اظہر سید
آرمی چیف دو تین مرتبہ مثال دے چکے ہیں سوویت یونین بڑی فوجی طاقت کے باوجود معیشت کے ہاتھوں ٹوٹ گیا ۔ملک کی خارجہ اور داخلہ پالیسوں کی مالک فوج کے سربراہ کو جب اس خوفناک حقیقت کا پتہ ہے کہ ریاستوں کی جان معیشت میں ہے فوجی طاقت میں نہیں تو پھر مسلہ حل کیوں نہیں ہو پا رہا اور مسائل بڑھتے ہی کیوں جا رہے ہیں ۔
سادہ سی بات تو یہ ہے پاکستان ایٹمی طاقت ہے اور جدید ترین میزائل ٹیکنالوجی کا حامل بھی ہے ۔یعنی پاکستان پر جنگ مسلط کر کے کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی ۔اس ملک کو صرف معاشی تباہی سے ختم کیا جاسکتا ہے ۔ملکی سلامتی کا تقاضا صرف یہ نہیں کہ نوسر باز کو مسلط کرنے کے غلط فیصلہ سے رجوع کر لیا جائے اور اپوزیشن جماعتوں کو غیر جانبداری کے کپڑے پہن کر حکومت دے دی جائے ۔
ملک سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ تمام تر توجہ معیشت پر دی جائے اور ایک طاقتور مستحکم حکومت کیلئے تمام تر درکار قربانیاں دی جائیں ۔غیر ضروری طور پر فعال عدلیہ جو سو موٹو کے ہتھیاروں سے مسلح ہو اور لاکھوں جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے زریعے ملک میں سیاسی افراتفری پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی سیاسی جماعت کی موجودگی میں صرف وقت گزارا جا سکتا ہے معیشت مستحکم نہیں ہو سکتی اور نہ دیوالیہ ہوئی ریاست کو بچایا جا سکتا ہے ۔
حقیقت یہ ہے پاکستان دیوالیہ ہو چکا ہے ۔برامدات اور ترسیلات زر کم ہیں جبکہ درآمدات اور ادائیگیوں کا توازن زیادہ ہے ۔اندرونی طور پر بھی محصولات کم ہیں اور قرضوں کی ادائیگی ،دفاع اور حکومتی اخراجات زیادہ ہیں ۔صرف اور صرف خسارہ باقی ہے جو بڑھتا ہی جائے گا ۔تمام اندرونی اور بیرونی آمدن زمہ داریوں کی ادائیگی پر استمال کر دیں تو ملک کس طرح چلائیں گے ؟
مسلہ حل ہو سکتا ہے لیکن اس کیلئے خلوص ،ملک سے محبت ،کارپوریٹ مفادات کی قربانی اور سیاسی استحکام درکار ہے ۔جو اپوزیشں اس وقت حکومت میں ہے وہ عوام کی موثر نمائندگی کرتی ہے ۔چار پانچ سال کے دوران معیشت کو دوبارہ پٹری پر چڑھایا جا سکتا ہے لیکن اس کیلئے درکار اقدامات کہیں نظر نہیں آرہے ۔
جب ایٹمی صلاحیت موجود ہے اور میزائل ٹیکنالوجی بھی ہے تو پھر دفاعی اخراجات کو منجمند کرنا ضروری ہے کہ پاکستان پر جنگ مسلط کرنا ممکن نہیں۔
سیاسی بے یقینی کا خاتمہ اور عدالتی فعالیت پر روک لگانا بھی ضروری ہے ۔
بلوچستان اور قبائلی علاقہ جات میں فیصلوں کی ملکیت بھی سول حکومت کے سپرد کرنا ہو گی ۔
خارجہ اور داخلہ پالیسیوں کی ملکیت بھی چھوڑنا ضروری ہے تاکہ منتخب حکومت بھارت،ایران،افغانستان اور دیگر ممالک کے ساتھ آزادانہ فیصلے کر سکے ۔
جب دنیا کو طاقتور سول حکومت نظر آئے گی تو ہی وہ پاکستان پر توجہ دیں گے ۔
ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار اسی وقت یہاں سرمایہ کاری کریں گے جب انہیں یقین ہو گا کہ کوئی عدالت یا اسٹیبلشمنٹ حکومت کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی ۔
ریکو ڈیک ،سی پیک ، اور کارکے کے سرمایہ کاروں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا کوئی پاگل ہی یہاں سرمایہ کاری کرے گا ۔
وقت تیزی کے ساتھ ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسل رہا ہے ۔نوسر بازوں سے جان چھڑانے میں بہت تاخیر کر دی اب خوفناک نتایج سامنے ہیں ۔ اب بھی ہوش کے ناخن نہ لئے تو پھر اس ملک کو معیشت کے ہاتھوں ٹوٹنے سے روکنا ممکن نہیں ہو گا۔
واپس کریں