ناصر بٹ
میں نے پی ایس ایل پر صرف ایک پوسٹ کی تھی اور ارادہ یہی رہا کہ اس تماشہ کرکٹ پر کچھ نہیں لکھنا جس کا واحد کام انٹرنیشنل کرکٹ کے کچھ پٹے ہوئے مہروں کو دوبارہ ٹاکی شاکی مار کے ،چمکا کے شرطیہ نئے پرنٹوں میں پیش کرنا رہ گیا ہے مگر یہ پوسٹ کرکٹ پر نہیں۔
پنجاب کیا ہے اور پنجاب کے لوگ کیا ہیں یہ دیکھنا اور سمجھنا ہے تو کل کا میچ اور اس میچ میں پنجاب کے لوگوں کی سپورٹ کو دیکھ لیجیے۔
کل اسلام آباد (پنجاب) اور حیدرآباد(سندھ) کا میچ تھا۔
حیدرآباد کی ٹیم کی اس پی ایس ایل میں پرفارمنس ناقابل یقین حیرت پر مبنی رہی۔
ایک نئی فرنچائز جس نے ایک آسٹریلین ٹیسٹ کرکٹر کو اپنا کپتان بنایا جسے کبھی خود آسٹریلیا نے ٹی ٹونٹی کھیلنے کے قابل نہ سمجھا تھا پھر اس کی ٹیم ایسے بنائی گئی کہ یوں لگتا تھا کہ اس ٹیم کا بیلنس ہی بالکل آؤٹ ہے اور ابتدائی چار میچز میں یہ بات سچ بھی محسوس ہوتی نظر آئی جب حیدرآباد کی ٹیم پہلے چاروں میچ ہار گئی مگر اس ٹیم میں ایک بات نظر آئی کہ یہ ٹیم ایک ٹیم کی طرح اپنی شکستوں پر غمزدہ ہوتی تھی ایک دوسرے کو بیک اپ کرتی تھی لڑنے کا جذبہ رکھتی تھی کچھ کر دکھانے کی سوچ موجود تھی اور اسی سوچ نے آج اسے فائنل تک پہنچایا ہے۔
اسلام آباد پنجاب کی ٹیم ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پنجابی اسلام آباد کی ٹیم کو سپورٹ کرتے مگر پنجاب نے کبھی یہ تعصب ذہن میں رکھا ہی نہیں۔
کل کے میچ میں بھی یہ بات کھل کے سامنے آئی جب گراؤنڈ میں لاہوریوں کو حیدرآباد کی شرٹس پہن کر گراؤنڈ میں بیٹھے دیکھا اور زیادہ تر سپورٹ حیدرآباد کے ساتھ نظر ائی۔۔۔۔۔
کیا کبھی آپ کو یہ صورتحال کسی اور صوبے میں دکھائی دی؟
پنجاب اور خصوصاً لاہور کو اسی لیے ذندہ دلوں کا شہر کہا جاتا ہے کہ یہ نہ صرف دل والے ہیں بلکہ دل والوں کے ساتھ بھی ہوتے ہیں اور اس میں جغرافیائی حدودوقیود کچھ معنی نہیں رکھتے۔
پاکستان کے لیے یہی سوچ درکار ہے یہ صوبائی باؤنڈریز صرف انتظامی حد بندیاں ہیں یہ قومیتیں پاکستان کے ساتھ ہیں پاکستان ہو گا تو ہماری پنجابی سندھی پشتون بلوچ شناخت بھی برقرار رہے گی ورنہ انڈیا میں کون سندھی کون پنجابی سب کو اقلیت سمجھ کر سلوک کیا جاتا ہے۔
لاہوریو تم نے دل جیت لیا۔
پنجاب کی اس سوچ پر ہمیشہ فخر رہا ہے اور فخر رہے گا۔
جیے پنجاب
سدا جیے
جیے پاکستان
سدا جیے۔
واپس کریں