ناصر بٹ
بلیک میلرز کی ایک منفرد قسم پچھلی کچھ دہائیوں میں سامنے آئی ہے یہ لوگ سرعام میڈیا پر بیٹھ کے بلیک میلنگ کرتے ہیں اور لوگ اس پر واہ واہ کرتے ہیں۔یہ کون لوگ ہیں آئیے آپ کو بتاتے ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جو بہتی گنگا میں ہاتھ دھو چکے ہوتے ہیں یا دھونا چاہتے ہیں سسٹم میں موجود تمام اچھائیوں اورخرابیوں کو اچھی طرح سے جانتے ہیں اور اپنے مفاد اور طریقہ واردات کے تحت انہیں استعمال کرتے ہیں یہ ذھن میں رکھیے کہ ہر کوئی ان جیسی بلیک میلنگ نہیں کر سکتا اسکے لیے بہرحال متعلقہ شعبے میں مہارت اور معلومات ہونا لازم ہے۔
ان میں ہر طبقہ ہائے فکر سے جڑے لوگ شامل ہیں آئیے کچھ کے بارے آپ کو بتاتے ہیں۔
پہلی قسم معاشی بلیک میلر کی ہے یہ وہ بلیک میلرز ہیں جنہیں آپ روزانہ میڈیا پر بیٹھ کے دو طرح کی باتیں کرتے اور سنتے دیکھتے ہیں ایک وہ ہیں جو بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں انہیں آپ ہمیشہ معیشت میں موجود اچھے کاموں کی تعریف کرتے سنیں گے اور دوسرے وہ ہیں جو جو بہتی گنگا میں کسی نہ کسی طرح پہلے ہاتھ دھو چکے ہیں، اب محروم ہیں اور مستقبل میں پھر مستفیذ ہونا چاہتے ہیں یہ آپ کو ڈھونڈ ڈھونڈ کے معیشت کی کمزوریوں پر بات کرتے نظر آئیں گے سخت تنقید کریں گے خیالی ،جھوٹ اور جائز ہر طرح کے اعدادوشمار کے ڈھیر لگا دیں گے مگر مقصد صرف یہ ہو گا کہ تنقید کی اس بلیک میلنگ سے گھبرا کر حکومت انہیں کوئی "چوندہ چوندہ" عہدہ دے دے اور جب ایسا ہو جاتا ہے تو یہ لوگ 180 ڈگری سمرسالٹ مار کے ہر کام کی تعریف میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
آپ ان سب کو اچھی طرح سے جانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ اپنے اپنے ادوارِ لذت کشیدگی میں کیا کیا گل کھلاتے رہے ہیں اور آج انہیں غریب کا درد کس قدر اور کس وسیع پیمانے پر لاحق ہوا ہے۔
سپورٹس میں دیکھیں تو بھی آپ کو علم ہو جائے گا کہ بورڈ میں عہدے رکھنے اور نہ رکھنے والے کس طرح تنقید اور تعریف کرتے پائے جاتے ہیں انکی نشستوں کی ترتیب مختلف ادوار میں مختلف ہوتی ہے وگرنہ یہ سب آزمائے جا چکے ہیں اور انہوں نے اپنی صلاحیتوں سے جس طرح پاکستان کی سپورٹس کو اس حال میں پہنچایا ہے وہ آپکے سامنے ہے۔
میڈیا بارے یہ ہے کہ اس میں بھی آپکو کوئی خلوص نیت سے کسی کی حمایت یا مخالفت کرتا ڈھونڈے سے ملنا مشکل ہے ہر کسی کا اپنا اپنا ایجنڈہ ہے جس کی غریب کے نام پر جگالی ہو رہی ہے اصل مقصد وہی ماہرانہ بلیک میلنگ ہے۔
اچھا اب سب سے زیادہ مزے کی بات یہ ہے کہ ان وائیٹ کالر بلیک میلرز کی زیادہ تر تعداد اپنی مقصد میں کامیاب بھی رہتی ہے کیونکہ سسٹم میں فالٹ تو بہرحال موجود ہیں جو حکومتوں کی نااھلی کی وجہ سے موجود رہتے ہیں اور تمام حکومتیں انہیں چھپانا چاہتی ہیں اور جب یہ بلیک میلرز انہیں اچھالتے ہیں تو حکومتیں گھبرا کر انکی زبان بند کروانے کے لیے انہیں وسائل کی بہتی گنگا پلیٹ میں رکھ کر پیش بھی کر دیتے ہیں جس کے بعد انکے منہ سے حکومت اور انکی پالیسیوں بارے پھول جھڑنے لگتے ہیں اور یہ سلسلہ مدتوں سے جاری ہے۔
مگر کوئی جو یہ سمجھتا ہے ہے کہ ان سب کا مقصد عوام یا خاص طور پر غریب عوام کی بہتری ہے تو وہ شدید غلطی پر ہے عوام بھی وہی رہتے ہیں اور عوام کی حالت بھی ویسی رہتی ہے مگر نشستوں کی ترتیب بدلنے سے کچھ کو عوام بالکل یاد نہیں رہتے اور کچھ کو عوام کا درد شدت سے اٹھنا شروع ہو جاتا ہے۔
جائیے اور ڈھونڈیے ان سب شعبدہ باز بلیک میلرز کو۔
واپس کریں