ناصر بٹ
آج کل ایک محترم دانشور اقبال پر نت نئے طریقوں سے تنقید کر رہے ہیں یہ انکا حق ہے کہ وہ کسی کے افکار و نظریات کو تنقید کا نشانہ بنائیں ہم بھی اقبال کے سیاسی نظریات سے مکمل طور پر متفق نہیں رہے مگر صاحب دلیل کا کوئی معیار تو ہونا چاہیے۔
اقبال کے دو روپ رہے ایک انکا بطور شاعر روپ تھا اور دوسرا بطور سیاسی مفکر کے۔مجھے انکے سیاسی نظریات سے اختلاف ضرور ہو سکتا ہے مگر جب میں اقبال کو بطور شاعر دیکھتا ہوں تو انکا مرتبہ مجھے بہت بلند ملتا ہے۔
یہاں تنقید کرنے والے مگر اقبال کی ذاتی زندگی اور انکے سیاسی موقف کو لے کر انکے ادبی قد کاٹھ پر جب تنقید فرماتے ہیں تو وہ تنقید زیادہ تر مضحکہ خیز انداز اختیار کر جاتی ہے۔
مثلا یہ جملہ دیکھیے
"نہیں معلوم یہ جملہ کس کا ہے کہ کلامِ اقبال ایک جنرل سٹور کی طرح ہے جس میں ہر طرح کا شعر پایا جاتا ہے۔ ہوش سنبھالنے کے بعد غور کیا تو جملے کی سچائی کی اہمیت کا احساس ہوا۔"
یہ جملہ ہمارے ایک محترم دانشور نے اپنی پوسٹ میں کوٹ کیا ہے۔
خدا جانے یہ کس نے کہا تھا مگر جس نے بھی کہا تھا میں اسے کنویں کا مینڈک ہی سمجتا ہوں یا کھونٹے سے بندھا کوئی بیل۔
اور اسکی وجہ یہ ہے کہ
اقبال پر سب سے سطحی اور احمقانہ تنقید یہ کی جاتی ہے کہ ان کے خیالات مختلف ادوار میں بدلتے رہے، جیسے یہ کوئی جرم ہو۔ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ یہی لوگ دنیا کے ہر بڑے مفکر، فلسفی اور شاعر کی فکری ارتقا کو دانشوری کہتے ہیں مگر اقبال کے معاملے میں اسے تضاد اور جرم بنا دیتے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کچھ نام نہاد دانشور “جمود” کو اصول پسندی اور “ارتقا” کو منافقت سمجھتے ہیں۔ اقبال اگر ایک ہی جگہ کھڑے رہتے، وقت کے بدلتے سوالات کے مطابق اپنی فکر کو آگے نہ بڑھاتے، نئی جہتیں دریافت نہ کرتے تو یہی لوگ انہیں فرسودہ اور بے جان شاعر قرار دیتے۔
اقبال کی عظمت ہی یہ ہے کہ وہ مسلسل سفر میں رہے۔ ان کی شاعری ایک زندہ شعور کی شاعری ہے، قبرستان کی نہیں۔
ابتدائی اقبال کو دیکھیں تو وہاں ہندوستانی قومیت، تہذیبی ہم آہنگی اور رومانوی انداز نمایاں ہے۔“سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا”کہنے والا اقبال اسی دور میں انسان اور وطن کے تعلق کو دیکھ رہا تھا۔ پھر وقت گزرا، تاریخ کو قریب سے دیکھا، یورپ کی قوم پرستی کے خون آشام نتائج دیکھے، مسلمانوں کی زبوں حالی کا تجزیہ کیا تو ان کی فکر نے نئی شکل اختیار کی۔ یہی زندہ ذہن کی علامت ہوتی ہے۔
پھر وہی اقبال کہتے ہیں:
“ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے”
یہ تضاد نہیں، فکری ارتقا ہے۔ پہلے مرحلے میں مشاہدہ تھا، دوسرے میں تجربہ اور گہرا تجزیہ شامل ہوگیا۔ ایک زندہ دماغ ہمیشہ سیکھتا ہے، بدلتا ہے، اپنی غلطیوں پر نظرثانی کرتا ہے۔ صرف مردہ ذہن کبھی نہیں بدلتے۔
پھر اقبال صرف شاعر نہیں رہے، ایک تہذیبی معالج بن گئے۔ انہوں نے غلام ذہن، مایوس انسان اور سوئی ہوئی امت کو جھنجھوڑ۔
“نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سےذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی”
آج بھی یہ شعر پاکستانی نوجوان سے لے کر گازہ اور ایران مزاحمت تک ہر جگہ زندہ کیوں ہے؟ کیونکہ اقبال کسی ایک زمانے کے شاعر نہیں تھے۔ ان کی شاعری انسان کے باطن، خودی، حریت، عمل اور بغاوت کی شاعری ہے۔
انہوں نے ملا کی جامد مذہبیت پر بھی یہ کہہ کر ضرب لگائی
“دینِ ملا فی سبیل اللہ فساد”
اور سرمایہ دارانہ نظام پر بھی یوں حملہ آور ہوئے کہ
“جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو”
یہی وجہ ہے کہ اقبال کو صرف مذہبی شاعر کہنا بھی جہالت ہے اور صرف سیاسی شاعر کہنا بھی۔ وہ تہذیب، فلسفہ، روحانیت، سیاست، خودی، عشق، عقل، تاریخ اور مستقبل۔۔۔سب کے شاعر ہیں۔
ان کے ہاں ارتقا اتنا واضح ہے کہ “بانگِ درا” کا اقبال “بالِ جبریل” اور “ضربِ کلیم” تک پہنچتے پہنچتے ایک مکمل تہذیبی مفکر بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال خود کہتے ہیں:
“اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے
کچھ اس میں تمسخر نہیں واللہ نہیں ہے”
یہ شعر دراصل ان کی فکری بے قراری کا اعتراف ہے۔ اقبال خود کو بھی ایک مسلسل دریافت کا عمل سمجھتے تھے، کوئی بند کتاب نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا انسان، معاشرہ اور تاریخ جامد رہتے ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر ایک بڑا شاعر جامد کیوں رہے؟ اقبال کی شاعری کی آفاقیت ہی یہ ہے کہ وہ ہر دور میں نئے معنی دیتی ہے۔ آج مصنوعی ذہانت، سرمایہ دارانہ استحصال، شناخت کے بحران اور فکری غلامی کے دور میں بھی اقبال اسی شدت سے ریلونٹ ہیں کیونکہ انہوں نے انسان کو “سوچنے”، “کھڑے ہونے” اور “اپنی ذات دریافت کرنے” کا درس دیا۔
“خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے”
یہ صرف شعر نہیں، پوری تہذیبی نفسیات کا علاج ہے۔
لہٰذا اقبال پر یہ اعتراض کہ ان کے خیالات بدلتے رہے یا انکے ہاں جنرل سٹور کی طرح ہر قسم کے شعر ملتے ہیں، دراصل اقبال کی نہیں بلکہ اعتراض کرنے والوں کی ذہنی محدودیت کا ثبوت ہے۔ زندہ فکر ہمیشہ ارتقا پذیر ہوتی ہے، صرف قبروں کے کتبے نہیں بدلتے۔
واپس کریں