ناصر بٹ
کانسٹیٹیوشن ایونیو ون کا تمام منصوبہ ہی مجھے کرپشن،اختیار کے تجاوز ،بڑے لوگوں کی ملی بھگت کا شاہکار لگتا ہے اسکے پلاٹ کی الاٹمنٹ سے لے کر ہوٹل سے اپارٹمنٹس بننے کا سفر اور اس میں عدلیہ سے لے کر صاحبان کامل اختیار اور سیاسی لوگوں کی سہولت کاری کا مطالعہ اس ملک کی ایلیٹ کلاس کی لوٹ مار کو سمجھنے میں کافی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
اس پر آج کل بہت کچھ لکھا جا رہا ہے اور بھانت بھانت کی بولیاں بولی جا رہی ہیں مگر یہ میرا موضوع نہیں۔
ویسے تو میرا موضوع یہ بھی نہیں کہ کون کون اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو چکا ہے مگر ایک چیز جس نے مجھے کافی حیران کیا وہ اس میں اچانک خواجہ سعد رفیق کا نام آنا تھا۔
اسلام آباد کے ایک یوٹیوبر نے سب سے پہلے انکا نام لیا مگر کوئی متعین الزام عائد نہیں کیا نہ ہی کوئی ثبوت نامی چیز پیش کی۔
اسکے بعد پھر سوشل میڈیا پر ایک مہم سی چلا دی گئی۔۔خواجہ سعد رفیق نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈلرز سے اسکی تردید بھی کی اور بتایا کہ انکا اس کانسٹیٹیوشن ایونیو ون میں کوئی اپارٹمنٹ نہیں مگر پھر ان سے منسوب یہ فیک بیان چلا دیا گیا "کہ میرے علم میں نہیں تھا یہ میرے سوشل میڈیا مینجر نے آٹھ ارب کی ادائیگیاں کی ہیں۔"
جس سعد رفیق کو میں جانتا ہوں وہ سعد رفیق سیاست میں ایک ایک قدم پھونک پھونک پھونک کے رکھنے والا آدمی ہے یہ کام تو کوئی عقل سے فارغ آدمی بھی نہ کرے جو ایک جہاندیدہ سیاستدان سعد رفیق سے منسوب کر دیا گیا۔
آپ موجودہ دور کا چلن دیکھیے کہ کسی نے ایسا دعویٰ کرنے والوں سے یہ نہیں پوچھا کہ ایسا سعد رفیق نے کب اور کہاں پر کہا؟
مگر میں دعوے سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی سعد رفیق کا میڈیا مینجر والا بیان دکھا دے تو میں ہر سزا بھگتنے کے لیے تیار ہوں۔
خواجہ صاحب اپنا کیس خود لڑ سکتے ہیں مجھے انکی وکالت کی ضرورت نہیں مگر میں تین کامن سینس باتوں کی وجہ سے خواجہ سعد رفیق کو اس معاملے میں درست سمجھتا ہوں۔
پہلی بات یہ کہ اس کانسٹیٹیوشن ایونیو ون کے پلاٹ کی نیلامی 2005 میں ہوئی تھی جب مشرف کا دور تھا اور سعد رفیق اس دور میں مشرف کے زیر عتاب تھا بلکہ پوری ن لیگ زیر عتاب تھی مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اس وقت سعد رفیق کس طرح اس پلاٹ کی خریداری میں کسی قسم کی فیور حاصل کر سکتا تھا جیسا کہ ان پر الزام عائد کیا گیا۔
دوسری چیز یہ ہے کہ کانسٹیٹیوشن ایونیو ون کے اپارٹمنٹس کی فروخت 2021 میں ہوئی تھی جب عمران خان کی حکومت تھی اور سعد رفیق جیل میں تھا۔
اب کوئی بتا دے کہ جیل میں بیٹھا بندہ اس وقت کانسٹیٹیوشن ایونیو ون میں اربوں روپے کے اپارٹمنس خرید رہا ہو گا؟
تیسری بات یہ کہ کانسٹیٹیوشن ایونیو ون کے معاملات سپریم کورٹ میں پیش ہوئے جہاں ثاقب نثار کی شکل میں سعد رفیق کا جانی دشمن بیٹھا تھا جو "کہاں ہے وہ لوہے کا چنا" کہہ کر سعد رفیق سے اپنا بغض واضح کر چکا تھا اور مزے کی بات دیکھیں کہ اس کے ہاتھوں سعد رفیق کو کلین چٹ ملی تھی۔
سعد رفیق کا نام اس معاملے میں لانے کی وجہ پیراگون گروپ کی اس تین رکنی کنسورشیم میں شمولیت تھی جس نے ابتدائی طور پر 2005 میں اسکا پلاٹ نیلامی میں خریدا تھا بعد میں پیراگون نے اپنے شئیرز بیچ دیے اور پراجیکٹ سے الگ ہو گئے سعد رفیق کا ویسے سپریم کورٹ میں پیراگون سے بھی براہ راست کوئی تعلق ثابت نہ ہوا سوائے اسکے کہ وہ پیراگون سوسائیٹی میں ایک کنٹریکٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔
آخری حربہ سعد رفیق سے یہ بیان منسوب کرنا تھا یعنی اربوں روپے کی ڈیل سعد رفیق کا میڈیا مینجر کرتا تھا یہ تو خاصا مضحکہ خیز ہے کیونکہ میں خواجہ سعد رفیق کے میڈیا مینجر سے کئی دفعہ ملا بھی ہوں اور آپ سب کے لیے انکی تصویر بھی نیچے لگا رہا ہوں اب ان صاحب کو دیکھ کے آپ خود بتائیے کہ یہ بندہ آپ کو اربوں کی ڈیلیں کرنے قابل لگتا ہے؟
ن لیگ میڈیا کی انتہائی گھٹیا کارکردگی کی وجہ سے کانسٹیٹیوشن ایونیو ون جس کی منظوریاں اور بندربانٹ عمران نیازی دور میں ہوئیں،جسے ریگولرائز کرنے والے ثاقب نثار اور گلزارالاحسن لیگ کے جانی دشمن ،جس کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے سب سے اوپر والے فلور پر عمران نیازی کا فلیٹ موجود جو چودہ کروڑ کا فلیٹ عمران نیازی نے سوا کروڑ میں حاصل کیا اور جس عمارت میں پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے کم از کم چودہ لوگوں کے اپارٹمنٹ ہیں اس کانسٹی ٹیوشن ایونیو ون کو اسکے باوجود کہ اس میں ن لیگ کے کسی اہم سیاستدان کا اپارٹمنٹ موجود نہیں،اسکے پلاٹ کی نیلامی سے لے کر باقی کسی لاقانونیت سے ن لیگ کا تعلق نہیں بلکہ اسکے دور حکومت میں کانسٹی ٹیوشن ایونیو ون میں کی کئی ساری بدعنوانیاں منظر عام پر لا کر کاروائی کی گئی ہےاسے ن لیگ کے سر منڈھ دیا گیا ہے اور نہ لیگ کو کچھ سوجھ نہیں رہی کہ اس سے نمٹنا کیسے ہے۔
الزامات کے دور میں سعد رفیق کا سچ کس نے سننا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ صرف نے لیگ کو اس معاملے میں گھسیٹ کر لعن طعن کرنے کے لیے سعد رفیق کا نام استعمال کیا گیا ہے ورنہ اسکے تمام تر ڈانڈے عمران نیازی اسکے پارٹی لیڈران اور سہولت کاروں سے ملتے ہیں۔
واپس کریں