اظہر سید
دنیا بدل گئی ہے ۔اب یہ کبھی پہلے ایسی نہیں رہے گی ۔امریکہ کو سپر پاور کہتے رہیں ۔اسرائیل کو ناقابل شکست سمجھتے رہیں ۔کہنے سمجھنے سے کچھ نہیں ہوتا ۔حقائق چیخ رہے ہیں دنیا بدل رہی ہے ۔ آج جو بادشاہ بنے پھرتے ہیں کل ڈبل روٹی کیلئے قطاریں لگا کر بیٹھے ہونگے ۔
روس نے سونے کے محفوظ زخائر کی برآمد پر پابندی لگا دی ہے ۔ترکی نے پندرہ ٹن سونا مارکیٹ کیا چین نے اٹھا لیا ۔
چین نے اپنے امریکی بانڈ بھنائے امریکیوں کو ادائیگیوں کیلئے محفوظ زخائر میں سے سونا بیچنا پڑا چینیوں نے اٹھا لیا ۔
موجودہ کیپٹلزم کے زوال کو نئی ابھرنے والی قوتیں وقت کے دیوار پر لکھا ہوا دیکھ چکی ہیں ۔انہیں پتہ ہے ڈالر ٹکہ بنا دنیا بھر میں خوفناک افراتفری پھیل جائے گی ۔مالیاتی زلزلے سے خود کو محفوظ رکھنے کیلئے متبادل مالیاتی نظام کے بنکر وہ پہلے ہی بنا چکے ہیں۔
بھارت بھلے چابلوس چوہے کی طرح اسرائیلی کتوں کے پاؤں چاٹتا نظر آرہا ہے لیکن برکس کے متبادل نظام میں وہ پہلے ہی شامل ہو چکا ہے ۔
چین، روس ،ترکی ،برازیل سب برکس میں شامل ہیں ۔جاپانی بظاہر امریکی ڈالر کا دم بھرتے نظر آتے ہیں لیکن تیاریاں انکی بھی مکمل ہیں ۔
پیشگی تیاریاں کرنے والے سونے کے محفوظ زخائر بڑھا رہے ہیں کہ ڈالر گرنے سے مقامی کرنسی کے پیچھے درکار سونا موجود ہو ۔
ایران پر بھلے قبضہ کر لیں ۔توانائی کے زخائر بھلے قابو کر لیں تیر کمان سے نکل چکا ہے ۔یہ کبھی واپس نہیں آئے گا ۔امریکی معیشت نادہندہ ہو چکی ہے اسے کوئی نہیں بچا پائے گا ۔یہ ازل سے ہوتا آیا ہے ۔یہ ابد تک جاری رہے گا ۔ہر عروج کو ایک دن زوال آتا ہے اور یہ وقت زوال ہے ۔
عقل کے اندھے امریکہ اور یورپ کی عظمت کے نغمے کورس میں گاتے رہیں ہو وہی رہا ہے جو نظر آرہا ہے ۔
ایران جنگ کے نتایج کیا نکلیں گے کوئی پیشگوئی ممکن نہیں لیکن یہ سامنے دیوار پر لکھا ہے موجودہ کیپٹلزم کا ڈھانچہ گرنے کے قریب ہے ۔تین ماہ یا چھ ماہ شائد سال اور لگ جائے ۔
حالات کے جبر سے جو خلا پیدا ہو رہا ہے اسی خلا میں متبادل مالیاتی نظام بھی تشکیل پا رہا ہے ۔سونا اسی لئے مالیاتی تحفظ کی ضمانت بن رہا ہے ۔
جو بے بس ہو رہے ہیں وہ سونے کے زخائر بیچ کر بچنے کی کوشش میں ہیں جو سیانے ہیں وہ سونا خرید رہے ہیں ۔
واپس کریں