ناصر بٹ
علامہ محمد اقبال پر تنقید کرنا ہر شخص کا حق ہے، لیکن مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب چند لوگ اقبال کے صرف دو چار مشہور اشعار، چند وائرل اقتباسات یا سوشل میڈیا پوسٹس دیکھ کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ انہوں نے اقبال کو مکمل طور پر جان بھی لیا ہے اور ان پر حتمی فیصلہ بھی سنا دیا ہے۔
یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص سمندر کے کنارے کھڑے ہو کر صرف ایک لہر دیکھے اور دعویٰ کر دے کہ اس نے پورے سمندر کی گہرائی ناپ لی ہے۔
اقبال کوئی ایک رخ رکھنے والے شاعر نہیں تھے۔ ان کی فکر ایک وسیع اور پیچیدہ فکری دنیا ہے جس میں فلسفہ، مذہب، سیاست، تہذیب، روحانیت، خودی، اجتہاد، مغربی فکر، مسلم زوال، نوجوانوں کی نفسیات اور انسان کے باطنی ارتقا جیسے بے شمار موضوعات شامل ہیں۔ انہوں نے اردو اور فارسی میں تقریباً گیارہ بڑی شعری کتابیں لکھیں جن میں چار اردو اور سات فارسی میں ہیں۔ ان کی شاعری کا مجموعی حجم ہزاروں صفحات پر مشتمل ہے جبکہ ان پر لکھی جانے والی کتابوں، مقالات اور تحقیقی کاموں کی تعداد ہزاروں میں پہنچ چکی ہے اور صرف اقبالیات ہی ایک مستقل اکیڈمک فیلڈ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
یہ معمولی بات نہیں کہ ایک شاعر کی تشریح پر پانچ ہزار سے دس ہزار تک کتابیں لکھی جا چکی ہوں، مختلف زبانوں میں تحقیق ہو رہی ہو، جامعات میں اس پر ایم فل اور پی ایچ ڈی ہو رہی ہو اور ایک صدی گزرنے کے باوجود اس پر بحث ختم نہ ہوئی ہو تو ایسے شخص پر بات کرنے سے پہلے کم از کم اسکا زیادہ نہیں تو پچاس فیصد مطالعہ تو ہونا چاہیے مگر یہاں یہ عالم ہے کہ کوئی بھی اٹھتا ہے اور کہہ دیتا ہے کہ "میں کہہ رہا ہوں کہ اقبال بھی کوئی شاعر تھا"
اب آپ ڈھونڈتے رہیں کہ یہ "میں" صاحب خود ہیں کون۔
ایک اور مزے کی بات یہ ہے کہ جب ایسے کسی لال بجھکڑ کو جواب دیا جائے تو پھر یہ بات سنائی دیتی ہے کہ کیا اقبال پر تنقید کرنا جرم ہے، کیا اقبال کوئی فرشتہ تھا کہ اس پر تنقید نہیں ہو سکتی۔
تو بھائی صاحب اقبال کی شاعری سے دو چار اشعار اٹھا کر انہیں اپنی مرضی کے مطابق رنگ دے لینا اور اس بنا پر یہ کہنا کہ اقبال بھی کوئی شاعر تھا یہ کونسی تنقید ہے؟
بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ لوگ اقبال اور “اقبال کے استعمال” میں فرق نہیں کرتے۔
اگر کوئی سیاسی جماعت، ریاست، مذہبی گروہ، مقرر یا دانشور اپنے مفادات کے لیے اقبال کے چند اشعار استعمال کرتا ہے تو اس میں اقبال کا قصور نہیں۔ اقبال نے خود کو نہ “شاعرِ مشرق” کہا، نہ “مفکرِ پاکستان” کا لقب خود اختیار کیا، نہ کبھی لوگوں پر مسلط ہونے کی کوشش کی۔ وہ نہ کوئی حکمران تھے، نہ جرنیل، نہ ریاستی ادارہ۔ وہ ایک شاعر اور مفکر تھے جنہوں نے اپنے عہد کے سوالات پر غور کیا اور اپنی فکر کو شاعری اور خطبات کے ذریعے پیش کر دیا۔
اب ان کے انتقال کے بعد اگر مختلف طبقے اپنی اپنی ضرورت، نظریے یا سیاست کے مطابق ان کے افکار میں سے کچھ حصے اٹھا کر استعمال کرتے ہیں تو اس کی مکمل ذمہ داری اقبال پر ڈال دینا علمی دیانت نہیں۔
یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے کوئی مذہب کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرے اور سارا الزام مذہب پر ڈال دیا جائے،
یا کوئی فلسفی کے خیالات کو سیاق و سباق سے الگ کر کے استعمال کرے اور پھر فلسفی کو ہی موردِ الزام ٹھہرا دیا جائے۔
اقبال کی فکر اتنی وسیع ہے کہ ہر طبقہ اس میں سے اپنے مطلب کی چیز نکال لیتا ہے۔ کوئی ان میں انقلابی دیکھتا ہے، کوئی صوفی، کوئی قوم پرست، کوئی عالمِ اسلام کا مفکر، کوئی جدیدیت کا ناقد اور کوئی روحانی شاعر۔ لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اقبال صرف وہی تھے جو کوئی ایک گروہ انہیں بنا کر پیش کرتا ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں مطالعے کی روایت کمزور ہو چکی ہے۔ لوگ مکمل کتابیں پڑھنے کے بجائے اقتباسات سے رائے بناتے ہیں۔ اقبال جیسے شاعر کو سمجھنے کے لیے صرف شاعری نہیں بلکہ تاریخ، برصغیر کے حالات، نوآبادیاتی نظام، مغربی فلسفہ، اسلامی فکر، فارسی ادب اور اس دور کی عالمی سیاست کو بھی سمجھنا پڑتا ہے۔ اقبال کو پڑھنا آسان ہے مگر سمجھنا آسان نہیں۔
اختلاف ضرور کیجیے، تنقید بھی کیجیے، لیکن کم از کم اتنی علمی دیانت ضرور ہونی چاہیے کہ ایک ایسے شخص کو جس پر ایک صدی سے دنیا بھر میں تحقیق ہو رہی ہے، چند سوشل میڈیا پوسٹس یا آدھے ادھورے اشعار کی بنیاد پر نمٹانے کی کوشش نہ کی جائے۔
اقبال کا مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ ان سے اختلاف کرتے ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ اکثر لوگ انہیں پڑھے بغیر ان پر فیصلہ سنا دیتے ہیں۔
واپس کریں