اظہر سید
لاہور میں کاروبار کرنے والی صفحہ خٹک نے اپنے ریسٹورنٹ کیلئے پختون کاریگروں کی بات کی سوشل میڈیا پر گویا طوفان آگیا ۔پنجاب کا سب سے بڑا وصف غیر متعصب ہونا ہے ۔صفحہ خٹک پر تنقید پنجاب کے اس وصف کے خلاف ہے ۔جو پٹھان پنجاب میں پلا بڑا ہو ،پنجاب کے تعلیمی اداروں سے پڑھا ہر وہ پنجابی بن جاتا ہے ۔لاکھوں پختون پنجاب میں پنجابیوں سے ہی کاروبار کرتے ہیں ۔روزانہ اربوں روپیہ کا لین دین کرتے ہیں ۔صفحہ خٹک کے ریسٹورنٹ میں بھی پنجابی اکثریت ہی آتی ہے ۔
اس لڑکی نے اگر پختون کاریگر رکھنے کی بات کی ہے تو کوئی غلط بات نہیں کی کاروبار کے سٹاف کا فیصلہ مالک نے کرنا ہوتا ہے کسی اور نے نہیں ۔ہر کاروباری اپنے کاروبار کی ترقی کیلئے ہر فیصلہ کرنے میں آزاد ہے ۔پختون لڑکی اگر پختون کاریگروں کے ساتھ کام کرنے میں سہولت محسوس کرتی ہے تو یہ اس کا حق ہے ۔لاکھوں پختون بھی تو ہر روز پنجابیوں کے ساتھ ہی کاروبار کرتے ہیں خود بھی کماتے ہیں پنجابیوں کو بھی کمانے کا موقع دیتے ہیں ۔
خلیجی ممالک میں پنجابی بھکاریوں کی ویڈیو بنانے والے پختون پاکستانیت کا اظہار کرتے ہیں ۔ویڈیو بنانے کے دوران انکی گفتگو کا مرکزی نکتہ یہی ہوتا ہے ملک کو بدنام مت کرو ۔
اسلام آباد میں کلثوم انٹرنیشنل ہسپتال ہے ۔اس ہسپتال کا 95 فیصد سٹاف پختونوں پر مشتمل ہے ۔یہ ہسپتال جنوبی ایشیاء کا دل کے امراض کے حوالہ سے پہلے تین ہسپتالوں میں شامل ہے ۔بہترین میڈیکل ٹیکنیشن ،شاندار پروفیشنل ڈاکٹر سب کے سب پختون ہیں ۔اگر نااہل میڈیکل عملہ ہو تو تنقید کی جا سکتی ہے لیکن اگر یہ ہسپتال دنیا میں پاکستان کی عزت اور وقار کا سبب ہے تو پھر تنقید تعصب اور ملک دشمنی ہے ۔
صفحہ خٹک کے ریسٹورنٹ میں اگر سروس بہتر نہیں یا کھانے کا معیار بہتر نہیں تو خود ہی بند ہو جائے گا ۔قومیت اور تعصب کی بنا پر ایک پختون لڑکی کے ریسٹورنٹ کو ناکام کرنا بہت افسوسناک ہے ۔
یہ پختون لڑکی اب پختون نہیں پنجابی بن چکی ہے ۔اس نے جو بات کی وہ غیر معمولی یا نفرت پھیلانے کی بات نہیں بلکہ ایک کاروباری بات ہے اور بس ۔تعصب اور نفرت کا اظہار صفحہ خٹک پر تنقید کرنے کر رہے ہیں۔
واپس کریں