پاکستان میں ہر نئی “نجات دہندہ” لہر آخرکار عوام کو ہی ننگا کرتی ہے
ناصر بٹ
“ن لیگ فلاں جگہ سے ختم ہو گئی”“اگلے الیکشن میں ن لیگ کا نام و نشان نہیں ہو گا”“عوام ن لیگ کو جوتے مارے گی”اس قسم کے کمنٹس جب میں اپنی تحریروں کے نیچے پڑھتا ہوں تو مجھے واقعی ہنسی آتی ہے۔ اور اس ہنسی کی وجہ یہ نہیں کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ کوئی سیاسی جماعت کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔ دنیا کی بڑی بڑی جماعتیں ختم ہوئی ہیں، سلطنتیں ٹوٹ گئی ہیں، نظریات دفن ہو گئے ہیں۔
میری ہنسی کی اصل وجہ اس قوم کی سیاسی ذہنی حالت ہے جو ہر بار جذبات میں آ کر اپنا ہی گھر جلا دیتی ہے اور پھر راکھ پر بیٹھ کر اگلے مسیحا کا انتظار شروع کر دیتی ہے۔
میں ایک بات بار بار کہتا ہوں کہ کسی بھی نظام، حکومت یا قیادت کو گرانے سے پہلے اس کا قابلِ عمل متبادل پیدا کرنا پڑتا ہے، ورنہ تبدیلی نہیں بلکہ تباہی پیدا ہوتی ہے۔ اور پاکستان اس تباہی کا تجربہ بار بار کر چکا ہے مگر پھر بھی اس قوم کو ہوش نہیں آتا۔اس کی بہترین مثال کرکٹ ہے۔
بابر اعظم کوئی عظیم کپتان نہیں تھا۔ دنیا کے کامیاب ترین کپتانوں کی صف میں اسے کھڑا کرنا مذاق ہو گا۔ مگر سوال یہ ہے کہ متبادل کیا تھا؟صرف شور مچا دینا کہ “بابر کو نکالو” مسئلے کا حل نہیں تھا۔
پھر آپ نے متبادل کے نام پر شان مسعود کو لے آئے جو انگریزی بھی اچھی بولتا تھا اور خاصا تعلیم یافتہ بھی تھا مگر نتیجہ؟
پندرہ ٹیسٹ میچز میں گیارہ شکستیں۔ جو چند میچ جیتے بھی وہ پاکستان میں ایسی پچیں بنا کر جیتے گئے جہاں دو اسپنرز ہی آدھی ٹیم کے برابر تھے۔ وہاں بھی کپتانی کا کوئی غیر معمولی کمال نظر نہیں آیا۔
یہی حال سیاست کا ہے۔
پاکستان کی پوری سیاسی تاریخ میں اگر کسی ایک شخص نےنسبتاً بہتر معاشی ترقی دی،انفراسٹرکچر بنایا،بجلی کے بحران پر قابو پایا،موٹرویز، سی پیک، صنعتی زونز اور بڑے منصوبے شروع کیے،مہنگائی نسبتاً کنٹرول میں رکھی، اور ریاستی ڈھانچے میں موجود طاقتور مفادات کو چیلنج کیا تو اس کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
میں بار بار 2017 کی مثال اسی لیے دیتا ہوں کیونکہ آج 2017 آپ کو کسی کھوئی ہوئی جنت کی طرح لگتا ہے،حالانکہ وہ صرف نو سال پہلے کی بات ہے۔اس وقت بھی یہی شور تھا کہ“بس نواز شریف ہٹ جائے، پاکستان جنت بن جائے گا”پھر کیا ہوا؟کیا وہ تمام لوگ جو انقلاب، احتساب اور تبدیلی کے نعرے لگا رہے تھے، ملک کو آگے لے گئے؟یا انہوں نے پاکستان کو معاشی، سیاسی اور سفارتی طور پر وہاں پہنچا دیا جہاں سے نکلنے میں اب دہائیاں لگ سکتی ہیں؟ہم جیسے لوگ اس وقت بھی چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ یہ جنون ملک کو تباہ کر دے گا۔
ہم کہتے تھے کہ صرف نفرت، انتقام اور جذبات پر سیاست چلے گی تو انجام خطرناک ہو گا۔ہم کہتے تھے کہ آپ اپنی ہی دھوتی اتارنے کے لیے خود ایندھن بن رہے ہیں۔
مگر اس وقت جذباتی ہجوم کو عقل کی بات سنائی نہیں دیتی تھی۔آج وہی لوگ مہنگائی، بے روزگاری، ڈالر، بجلی کے بل اور تباہ حال معیشت پر ماتم کر رہے ہیں جنہوں نے پورے ملک کو “بس ایک آدمی ہٹاؤ” کے جنون میں جھونک دیا تھا۔
آج کی ن لیگ حکومت میں بے شمار کمزوریاں ہیں۔مہنگائی پر مکمل قابو نہیں پایا جا سکا۔معاشی رفتار ابھی بھی مطلوبہ سطح پر نہیں۔اس میں نااہلی بھی ہو سکتی ہے اور عالمی و مقامی حالات کا جبر بھی۔
لیکن سوال اب بھی وہی ہے کہمتبادل کہاں ہے؟پی ٹی آئی آپ کو اب بھی شخصیت پرستی، سازشی بیانیے اور خان کی موریوں والی قمیض دکھائے گی۔پیپلز پارٹی آج بھی “جیے بھٹو” کے سہارے زندہ ہے۔مذہبی جماعتیں یا تو جنت کے سرٹیفکیٹ بانٹ رہی ہیں یا ایسا نظام بیچ رہی ہیں جس کا جدید ریاست، معیشت، صنعت اور عالمی دنیا سے عملی تعلق ہی واضح نہیں۔کوئی مجھے ایک جماعت دکھا دے جس کے پاس معیشت کا سنجیدہ روڈ میپ ہو،
صنعتی پالیسی ہو-ایکسپورٹ بڑھانے کا پلان ہو آبادی پر کنٹرول کی حکمتِ عملی ہو،تعلیم، صحت اور گورنس سسٹم بہتر کرنے کا واضح ویژن ہو۔
صرف جلسوں، نعروں، ٹک ٹاک کلپس اور یوٹیوب انقلابات سے ریاستیں نہیں چلتیں۔اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں ہر طبقہ خود کرپشن سے فائدہ اٹھاتا ہے مگر الزام صرف حکومت کو دیتا ہے۔
تاجر ٹیکس چوری کرے گا۔صنعتکار سبسڈی لے کر پیسہ باہر بھیجے گا۔شوگر مل والا چینی غائب کرے گا۔آٹا مل والا بحران پیدا کرے گا۔بیوروکریٹ فائل روک کر حصہ مانگے گا۔ریئل اسٹیٹ والا معیشت کو قبرستان بنا دے گا۔
قبضہ گیر زمینیں ہڑپ کریں گے۔چھوٹا دکاندار بھی دو نمبر مال بیچے گا۔لیکن جیسے ہی یہی سب لوگ اکٹھے ہو کر حکومت کو گالیاں دیں گے تو عوام فوراً انہیں “مظلوم” سمجھنا شروع کر دیں گے۔یہ قوم ہمیشہ علامات پر شور مچاتی ہے مگر مرض کو ہاتھ نہیں لگاتی۔آج ہر طرف خود ساختہ ماہرین کی بھرمار ہے۔یہ آپ کو اعداد و شمار کا ایسا خوفناک نقشہ دکھائیں گے کہ آپ کا دل دہل جائے۔یہ ہر دوسرے دن کسی “لاوے” کے پھٹنے کی پیشگوئی کریں گے۔
یہ پاکستان کے مسائل کی مثالیں یورپ اور امریکہ سے دیں گے، حالانکہ انہیں خود معلوم ہے کہ وہاں کے ادارے، سماجی رویے، ٹیکس کلچر، قانون کی عملداری اور پیداواری لیول یہاں سے زمین آسمان کی طرح مختلف ہیں۔
یہی لوگ کبھی کسی حکومت کے مشیر رہے ہوتے ہیں، کبھی کسی پراجیکٹ کے مفاد یافتہ کبھی کسی ادارے کے مشیر جو جب اقتدار کے قریب یا حصہ ہوں تو سب اچھا لگتا ہے، اور جب باہر ہو جائیں تو اچانک پورا نظام جہنم نظر آنے لگتا ہے۔
مجھے نہ ن لیگ کے اقتدار کے ختم ہونے کا خوف ہے نہ کسی سیاسی جماعت کی ہار جیت سے میری روزی وابستہ ہے میرا خوف صرف یہ ہے کہ اس وقت بھی، تمام کمزوریوں کے باوجود، پاکستان میں اگر کوئی جماعت نسبتاً انتظامی صلاحیت، ریاستی سمجھ بوجھ اور دوررس انفراسٹرکچرل سوچ رکھتی ہے تو وہ اب بھی ن لیگ ہی ہے۔باقی سب یا نعروں پر کھڑے ہیں، یا شخصیت پرستی پر، یا مذہبی جذبات پر۔
قوم پانچ سال بعد جسے چاہے لے آئے۔پاکستان میں ہر نئی “نجات دہندہ” لہر آخرکار عوام کو ہی ننگا کرتی ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ ہر بار لوگ دیر سے سمجھتے ہیں، اور قیمت ہم جیسوں سمیت پوری قوم ادا کرتی ہے۔
واپس کریں