دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
لوگوں کےسوال اور میرے جواب
ناصر بٹ
ناصر بٹ
مجھ سے اکثر یہ سوال ہوتا ہے کہ کیا آج جمہوریت اور قانون کے خلاف جو کچھ کیا جا رہا ہے اور پی ٹی آئی کا مینڈیٹ چوری کر کے اس سے جو غیر جمہوری سلوک کیا جا رہا ہے وہ درست ہے؟
انعام رانا کی محفل میں بھی مجھ سے یہ سوال ہوا تھا جس کا مختصر جواب میں نے یہ دیا تھا کہ یہ بالکل درست ہے تفصیل میں جانا ممکن نہ تھا کیونکہ حاضرین اسے میرا ن لیگی تعصب سمجھ رہے تھے مگر میں اس بارے مضبوط دلائل رکھتا ہوں جو ظاہر ہے مخالفانہ نکتہ نظر رکھنے والوں کو پسند نہیں آتے۔
جمہوریت سے محبت اپنی جگہ اہم اور قابلِ فخر ہے، لیکن کچھ حقیقتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں نظرانداز کرنا خود جمہوری روح کے ساتھ ناانصافی کے مترادف بن جاتا ہے۔ سیاست میں “کلٹ” کبھی بھی اچانک وجود میں نہیں آتا بلکہ اسے ایک خاص حکمتِ عملی کے تحت تشکیل دیا جاتا ہے۔ یہ صرف کسی رہنما کی مقبولیت نہیں ہوتی بلکہ ایک ایسا بیانیہ ہوتا ہے جس میں لیڈر کو تنقید سے بالاتر کر دیا جاتا ہے، اختلاف کو غداری یا دشمنی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جذبات کو عقل پر فوقیت دی جاتی ہے اور عوام کو شخصیات کے ساتھ اس حد تک جوڑ دیا جاتا ہے کہ ادارے، اصول اور جمہوری قدریں پس منظر میں چلی جاتی ہیں اور یہی کچھ عمران نیازی اور پی ٹی آئی کی تشکیل کے وقت پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے کیا۔
جب ایک کلٹ اسی غیر جمہوری انداز میں کھڑا کیا جاتا ہے یعنی بیانیہ سازی، میڈیا اثر، جذباتی اپیل اور بعض اوقات طاقت کے غیر متوازن استعمال کے ذریعے تو یہ توقع رکھنا کہ اسے صرف روایتی جمہوری طریقوں جیسے انتخابات، پارلیمانی مباحث یا قانونی کارروائی کے ذریعے ختم کر دیا جائے گا، حقیقت سے زیادہ خواہش محسوس ہوتی ہے۔ تاریخ اور عالمی مثالیں بتاتی ہیں کہ ایسے کلٹس میں حقائق کی اہمیت کم ہو جاتی ہے اور یقین یا عقیدت اصل قوت بن جاتی ہے۔ لیڈر کی غلطیوں کو ماننے کے بجائے ان کا جواز پیدا کیا جاتا ہے اور ہر تنقید کو ایک سازش کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً جب انہیں جمہوری انداز میں چیلنج کیا جاتا ہے تو وہ اکثر مزید مضبوط ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کا پورا بیانیہ ہی اس احساس پر قائم ہوتا ہے کہ “ہم سب کے خلاف ہیں”۔
اسی لیے ایسے رجحانات کا مقابلہ محض سیاسی یا انتخابی سطح پر ممکن نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے بیانیے کا توڑ بیانیے سے، جذباتی اپیل کا جواب عوامی شعور سے اور شخصیت پرستی کے مقابلے میں ادارہ جاتی سوچ کو فروغ دینا پڑتا ہے۔ یہ ایک طویل، تدریجی اور صبر آزما عمل ہے جس میں فوری نتائج کی توقع رکھنا مناسب نہیں۔ یہاں یہ فرق بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ ہر مقبول رہنما کلٹ نہیں ہوتا، لیکن جب مقبولیت اندھی عقیدت میں بدل جائے اور سوال اٹھانا جرم سمجھا جانے لگے تو وہاں جمہوریت کی بنیادیں کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
اصل چیلنج یہی ہے کہ کلٹ کو اسی سطح پر اور اسی شدت کے ساتھ چیلنج کیا جائے جس انداز میں وہ تشکیل پایا تھا، مگر فرق یہ ہو کہ مقصد کسی ایک فرد یا گروہ کا اقتدار نہیں بلکہ جمہوری توازن، اداروں کی مضبوطی اور معاشرے میں تنقیدی شعور کا فروغ ہو۔ جمہوریت محض ووٹ ڈالنے کا عمل نہیں بلکہ سوچنے، سوال کرنے اور اختلاف کو برداشت کرنے کی صلاحیت کا نام ہے۔ جب یہ عناصر کمزور پڑ جائیں تو نظام بظاہر جمہوری ہونے کے باوجود اپنی اصل روح کھو دیتا ہے۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں ہوتا کہ کون جیتا اور کون ہارا، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم بطور قوم حقیقت میں باشعور ہو رہے ہیں یا محض کسی بیانیے کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
واپس کریں