ناصر بٹ
میری تحریروں پر کمنٹس میں اس طرح کے بہت سے کمنٹس آتے ہیں جن میں لوگ کہتے ہیں کہ حکومت ہمیں ٹیکس کے بدلے دیتی کیا ہے۔
پاکستان میں یہ جملہ دہرانا اب ایک فیشن بن چکا ہے کہ “حکومت ہم سے ٹیکس لے کر دیتی کیا ہے؟” حالانکہ اگر ذرا سنجیدگی سے اور ایمانداری کے ساتھ اس سوال کا جائزہ لیا جائے تو یہ شکایت زیادہ تر لاعلمی، جذباتیت یا یکطرفہ سوچ کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے حقیقت یہ ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح دنیا کے کئی ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے، یعنی جن ملکوں سے موازنہ کیا جاتا ہے وہاں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح چالیس سے پینتالیس فیصد اور پاکستان میں یہ شرح دس فیصد ہے اور ریاست محدود وسائل کے باوجود وہ کچھ کر رہی ہے جسے نظرانداز کرنا کھلی ناانصافی ہے۔
سب سے پہلے صحت کے شعبے کو ہی دیکھ لیں۔ پاکستان میں کروڑوں لوگ سرکاری ہسپتالوں سے مفت یا نہایت معمولی خرچ پر علاج کرواتے ہیں۔ کئی صوبوں میں ہیلتھ کارڈ جیسے پروگرامز کے ذریعے لاکھوں روپے کے آپریشن تک بغیر جیب سے پیسہ نکالے ہو رہے ہیں۔ یہی سہولت اگر آپ کسی ترقی یافتہ ملک، خاص طور پر امریکہ میں لینے جائیں تو بغیر مہنگی انشورنس کے آپ ہسپتال کے دروازے تک نہیں پہنچ سکتے۔ وہاں لوگ علاج کے بلوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں، جبکہ یہاں ایک عام آدمی بھی بڑے علاج تک رسائی حاصل کر لیتا ہے یہ کوئی معمولی بات نہیں۔
تعلیم کے میدان میں بھی یہی حال ہے۔ لاکھوں بچے سرکاری اسکولوں میں مفت پڑھ رہے ہیں، کالجز اور یونیورسٹیز میں انتہائی کم فیس پر اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ہاں، معیار کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں، مگر یہ کہنا کہ “کچھ نہیں ملتا” حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں یونیورسٹی کی تعلیم اتنی مہنگی ہے کہ طلبہ سالوں قرض اتارتے رہتے ہیں، جبکہ یہاں ایک متوسط گھرانے کا بچہ بھی سرکاری اداروں کے ذریعے ڈگری حاصل کر لیتا ہے۔
امن و امان کی صورتحال پر تنقید کرنا آسان ہے، مگر یہ حقیقت نظرانداز کر دی جاتی ہے کہ پاکستان جیسے حساس خطے میں سیکیورٹی برقرار رکھنا کوئی معمولی کام نہیں۔ پولیس، رینجرز اور دیگر ادارے دن رات کام کر رہے ہیں۔ یہ سب مفت نہیں ہوتا یہ سب ٹیکس کے پیسے سے چلتا ہے۔ اگر یہ نظام نہ ہو تو وہی لوگ سب سے پہلے چیخیں گے کہ ریاست کہاں ہے۔
انفراسٹرکچر کو دیکھ لیں۔ موٹرویز، سڑکیں، پل، ڈیمز، شہری منصوبے یہ سب آسمان سے نہیں گرے۔ اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں تاکہ معیشت چلتی رہے اور عوام کو سہولت ملے۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ سب ضرور بہتر ہے، مگر وہاں لوگ اس کے بدلے بھاری ٹیکس بھی دیتے ہیں۔ پاکستان میں کم ٹیکس دے کر بھی لوگ انہی سہولتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، مگر شکایت ختم نہیں ہوتی۔
سبسڈیز کا معاملہ تو اور بھی دلچسپ ہے۔ بجلی، گیس، کھاد، حتیٰ کہ بعض اوقات آٹے اور چینی تک پر سبسڈی دی جاتی ہے۔ یعنی حکومت براہ راست آپ کی جیب پر بوجھ کم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اگر یہ سبسڈیز ختم کر دی جائیں تو شاید عوام کو علم ہو گا کہ مہنگائی ہوتی کیا ہے۔
پھر سماجی تحفظ کے پروگرامز کو دیکھیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے لاکھوں غریب خاندانوں کو باقاعدہ مالی مدد دی جا رہی ہے۔ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں کہ ایک کمزور معیشت کے باوجود ریاست اپنے سب سے نچلے طبقے کو سہارا دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ویلفیئر ضرور ہے، مگر وہ ایک بہت بڑے اور وسیع ٹیکس نظام کے سہارے کھڑا ہے یہاں وسائل کم ہیں مگر کوشش پھر بھی جاری ہے۔
ٹرانسپورٹ میں میٹرو بس، اورنج لائن گرین بسیں اور دیگر منصوبے واضح مثال ہیں کہ حکومت عوام کو سستی سفری سہولت دینے کے لیے سبسڈی دے رہی ہے۔ اگر یہی سروسز مکمل طور پر نجی شعبے کے حوالے کر دی جائیں تو عام آدمی کے لیے ان کا استعمال خواب بن جائے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ حکومت کچھ دیتی نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم یا تو دیکھنا نہیں چاہتے یا صرف منفی پہلوؤں پر نظر رکھتے ہیں۔ تنقید ضرور کریں، مگر انصاف کے ساتھ کریں۔ یہ کہنا کہ “حکومت کچھ نہیں دیتی” ایک جذباتی نعرہ تو ہو سکتا ہے، حقیقت نہیں۔
سچ یہ ہے کہ پاکستان میں کم ٹیکس دے کر بھی لوگ کافی حد تک ریاستی سہولیات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ مسئلہ معیار، شفافیت اور تقسیم کا ہے وجود کا نہیں تنقید اس بات پر ہونی چاہیے کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیوں نہیں کیا جاتا ،جب تک ہم اس بنیادی فرق کو نہیں سمجھیں گے، تب تک یہی شکوے اور یہی نعرے چلتے رہیں گے، چاہے حقیقت کچھ بھی کیوں نہ ہو۔
واپس کریں