اظہر سید
امریکہ کو عظیم سمجھنے والے سمجھتے رہیں لیکن حقیقت یہی ہے 38 کھرب ڈالر کی مقروض سپر پاور کی ناک کٹ کر ہاتھوں میں آچکی ہے ۔ وینزویلا اور ایران پر چڑھائی سے پہلے اپنی پھٹی ہوئی کان دنیا کی نگاہوں سے بچانے کیلئے درآمدات پر بھاری ٹیکس ہی عائد نہیں کئے اپنے ان گننت ادارے بھی بند کر دئے ۔یو ایس ایڈ کے دنیا بھر میں آپریشن ہی بند نہیں کئے دنیا کے تمام ممالک کو دی جانے والی امداد بھی بند کر دی ۔
اس وقت صرف دو ملک امریکہ سے امداد لے رہے ہیں ایک اسرائیل اور دوسرا افغانستان ۔ناک اس بری طرح پھٹ چکی ہے قرضوں کی ادائیگی اور وسائل میں اضافہ کیلئے کبھی غزہ میں تعمیراتی منصوبے شروع کرنے اور کبھی گرین لینڈ پر قبضے کے منصوبے بناتے ہیں ۔کبھی کینیڈا کے وسیع رقبہ پر قبضہ کرنے اور وسائل بڑھانا کا سوچتے ہیں کبھی کیوبا پر قبضہ کرنے کی تڑیاں لگاتے نظر آتے ہیں ۔
سچ صرف اتنا ہے بے پناہ قرضوں سے سپر پاور کی ناک پھٹ کر ہاتھ میں آگئی ہے ۔ایک طرف چین کی دیو ہیکل صنعتی مشین کو درکار تیل کی فراہمی روکنے کیلئے وینزویلا کے صدر کو اغواء کرتے ہیں اور کبھی ایران کے سپریم لیڈر کو مارتے ہیں۔
سپر پاور کی حقیقت دنیا بھر کی ریاستوں پر کھل چکی ہے ۔ہمیشہ کی پالتو مغربی جمہوریتیں امریکی بالادستی کو قصہ پارینہ سمجھ کر چین سے دوستی کی پینگیں بڑھانے لگی ہیں ۔ ہمیشہ کی غلام عرب ریاستیں امریکی دباؤ کے بعد امریکی منت ترلوں پر بھی توجہ نہیں دے رہیں ایران پر جوابی حملے نہیں کر رہیں ۔
ایران کے سارے میزائل لانچر تباہ کر دیں ۔شہروں میں تباہی مسلط کر دیں ۔کامیابی پھر بھی نہیں ملنے والی ۔زمینی افواج بہت بڑے اور وسیع ایران میں بھیجنی پڑیں گی ۔ایٹمی ہتھیار استعمال کرنا پڑیں گے ۔اسکی قیمت ہو گی جو زوال بتدریج سپر پاور پر آرہا ہے اسکی رفتار سپرسانک میزائل کی طرح تیز ہو جائے گی ۔
دنیا اب کبھی پہلے جیسی نہیں رہے گی ۔ایران جنگ کا آغاز سپر پاور کے زوال کی نوید ہو گا ۔
واپس کریں