سکتے ہیں لیکن ردعمل ہوتا ضرور ہے ۔
صدر ٹرمپ نے اب نیول چیف کو برطرف کر دیا ہے ۔قبل ازیں چیف آف سٹاف کو فارغ کیا گیا تھا ۔ایران پر حملہ کے آغاز پر جن کمانڈروں نے فوجی آپریشنز پر تحفظات ظاہر کیے انہیں فارغ کر دیا گیا ۔ابھی تک تیرہ کمانڈر بری،بحری اور فضائی افواج کے فارغ کئے جا چکے ہیں ۔نیویارک ٹائم کی گزشتہ ہفتہ کی رپورٹ کے مطابق ایف 35 طیارے کی تباہی اور امریکی پائلٹس لاپتہ ہونے کی رات وار روم میں اسقدر کشیدگی تھی صدر ٹرمپ کو وار روم سے تقریبآ زبردستی نکال دیا گیا ۔
امریکی صدر اپنی افواج کے حوالہ سے جو فیصلے کر رہا ہے صرف امریکی جمہوریت ان فیصلوں کو تحفظ دے رہی ہے ۔پاکستان ،مصر یا ترکی ایسا کوئی ملک ہوتا کمانڈر فراغت تسلیم کرنے کی بجائے صدر ٹرمپ کو اقتدار سے نکال کر کسی طیارہ سازش کیس میں سزائے موت سنا چکے ہوتے ۔امریکہ ایک جمہوری ملک ہے یہ ایک حقیقت ہے ،لیکن فوج اپنی بنت میں فوج ہی ہوتی ہے یہ دوسری حقیقت ہے ۔
جنگ بندی کے بعد امریکی صدر ہر روز ایران کو دھمکیاں دے رہا ہے ۔"مذاکرات نہ کئے تباہ کر دیں گے"دھمکا رہا ہے لیکن شائد پینٹاگون اب جمہوریت کے تحفہ صدر کی بجائے امریکی مفادات کے تحت فیصلے کر رہا ہے ۔
امریکی افواج کے ملٹری سیکریٹری ایک پریس بریفنگ میں واضح طور پر کہہ چکے ہیں "میں استعفیٰ نہیں دوں گا"
ایران پر امریکی حملہ سے قبل ایک بریفنگ میں اسرائیلی وزیراعظم کی موجودگی پر پہلے ہی امریکی اسٹیبلشمنٹ میں متضاد آرا سامنے آچکی ہیں ۔
بے شک اسرائیل کی پشت پناہ طاقتور یہودی لابی امریکی انتظامیہ اور پینٹاگون میں بہت زیادہ اثر رسوخ رکھتی ہے لیکن امریکہ کے اندرونی مسائل اسقدر متنوع ہو چکے ہیں یہ طاقت ور لابی کوئی دن جاتا ہے اپنی طاقت کھو دے گی ۔
امریکہ کے ہمیشہ کے حلیف برطانیہ،فرانس،اسپین ،اٹلی واضح طور پر امریکی فیصلوں سے خود کو الگ کر چکے ہیں ۔امیر خلیجی ریاستیں امریکی بینکوں میں اپنے ڈیپازٹس نکلوانے کیلئے اقدامات کر رہی ہیں ۔فرانس اور جرمنی امریکہ ٹریژری کے پاس رکھوائے اپنے محفوظ سونے کے زخائر بتدریج واپس لے رہے ہیں ۔جو سلسلہ شروع ہوا ہے دیگر ممالک بھی اپنے زخائر واپس منگوائیں گے ۔یو اے ای نے اپنے کھربوں ڈالر واپس لینے کا اعلان کیا کھلبلی مچ گئی ہے ۔امریکی صدر یو اے ای کے ساتھ کرنسی سواپ کی باتیں کرنے لگا ہے ۔
یہ وہ صورتحال ہے ایران پر امریکی حملہ موخر ہوتا جا رہا ہے اور دھمکیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔
ایران اپنی فوجی اور سیاسی قیادت مروانے اور ریاستی انفراسٹرکچر تباہ ہونے کے باوجود "ڈٹ کر کھڑا ہے" مذاکرات سے انکار کر رہا ہے ۔شرائط عائد کر رہا ہے ۔
ہم اس دور میں زندہ ہیں سوویت یونین کا زوال دیکھا اور اب امریکی سورج ڈوبتا دیکھ رہے ہیں ۔
واپس کریں