اظہر سید
ہم نے ساری زندگی رپورٹنگ کی ہے ۔سعود ساحر سے نواز رضا تک کا دور دیکھا ہے ۔نواز رضا کے خلاف اندرونی بغاوت اور افضل بٹ کا دور دیکھا ہے۔افضل بٹ کے ساتھیوں میں سے فاروق فیصل کی بغاوت دیکھی ہے ۔افضل بٹ کے خلاف جڑواں شہروں کے صحافتی لیڈروں کی جدو جہد دیکھی ۔سب کو ناکام ہوتے دیکھا ہے ۔پریس کلب کے باہر ایک مسلسل احتجاجی دھرنے کے بعد صدارت کے عہدہ پر افضل بٹ کے امیدوار کو شکست کھاتے اور اگلے سال پھر سے کامیاب ہوتے دیکھا ہے ۔
اس سال انہونی ہوئی ہے ۔صدارت کے ساتھ جنرل سیکرٹری کی سیٹ بھی افضل بٹ کے ہاتھوں سے نکل گئی ہے ۔
میڈیا ٹاؤن کے الیکشن میں انہونی کی ابتدا اس طرح ہوئی ایک نوادر امیدوار اور نوادر پارٹی نے افضل بٹ کے گروپ کو بہت ٹف ٹائم دیا تھا۔ووٹوں کی گنتی کے دوران متعدد بار ایسا لگا میڈیا ٹاؤن کے انتظامات سے افضل بٹ کے ساتھی باہر نکل جائیں گے لیکن حتمی نتایج اور گنتی میں مخالف گروپ ساحل پر آکر ڈوب گیا ۔
اس بات میں کوئی دو آرا نہیں پریس کلب کے ووٹر صرف صحافی ہونے چاہیں اور بس ۔
جن لوگوں نے کبھی قلم نہیں چلایا وہ صحافی نہیں ہیں ۔جنہوں نے ساری زندگی قلم چلایا وہ صحافی ہیں ۔کئی اخبارات ختم ہوئے۔بے شمار صحافی میڈیا ہاؤسز سے نکالے جانے کے بعد عملی صحافت چھوڑ گئے لیکن پریس کلب کے ممبر ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں افضل بٹ کی پریس کلب کے حالیہ الیکشن میں شکست کی ایک ہی وجہ تھی اپنے بنائے ووٹرز میں سے بڑی تعداد کا ووٹنگ کے دن پریس کلب میں نہ آنا ۔
جو لوگ حالات کے جبر کی وجہ سے فیلڈ چھوڑ گئے ان کا معاملہ الگ ہے وہ صحافی ہیں مرتے دم تک صحافی ہی رہیں گے ۔
جو لوگ الیکشن میں کامیابی کیلئے صحافی بنائے گئے وہ صحافی کبھی تھے ہی نہیں کبھی ہونگے بھی نہیں ۔
قلم کے جتنے بھی مزدور اس وقت موجود ہیں سب کو اس معاملہ میں پریس کلب کی نئی انتظامیہ کے ساتھ کھڑا ہونا ہو گا بائیو میٹرک ہو پریس کلب کے ممبر ہی صرف صحافی ہوں ۔
آپسی جھگڑے اور تنازعے تو آپس میں حل کر لئے جائیں گے لیکن یہ سب اس وقت ہو گا جب پریس کلب میں صرف صحافی ہونگے ووٹرز نہیں۔
واپس کریں