اللہ داد صدیقی
یومِ یکجہتیٔ کشمیر ،۵ فروری وہ دن ہے
جب ایک قوم اپنی خاموش رگوں میں
کشمیر کو لہو بن کر دوڑتا محسوس کرتی ہے
یہ محض ایک ہندسہ نہیں
ایک زندہ ضمیر ہے
جو نقشوں کے کاغذ پر نہیں
دلوں کے نہاں خانوں میں دھڑکتا ہے
کشمیر کوئی زمینی ٹکڑا نہیں
وہ ایک ادھورا وعدہ ہے
جو اقوامِ عالم کی میز پر
فائل بن کر نہیں، ایک رستا ہوا زخم بن کر رکھا ہے
وہ وادیاں۔۔۔
جہاں برف بھی لہو کی تپش سے پگھلتی ہے
جہاں بچے لوریوں میں نہیں
بوٹوں کی چاپ کے حصار میں سوتے ہیں
جہاں ماؤں کے ہاتھوں میں کھلونوں کی جگہ
قبروں کی مٹی ہے
یہ کہانیاں نہیں
تاریخ کے وہ زندہ صفحے ہیں
جہاں ہر سطر ایک چیخ ہے
اور ہر چیخ۔۔۔ آزادی کا استعارہ!
۵ اگست کے بعد
کشمیر اب نقشہ نہیں، ایک کھلی جیل ہے
جہاں لفظوں پر پہرے ہیں
آوازوں پر تالے ہیں
اور شناخت۔۔۔ سپاہیوں کے سنگینوں تلے روندی جاتی ہے
وہاں آبادیوں کا جغرافیہ بدلا جا رہا ہے
زبان دبائی اور آنکھوں سے سچ چھینا جا رہا ہے
مگر یاد رکھو!
زمین کے ٹکڑے تو چھینے جا سکتے ہیں
قوموں کی روح کو زنجیر نہیں پہنائی جا سکتی
اے اقوامِ متحدہ!
تیری قراردادیں اب کاغذ کا پیراہن نہیں
زندہ ضمیر مانگتی ہیں
ہمیں "تشویش" کے مرہم نہیں
انصاف کی جرات درکار ہے
پاکستان پکارتا ہے:
یہ محض مؤقف نہیں، ایک ابدی رشتہ ہے
یہ سفارت نہیں، شہ رگ کا درد ہے
یہ سرحد نہیں، دل کی لکیر ہے!
ہم اپنی نسلوں کے حافظے میں یہ نقش کریں گے:
کہ کشمیر دہشت نہیں، ایک مقدس تحریک ہے
بغاوت نہیں، ایک چھینا ہوا حق ہے
شور نہیں، انسانی وقار کی گونج ہے
ہم عہد کرتے ہیں:
کشمیری آواز، ہماری اپنی صدا ہے
ان کا دکھ ہماری رگوں کا تلاطم ہے
ان کی آزادی ہماری دعا کا اسمِ اعظم ہے
اے دنیا کے انصاف فروشو!
سن لو!
تاریخ کی عدالت میں خاموشی بھی ایک جرم ہے
اور ظلم کی عمر کبھی دائمی نہیں ہوتی
ہم شہدا کے لہو کو سلام لکھتے ہیں
ماؤں کے آنسوؤں کو پرچم کرتے ہیں
بچوں کی امید کو اپنا مستقبل مانتے ہیں
اور ہمیں یقین ہے۔۔۔
وہ دن آئے گا جب کشمیر کی فضاؤں میں
بارود نہیں، غزل گونجے گی
خوف نہیں، آزادی سانس لے گی
کشمیر آزاد ہوگا!
یہ نعرہ نہیں، تاریخ کی اگلی ناگزیر سطر ہے
واپس کریں