ناصر بٹ
ستاون فیصد بجٹ لینے والے صوبوں میں سے تین صوبوں نے تیل کی قیمتیں کم رکھنے کے لیے وفاق کی درخواست کو مسترد کر دیا پنجاب کے علاؤہ سب نے برملا یہ کہا کہ قیمتیں بڑھا دیں ہم کوئی پیسہ نہیں دیں گے وجہ صرف یہ تھی کہ کسی کو گھنٹہ پرواہ نہیں کہ عوام کے ساتھ کیا ہوتا ہے انہیں صرف اس سے غرض ہے کہ وفاقی حکومت قیمتیں بڑھائے اور اسے گالی پڑے وہ مزید غیر مقبول ہو۔
وفاقی حکومت تین ہفتوں میں 125 ارب روپے کی سبسڈی دے چکی تھی اور ساتھ ساتھ عوام سے اپیلیں بھی کرتی رہی کہ خدارا حکومت کی گائیڈ لائینز پر عمل کریں اور بڑی گاڑیوں ،بے جا سفر سے پرھیز کریں اور اپنے معمولات زندگی میں ہنگامی حالات کی وجہ سے تبدیلی لائیں۔
عوام نے حکومت کی بات ہوا میں اڑا دی اور مارچ کے مہینے میں پچھلے سال مارچ کے مہینے سے بھی زیادہ تیل پھونک دیا۔
آئی ایم ایف کے پروگراموں پر چلتے ملک سے اگر کوئی یہ توقع رکھ رہا تھا کہ وہ امیر ترین ملکوں سے بھی بڑھ کے سبسڈی دیتا رہے گا تو اسکا کوئی علاج ہمارے پاس تو نہیں ہے۔
مجھے طعنے دیئے جاتے ہیں کہ حکومت کی ہر بات کو ڈیفنڈ کیوں کرتے ہیں
چلیں میں بھی آپکے ساتھ حکومت کو گالی دیتا ہوں کہ یہ حکومت یزید کی حکومت ہے اس حکومت نے عوام پر پٹرول اور بجلی کے بم گرائے ہیں اس حکومت نے غریب کو ذندہ گاڑ دیا ہے اور اسی قسم کی تمام باتیں جو لوگ دھڑا دھڑ کر رہے ہیں وہ ساری میں بھی کرتا ہوں۔۔۔۔
اب بتائیے کیا اس سے تیل کی قیمتیں کم ہو جائیں گی؟
کیا اس سے بجلی سستی ہو جائیگی؟
یہاں جس کو یہ مشورہ دیا جائے کہ خدارا اپنے معمولات زندگی کو تبدیل کریں اپنے رہن سہن میں سادگی لائیں اپنے اخراجات کو مینج کریں کسی کا منہ لال دیکھ کر اپنا منہ پیٹ کے لال نہ کریں ،وہی آگے سے گالی دینا شروع ہو جاتا ہے۔
او بھائی مجھے گھنٹہ فرق نہیں پڑتا کہ آپ حکومت کو گالی دیتے ہیں مگر خود میں کوئی تبدیلی لانے کی کوشش نہیں کرتے بھگتنا آپ نے ہے میں نے نہیں۔
جائیں جا کے میری وقت سے پہلے لکھی تحریروں کو دوبارہ پڑھ لیں ایک ایک بات پہلے سے بتا رکھی ہے کہ جو کچھ ہونیوالا تھا۔
بتایا تھا کہ حکومت تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہ کر کے غلطی کر رہی ہے یہ ممکن ہی نہیں کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت دگنا ہو جائے اور پاکستان کی بھوکی ننگی حکومت سبسڈی دے دے کر قیمت کو برقرار رکھ سکے اور پھر جب اچانک قیمت بڑھے گی تو لوگ یکدم سکتے میں آ جائیں گے
کیا اب وہی نہیں ہوا؟
125 ارب روپے بھی گئے اور اس وقت حکومت گالیوں کی زد میں ہے۔
گالیوں سے آگے بڑھ کے ملک میں احتجاج کے نام پر افراتفری پھیلا کے بھی دیکھ لیں مزید بدحالی مزید خرابی ہی پیدا ہو گی تیل بجلی مہنگی سہی مل رہی ہے اس سے بھی جائیں گے جس کو نہیں سمجھ آتی نہ آئے ہمارا کام تو بتانا ہی ہے۔
آگے کی بتا رہا ہوں کہ گیس کا شدید بحران انیوالا ہے اسکی قیمتیں بھی اسی طرح بڑھیں گی اور تیل تو مل رہا ہے گیس بارے تو یہ بھی نہیں کیا جا سکتا کہ میسر بھی ہو گی یا نہیں۔
یہ جنگ ختم بھی ہو گئی تو اگلے کئی سال اس جنگ کے اثرات ہمارے جیسے ملکوں کو بھگتنا پڑیں گے مگر فی الحال تو یہ جنگ ہی ختم ہوتی نظر نہیں آ رہی۔
واپس کریں