دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
خط غربت سے نیچے افراد بارے لمبے چوڑے سروے مجھے ایک مذاق سے زیادہ نہیں لگتے
ناصر بٹ
ناصر بٹ
پاکستان میں خطِ غربت سے نیچے افراد کی تعداد کے بارے میں جو اعدادوشمار پیش کیے جاتے ہیں، ان پر اندھا اعتماد کرنا دانشمندانہ نہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک کی معیشت کا ایک بڑا حصہ غیر دستاویزی یعنی نان ڈاکومنٹڈ ہے اور جب معیشت کا نمایاں حصہ باضابطہ ریکارڈ میں موجود ہی نہ ہو تو پھر آمدنی کی درست پیمائش کیسے ممکن ہے ورلڈ بینک اور دیگر عالمی ادارے عموماً غربت کی پیمائش کے لیے گھریلو آمدنی اور اخراجات کے سرویز پر انحصار کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان جیسے ملک میں، جہاں کروڑوں افراد نقد کاروبار، دیہاڑی مزدوری، زرعی پیداوار، خاندانی معاونت، بیرونِ ملک ترسیلات اور غیر رسمی لین دین سے وابستہ ہوں، وہاں آمدنی کا مکمل ڈیٹا حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔
مزید یہ کہ پاکستان میں ٹیکس فائلرز کی تعداد کل آبادی کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ باقی تمام لوگ خطِ غربت سے نیچے ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ رسمی ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں۔ غیر رسمی معیشت کا حجم بعض اندازوں کے مطابق رسمی معیشت سے بڑا ہے، جس کے باعث حقیقی آمدنی اور سرکاری ریکارڈ میں واضح فرق رہتا ہے۔
اس کے برعکس انڈیا اور بنگلہ دیش میں معیشت نسبتاً زیادہ دستاویزی ہے، ٹیکس بیس وسیع ہے اور ڈیجیٹل لین دین کا دائرہ تیزی سے بڑھا ہے۔ چنانچہ وہاں آمدنی اور غربت کے اعدادوشمار نسبتاً زیادہ شفاف سمجھے جا سکتے ہیں۔ پاکستان میں جب بلیک اکانومی نمایاں ہو تو غربت کی پیمائش لازماً ادھوری بنیادوں پر ہوگی۔
ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ غربت کی بین الاقوامی تعریف عموماً فی کس روزانہ آمدنی (مثلاً 2.15 ڈالر یومیہ) پر مبنی ہوتی ہے۔ لیکن پاکستان میں دیہی علاقوں میں اپنی زمین، مویشی، مشترکہ خاندانی نظام اور اشیائے ضروریہ تک براہِ راست رسائی جیسے عوامل افراد کے معیارِ زندگی کو متاثر کرتے ہیں، جو محض نقد آمدنی سے ظاہر نہیں ہوتے۔ اسی طرح شہری علاقوں میں بھی غیر رسمی کاروبار (دکانیں، رکشہ، ہنر مندی، آن لائن فری لانسنگ وغیرہ) سے حاصل آمدنی مکمل طور پر ریکارڈ نہیں ہوتی۔
مزید برآں، پاکستان میں سماجی ڈھانچہ بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام، زکوٰۃ، صدقات، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات اور غیر رسمی مالی معاونت غربت کے اثرات کو کم کرتی ہیں، مگر یہ سب سرکاری ڈیٹا میں مکمل طور پر شامل نہیں ہو پاتا۔
لہٰذا جب تک معیشت کو بڑے پیمانے پر دستاویزی نہ بنایا جائے
ٹیکس بیس وسیع نہ ہو
ڈیجیٹل لین دین عام نہ ہو
اور آمدنی کی پیمائش کے جدید و شفاف طریقے رائج نہ ہوں
تب تک پاکستان میں خطِ غربت سے نیچے افراد کی درست تعداد کا تعین محض تخمینہ ہی رہے گا، حقیقت ہر گز نہیں مانا جا سکتا۔
اس لیے یہ کہنا کہ پاکستان میں غربت کی شرح لازماً بھارت اور بنگلہ دیش سے زیادہ ہے، اعدادوشمار کی محدودیت کو نظرانداز کرنا ہوگا۔ جب پیمائش کا آلہ ہی مکمل نہ ہو تو نتیجہ بھی مکمل یقین کے ساتھ قبول نہیں کیا جا سکتا۔
سادہ لفظوں میں آپ کو بتا دوں کہ پاکستان میں کوئی بھی اپنی آمدنی درست بتانے کو تیار نہیں اور نوے فیصد لوگوں کی آمدنی جانچنے کا کوئی فول پروف انتظام ہی موجود نہیں یہ سارا نظام لوگوں کے اپنے بتائے ہوئے اعدادوشمار ہیں جس میں پلازے والا کہتا ہے کہ کاروبار ہے ہی نہیں اور آپ کے سامنے آدھے گھنٹے میں چار ہزار کی چیزیں بیچنے والا چھوٹا دکاندار کہتا ہے کہ سارے دن میں ہزار بارہ سو کما لیتا ہوں۔
آپ سے گھر آ کے ایک گھنٹے میں دو تین ہزار لینے والا پلمبر الیکٹریشن اپنی ماہانہ آمدنی کبھی دس ہزار سے زیادہ نہیں بتاتا اور پانچ سات روپے لاگت والا سموسہ پچاس روپے میں بیچنے والا کہتا ہے کہ دن کا ہزار دو ہزار کماتا ہوں۔
ایسے حالات میں خط غربت سے نیچے افراد بارے لمبے چوڑے سروے مجھے ایک مذاق سے زیادہ نہیں لگتے۔
واپس کریں