دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اب حکومت سنجیدگی سے غور کر رہی ہے کہ۔۔۔
ناصر بٹ
ناصر بٹ
بخدا میں نے پاکستانی قوم سے غیرذمہ دارانہ قوم کم کم دیکھی ہے۔یہ سنگین سے سنگین ہنگامی حالات میں بھی اپنی روٹین اور عادات پر قائم رہنا چاہتے ہیں جب تک کہ انہیں ڈنڈا مار کے نہ منوایا جائے۔
ایک عزیز کے انتقال پر واہ کینٹ جانا ہوا اور دیکھا کہ اس قوم نے پٹرول کی گرانی اور حکومت کی طرف سے شدید خسارہ اٹھاتے ہوئے عوام کو فی الحال گرانی سے بچانے کے لیے جو سبسڈی فراہم کی ہے اسکا زرا خیال نہیں کیا کہ ہم بھی ان حکومتی کوششوں میں اپنا حصہ ڈالیں۔
میں نے دیکھا کہ آج بھی سڑکوں پر ٹریفک بالکل ویسی ہی ہے جیسے پٹرول ڈیزل کے بحران سے پہلے تھے۔
بڑی بڑی گاڑیاں آج بھی سڑکوں پر رواں دواں ہیں اور ان میں ایک یا دو بندے بیٹھ کے جا رہے ہوتے ہیں۔
غیر ضروری سفر میں کسی قسم کی کمی نہیں ہوئی۔
حکومت نے پی ایس ایل میں عوام پر گراؤنڈ جانے کی پابندی لگائی مگر پارکوں اور دوسرے تفریحی مقامات پر بالکل ویسا ہی رش ہے جیسا جنگ سے پہلے تھا۔
دور مت جائیے آپ خود بتا دیں کہ خود آپ نے اپنی روٹین میں زرہ بھر بھی تبدیلی کی ہے؟
یہ کس وجہ سے ہو رہا ہے؟
وجہ یہ ہے کہ حکومت نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ عوام تک منتقل نہیں کیا اور ہر ھفتے پچاس ساٹھ ارب کا نقصان برداشت کر رہی ہے۔
کل بھی وزیراعظم نے کہا ہے کہ اس ھفتے بھی 56 ارب کا خسارہ برداشت کر کے قیمتوں کو برقرار رکھا ہے ہمیں بحثیت قوم یہ ذمہ داری اٹھانی ہے صرف حکومت کچھ نہیں کر پائے گی۔
آپ جانتے ہیں کہ میں لگی لپٹی رکھے بغیر آپکو سچ بتاتا ہوں اور سچ یہ ہے کہ اگر قوم کا یہ رویہ جاری رہا تو حکومت کو واضح میسج جائے گا کہ قیمت بڑھائے بغیر یہ قوم اپنا رویہ تبدیل نہیں کریگی اور پھر سب روتے پھریں گے۔
آپ حیران ہونگے کہ اس سال مارچ کے مہینے میں پچھلے سال مارچ سے بھی زیادہ تیل خرچ کیا گیا ہے جس سے قوم کی غیر ذمہ دارانہ عادات کا پتہ چلتا ہے۔
چند دنوں یا مہینوں کے لیے گھر میں چار چار گاڑیاں رکھنے والے چھوٹی اور فیول ایفیشنٹ گاڑیوں میں سفر کر لیں گے تو مر نہیں جائیں گے،کچھ دنوں کے لیے غیر ضروری سفر اور دور دراز علاقوں میں جا کے ملنا ملانا کم کر دیں گے تو کوئی قیامت نہیں آ جائے گی۔
مگر نہیں صاحب جو کچھ کرے حکومت ہی کرے ہم کیوں اپنی کسی عادت میں تبدیلی لائیں۔
اب حکومت سنجیدگی سے غور کر رہی ہے کہ موٹر سائیکل اور رکشا کو کیو آر کوڈ کے ذریعے سبسڈی دی جائے اور باقیوں کے لیے تیل کی قیمتیں بڑھا دی جائیں اگر ایسا ہوا تو اس میں قصور خود میرا آپکا ہو گا جنہوں نے حالات کی سنگینی کا اپنے معمولات کے بالکل بھی آڑے نہیں آنے دیا۔
واپس کریں