ناصر بٹ
جب میں یہ کہتا ہوں کہ یہاں شور صرف ان باتوں پر مچتا ہے جن باتوں سے اشرافیہ کے مفادات متاثر ہوتے ہیں اور اشرافیہ یہ واویلا خود غریب عوام کے ذریعے کرواتی ہے تو شاید کسی کو اسکی سمجھ ہی نہیں آتی۔
سیدھی بات ہے کہ آج کے دور میں بات بھی اسی کی سنی جاتی ہے جو ہر طرف مچائے گئے شور میں اپنی بات سنانے کے لیے بڑے بڑے لاؤڈ سپیکرز افورڈ کرتا ہے ٹرینڈز بنوا سکتا ہے اور اسے فالو کروا سکتا ہے۔
آج کے ڈیجیٹل گیجٹس دور میں چیزیں کس طرح وائرل کروائی جاتی ہیں اسکے پیچھے بھی پیسہ چلتا ہے جو اس سارے کھیل کو مینج کرتا ہے۔
بجلی کا گھمبیر مسلہ میرے نزدیک آئی پی پیز سے جڑا ہے جو کہ 1994 سے لے کر ہر دور حکومت میں کیے گئے۔
آئی پی پیز میرے نزدیک اس وقت کی ضرورت تھی، آج جب عوام کے پاس سولر کی شکل میں ایک سستا متبادل سامنے آ چکا ہے تو یہ کہنا بہت آسان ہے کہ آئی پی پیز سے ایسے معاہدے کیوں کیے گئے مگر جب ہر طرف لوڈ شیڈنگ کا راج تھا ملک کی تمام انڈسٹری بیٹھتی جا رہی تھی،عوام سولہ اٹھارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ سے بلبلا رہے تھے اس وقت بجلی کی دستیابی ہی عوام کا واحد مطالبہ تھا حکومت اپنے وسائل سے بجلی کی اس کمی کو پورا کرنے کے قابل نہ تھی اور پرائیویٹ سیکٹر اس میں سرمایہ کاری کو تیار نہ تھا کیونکہ حکومتوں پر اعتماد کا فقدان تھا جبکہ صورتحال یہ تھی کہ عوام بجلی کی وجہ سے حکومتیں الٹنے کو تیار ہو رہے تھے۔
ایسے میں جو معاہدے کیے گئے انکی سمجھ آتی ہے۔
آج مگر جب صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی سولر کی شکل میں ایک متبادل نے گیم چینج کر دی تو آج کچھ ایسی ہوشربا چیزیں ہو رہی ہیں جن کی طرف نہ عوام کی توجہ مرکوز ہونے دی جارہی ہے اور نہ عوام ہی ان چیزوں پر توجہ دے کر پریشر بنا رہے ہیں۔
آئی پی پیز 1994 سے لگائی جانا شروع ہوئیں تو ان سے معاہدوں کی مدت 20 سے لے کر 30 سال تھی مگر عوام نے کبھی اس بات پر توجہ نہیں دی کہ عوام کا خون چوسنے والی ان آئی پی پیز میں سے جن آئی پی پیز سے معاہدوں کی مدت پوری ہو گئی ان میں سے کتنے آئی پی پیز کو خداحافظ کہا گیا اور کتنے آئی پی پیز سے معاہدوں کی مدت بڑھائی گئی۔
یہ بظاہر عام سی بات دو تین دن پہلے جب میں نے اپنی ایک پوسٹ کا موضوع بنائی تو میں یہ دیکھ کے حیران رہ گیا کہ اس پوسٹ نے بے پناہ توجہ حاصل کی اور اسے لاکھوں لوگوں نے پڑھا اور یکدم اس موضوع پر زوروشور سے بات ہونا شروع ہو گئی۔
مجھے اصل حیرت اس بات پر ہوئی کہ کس طرح یہاں کا مالدار طبقہ آپس میں گٹھ جوڑ رکھتا ہے اور جہاں مفادات کی بات آتی ہے تو کوئی بھی اپنے سیٹھ بھائیوں کے مفادات کے خلاف بات نہیں کرتا۔
میں نے اس پوسٹ میں لکھا تھا کہ ن لیگ کے اراکین اسمبلی تو ممکن ہے اپنی حکومت کی وجہ سے پریشر میں ہوں مگر پی ٹی آئی جو کھوتے کی رہائی پر روزانہ شور مچاتی رہتی ہے وہ اس جینوئین موقعے کو کیش کیوں نہیں کرواتی؟
تو اصل بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی ہو یا کوئی اور سب میں سیٹھ موجود ہیں وہ کبھی بھی اپنے مفادات کے خلاف کسی چیز کو ٹرینڈ بننے ہی نہیں دیتے اور عوام کی حالت تو آپ کو معلوم ہے وہ اپنی اپنی سیاسی حمایت کے علاؤہ کچھ سوچنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔
آپ مہنگی بجلی، ان پر بھاری ٹیکس اور بھاری بلوں کا جتنا دل چاہے شور مچا لیں اسکا کوئی فایدہ نہ ہوا ہے نہ ہو گا کیونکہ آئی پی پیز کا کتا مسلسل کنویں میں پڑا ہے جب تک یہ کتا نہیں نکلے گا عوام کو ریلیف نہیں مل سکتا عوام کا صرف ایک سوال ہونا چاہیے کہ کن کن آئی پی پیز کے معاہدے کب ختم ہونگے اور جن کے ختم ہوئے تو یہ جاننے کے باوجود کہ ان معاہدوں نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا دوبارہ کیوں انکی مدت میں توسیع کی گئی باقی سب شور و غوغا کسی قسم کا فایدہ نہیں دے پائے گا۔
معاہدے اچھے تھے یا برے عوام نے جو بھگتنا تھا وہ بھگت چکی یا بھگت رہی ہے مگر اب ان معاہدوں میں توسیع کر کے کن کے مفادات کو جاری رکھنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے؟
اور آخری بات یہ کہ مجھے اس بات کا پورا یقین ہے کہ اب بھی لوگ اس پوسٹ پر اپنے اپنے سیاسی تعصبات کے مطابق اپنے سیاسی مخالفین کو رگڑنا شروع کر دیں گے کوئی پیپلز پارٹی کوئی ن لیگ کوئی مشرف اور کوئی پی ٹی آئی کو قصور وار قرار دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگائے گا تو کوئی ان کی معصومیت ثابت کرنے پر، مگر کوئی بھی اس سیٹھ مافیا پر اپنی توجہ مرکوز نہیں کریگا جو مسلسل اپنے گڑھ جوڑ سے عوام کی بوٹیاں نوچ رہا ہے۔
واپس کریں