ناصر بٹ
جس دن ایئر پنجاب کا آئیڈیا سامنے آیا، اسی دن میں نے اس پر تنقید کی تھی۔ وجہ سادہ ہے میں نے اپنی زندگی کے تیس برس پی آئی اے میں گزارے ہیں اور اپنی آنکھوں سے اس کی بربادی کی وجوہات دیکھی ہیں۔ ان وجوہات میں کچھ آپریشنل ضرور تھیں، مگر کئی ایسی تھیں جن کا تعلق ہمارے سماجی رویّوں اور سرکاری ڈھانچے سے تھا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ سرکاری ملکیت کو ہم اجتماعی ذمہ داری نہیں بلکہ “مالِ مفت” سمجھنے لگتے ہیں۔ سرکار کا مال صرف سرکار کو نہیں، عوام کو بھی مفت محسوس ہوتا ہے۔ ہم ہر سرکاری ادارے سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ کم خرچ میں زیادہ سے زیادہ سہولت دے، خسارہ نہ کرے، اور ساتھ ہی سماجی و سیاسی مطالبات بھی پورے کرے۔ لیکن یہی توقعات نجی کاروبار سے نہیں وابستہ کی جاتیں۔ یہی بنیادی تضاد سرکاری کاروبار کو مشکل ترین بنا دیتا ہے۔
پوری دنیا کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ جہاں معیشت کی بنیاد کیپیٹل ازم پر ہے، وہاں حکومتیں کاروبار کرنے کے بجائے ریگولیٹر کا کردار ادا کرتی ہیں۔ کیونکہ کاروبار کے بنیادی اصول مسابقت، منافع، لاگت کا نظم و ضبط، اور فوری احتساب سرکاری ڈھانچے میں سیاسی دباؤ اور سماجی توقعات کے بوجھ تلے کمزور پڑ جاتے ہیں۔
کل پنجاب حکومت کی جانب سے نئے طیارے کی خریداری پر میں نے واضح لکھا تھا کہ اگر واقعی حکومتی امور کی انجام دہی کے لیے طیارے کی ضرورت تھی، بجٹ اس کی اجازت دیتا تھا، اور اس سے کاروبارِ حکومت اور عوامی مسائل کے حل میں تیزی آ سکتی تھی، تو اسے کھلے عام تسلیم کیا جانا چاہیے۔ اسے چھپانے یا کسی اور عنوان سے پیش کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ شفافیت خود اعتمادی کی علامت ہوتی ہے، جبکہ ابہام شکوک کو جنم دیتا ہے۔
جہاں تک ایئر پنجاب کے لیے طیارہ خریدنے کا تعلق ہے تو میرے نزدیک مسئلہ اس سے بھی بنیادی ہے۔ میں خود ایئر پنجاب کے قیام کو ایک غلط فیصلہ سمجھتا ہوں۔ جب بنیاد ہی کمزور ہو تو اس پر عمارت کھڑی کرنا دانشمندی نہیں۔ ایک نئی سرکاری ایئر لائن شروع کرنا ایسے وقت میں جب قومی سطح پر ایوی ایشن سیکٹر کے مسائل سب کے سامنے ہیں، خطرے سے خالی نہیں۔
ایئر پنجاب کا پہلا “تحفہ” یہ ہے کہ آغاز سے پہلے ہی پنجاب حکومت تنقید کی زد میں آ چکی ہے۔ آگے چل کر خدشہ ہے کہ
ہر طیارے کی خریداری پر بحث و تنقید ہوگی
انتظامیہ اور بھرتیوں پر سوالات اٹھیں گے
روٹس کے تعین پر محرومیوں کے بیانیے سامنے آئیں گے اور آسان قیدی تخت لاہور دے کی ریں ریں شروع ہو جائے گی۔
جن شہروں میں پرواز نہ چلے وہاں سے آوازیں آئیں گی کہ ہمیں کیوں نظرانداز کیا گیا
یہ تمام عوامل کسی بھی سرکاری کاروباری منصوبے کو سیاسی اور سماجی دباؤ کا شکار بنا دیتے ہیں، اور اصل مقصد یعنی مؤثر سروس اور مالی استحکام پسِ منظر میں چلا جاتا ہے۔
ہم نہ حکومتی وزیر ہیں، نہ مشیر۔ گھر بیٹھے ایک عام لکھاری ہیں۔ ہمارا کام صرف نشاندہی کرنا ہے۔ کوئی مانے تو اس کی مرضی، نہ مانے تو اس کی مرضی ہم نہ پہلے کسی دربار میں حاضری دے کر عہدے پر فائز تھے، نہ اب کسی عہدے کی طلب میں تنقید کو ہتھیار بنانا چاہتے ہیں۔
(اگر کسی کو اپنی مماثلت نظر آئے تو وہ محض اتفاق ہوگا)
بارِ دیگر عرض ہے ایئر پنجاب ایک کمزور اور غیر ضروری فیصلہ معلوم ہوتا ہے۔ ایسا فیصلہ کرنے یا کروانے والوں کو ایوی ایشن انڈسٹری کی پیچیدگیوں کا مکمل ادراک نہیں۔ خدشہ ہے کہ اس سے حکومت کو فائدے کے بجائے سیاسی نقصان ہوگا اور اس کے اچھے اقدامات بھی پسِ پشت چلے جائیں گے۔
اب بھی وقت ہے کہ اس فیصلے پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کر لی جائے تو بہتر ہے۔
واپس کریں