ناصر بٹ
یہ آپ کی اپنی چوائس ہوتی ہے کہ آپ سہانے خوابوں میں ذندہ رہنا چاہتے ہیں یا تلخ حقائق کو تسلیم کرنا چاہتے ہیں اور انکا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو تیار کرنا چاہتے ہیں۔
ہر دو صورتوں کے اپنے اپنے نتائج ہیں سہانے خواب بہرحال خواب ہوتے ہیں جو کسی کو سہانی مگر لاحاصل امیدوں کے علاؤہ کچھ نہیں دیتے مگر جو لوگ تلخ حقائق کو تسلیم کرتے ہیں وہ خود کو انکا مقابلہ کرنے کے قابل بناتے ہیں اور آگے بڑھنے کی تیاری بھی کر لیتے ہیں۔
پاکستان میں عوام کی بڑی تعداد سہانے خوابوں میں زندگی گزارتی ہے اور ان خوابوں کو کھاد پانی دینے والی باتوں کی اسیر ہو چکی ہے۔
یہ کہیں پر پڑھ لیں کہ چین پورے پاکستان کو تین سو روپے فی گھر ان لمیٹڈ بجلی دینے کو تیار ہے تو یہ اس
پر ایمان کی حد تک یقین کر لیتے ہیں۔
انہیں کوئی بتا دے کہ پاکستان میں اتنا تیل موجود ہے کہ پاکستان کا ہر شخص سعودی شیخ بن سکتا ہے مگر حکومت نااھل ہے نکالتی نہیں تو یہ دھڑا دھڑ حکومت کو گالیاں نکالتے ہیں۔
دور کیوں جاتے ہیں ابھی کچھ عرصہ پہلے انہیں ایک مچھندر سمجھایا کرتا تھا کہ پاکستان کے جو 200 ارب ڈالر بیرونی ممالک کے بینکوں میں پڑے ہیں عمران خان انہیں واپس لائے گی ،سو ارب ڈالر قرض دینے والوں کے منہ پہ مارے گی اور سو ارب ڈالر پاکستانیوں پر لگائے گی تو آپ نے دیکھا کہ کس طرح قوم کی ایک بڑی اکثریت نے نہ صرف اسے سچ سمجھا بلکہ ایسے چمن چ۔۔۔۔۔کو اپنا مسیحا بھی بنا لیا۔
سوشل میڈیا پر بھی دونوں اقسام کے لکھاری ملتے ہیں یہ آپ پر ہے کہ آپ کن کو پڑھنا دیکھنا چاہتے ہیں کسی پر کوئی پابندی نہیں۔۔اپ چاہیں تو افیون فروشوں کو پڑھیں اور چاہیں تو تلخ گولیاں کھلانے والوں کو پڑھ لیں ۔۔۔۔زبردستی کوئی نہیں۔
یہ ہر گز کچھ مشکل نہیں بلکہ بہت آسان اور فایدہ مند طریقہ ہے کہ آپ کو وہی بات سنائی بتائی جائے جس سے آپ کو ڈوپامین ملتا رہے آپ کے سہانے خوابوں کو کھاد پانی دیا جائے اس سے تعریف بھی ملتی ہے اور اب تو ڈالرز بھی ملتے ہیں فالورز بے تحاشا بڑھ جاتے ہیں اور لوگ بھی آپکو عوام دوست سمجھتے ہیں۔
میں نے ساری زندگی سیاست کے چلن دیکھتے گزاری ہے اور حکومتوں پر تنقید کرتے اور سنتے ہوئے۔۔۔۔۔ اور آخر میں یہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ جس کا جتنا قصور ہے اسی قدر اسے قصور وار بھی قرار دینا حقیقت پسندی ہے صرف حکومتوں کو قصوروار قرار دینے سے اگر مسلے حل ہو سکتے تو شاید ہمارے مسلے بھی حل ہو چکے ہوتے۔۔
خود کو تبدیل کیے بغیر ہم اگر حکومتوں کو اپنے تمام مسائل کی وجہ قرار دینا جاری رکھیں گے تو نتیجہ پچھلے 79 سال سے مختلف ہرگز نہیں ہو سکتا مگر کون ہے جو ایک لمحے کے لیے بھی رک کے یہ سوچنا شروع کرے کہ 79 سال میں اچھی بری ہر قسم کی حکومتیں آتی جاتی رہیں کیا وجہ ہے کہ کوئی بھی حکومت ہماری نیک پاک عوام میں شرف قبولیت حاصل نہ کر پائی اور سبھی کو گالیاں ہی پڑتی رہیں۔
دنیا بھر میں عوام اب صرف اشرافیہ کے ایجنڈوں پر عمل کرنے والے مہرے بن چکے ہیں جنہیں بڑے مافیاز کسطرح اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں انہیں خبر ہی نہیں وہ اپنی دانست میں ج ہ اد کر رہے ہوتے ہیں مگر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس ج ہ اد کا تمام تر فایدہ پھر اشرافیہ کو ہی ملتا ہے اور انقلابیوں کی حالت مزید خراب ہو جاتی ہے۔
حد یہ ہے کہ ہم اس مسلسل مشق سے تھکتے بھی نہیں کبھی کسی اور ڈھنگ سے سوچنے کی کوشش بھی نہیں کرتے بلکہ اگر ہم جیسا کوئی انہیں تصویر کا دوسرا رخ دکھانے کی کوشش کرے تو اسے حکومتوں اور اشرافیہ کا ایجنٹ سمجھتے ہیں اسے لفافہ خور،مفاد پرست وغیرہ کہتے ہیں۔
جہاں تک میرا تعلق ہے میں نہایت سنجیدگی سے یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستانی عوام کی ایک بہت بڑی ذھنی سرجری کی ضرورت ہے انہیں حقائق کی دنیا میں واپس لانے کے لیے لمبا عرصہ درکار ہے جس میں انہیں یہ سمجھایا جا سکے کہ دنیا تبدیل ہو چکی اس میں اب خود ترحمی کی گنجائش نہیں،یکساں سہولیات صرف باتوں سے نہیں مل سکتیں نہ ہی آسمان سے دولت برستی ہے جو سب یکساں طور پر لوٹ سکتے ہیں۔
یہ دنیا اب survival to fittest کے اصول پر چلتی ہے جو اس پر پورا نہیں اترتا وہ جتنا دل چاہے شور مچایا رہے کوئی اسکی طرف مڑ کے نہیں دیکھتا۔
آسائیش اور آرام دہ زندگی اب درست سمت میں محنت کے مرہون منت ہے آپ اس اصول کو نظرانداز کرتے ہیں تو آپ کو اس کے نتائج بھی بھگتنا ہوں گے آپ کی نااھلیوں کے نتائج کسی اور نے نہیں بھگتنے۔
مہنگائی قوت خرید میں کمی کا نام ہے قوت خرید بڑھانا آپ پر منحصر ہے اور آپ کے فیصلوں پر کہ آپ اینٹیں اٹھا کر ہزار بارہ سو کا مزدور بننا چاہتے ہیں یا چند لائینیں کھینچ کے نقشے بناتے ہیں اور پانچ دس لاکھ روپیہ کما لیتے ہیں۔
میں سوشل میڈیا پر اپنی رائے لکھتا ہوں نہ یہ میرا ذریعہ معاش ہے نہ مجھے اس سے فرق پڑتا ہے کہ کوئی میری رائے بارے کیا رائے رکھتا ہے آپ مقبول بیانیے کی گردان پڑھنا چاہتے ہیں تو ہر طرف یہی گردان جاری ہے ہر کسی کو مل سکتی ہے آپ اگر ہم جیسوں کی بقول چند لوگوں کے "عوام دشمن" تحریروں کو بھی پڑھنا برداشت کرتے ہیں تو بھی یہ آپ کی صوابدید ہے ہے ہر کوئی اپنی پسند کے مطابق چل سکتا ہے زبردستی کچھ نہیں۔
واپس کریں