پاکستان میں الیکٹرک وہیکلز کا مستقبل ضرور ہے، مگر ۔۔۔
ناصر بٹ
پاکستان میں پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے الیکٹرک سکوٹر اور موٹر سائیکلوں کی ایک نئی مارکیٹ کھول دی ہے۔ آج ہر شہر میں رنگ برنگی الیکٹرک بائیکس نظر آ رہی ہیں اور ہر دکاندار لمبے چوڑے دعوے کر رہا ہے۔
کوئی کہتا ہے “ایک چارج پر 180 کلومیٹر”، کوئی “5 روپے فی کلومیٹر”، کوئی “زیرو مینٹیننس” اور کوئی “پٹرول سے ہمیشہ کی نجات”۔
مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں ان گاڑیوں کے بارے عوام کو بہت کم تکنیکی معلومات حاصل ہیں اور اسی لاعلمی نے کئی کاروباری لوگوں کا کام آسان کر دیا ہے۔
بہت سی کمپنیاں صرف سٹیکر لگا کر درآمد شدہ کم معیار کی بائیکس بیچ رہی ہیں جبکہ خریدار سمجھتا ہے کہ وہ کوئی جدید اور پائیدار ٹیکنالوجی خرید رہا ہے۔
الیکٹرک بائیک خریدنے سے پہلے چند بنیادی چیزیں سمجھنا انتہائی ضروری ہیں۔
سب سے اہم چیز بیٹری ہے، کیونکہ پوری گاڑی کی اصل قیمت اور جان بیٹری ہی ہوتی ہے۔
پاکستان میں زیادہ تر سستی بائیکس میں Lead Acid بیٹریاں لگائی جاتی ہیں جو وزن میں بھاری، جلد خراب اور کم رینج دیتی ہیں۔
جبکہ بہتر معیار کی بائیکس میں Lithium Ion یا LiFePO4 بیٹری استعمال ہوتی ہے جو مہنگی ضرور ہوتی ہے مگر زیادہ محفوظ، ہلکی اور دیرپا ہوتی ہے۔
اکثر لوگ صرف “ایک چارج پر کتنے کلومیٹر” سن کر متاثر ہو جاتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس سے مختلف ہوتی ہے۔
کمپنی جو رینج بتاتی ہے وہ عموماً ایک ہلکے وزن والے شخص، ہموار سڑک اور کم رفتار پر حاصل کی جاتی ہے۔
پاکستانی شہروں میں ٹریفک، بریکیں، گڑھے، گرمی، دو سواریاں اور خراب سڑکیں اصل رینج کو 30 سے 40 فیصد تک کم کر دیتی ہیں۔
اسی طرح موٹر کی پاور بھی اہم چیز ہے۔
1000 واٹ، 1500 واٹ اور 2000 واٹ کی موٹر میں بڑا فرق ہوتا ہے۔
کم پاور والی بائیک چڑھائی، دو سواری یا وزن میں جلد کمزور پڑ جاتی ہے۔
بہت سی بائیکس صرف شہر کے اندر ہلکے استعمال کے لیے مناسب ہوتی ہیں، مگر انہیں عام موٹر سائیکل کا متبادل بنا کر بیچا جاتا ہے۔
ایک اور اہم مسئلہ “بیٹری ریپلیسمنٹ” ہے۔
اکثر لوگ یہ پوچھتے ہی نہیں کہ دو یا تین سال بعد نئی بیٹری کتنے کی آئے گی۔
بعد میں پتا چلتا ہے کہ نئی بیٹری کی قیمت آدھی موٹر سائیکل کے برابر ہے۔
کئی کمپنیاں ایک دو سال بعد غائب ہو جاتی ہیں اور نہ پارٹس ملتے ہیں نہ بیٹری۔
چارجر کا معیار بھی بہت اہم ہے۔
خراب چارجر بیٹری کی عمر کم کرتا ہے اور بعض صورتوں میں آگ لگنے کا خطرہ بھی پیدا کرتا ہے۔
دنیا بھر میں ناقص لیتھیم بیٹریوں کے پھٹنے اور آگ پکڑنے کے واقعات ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں چونکہ معیاری سیفٹی چیکنگ کا نظام کمزور ہے اس لیے احتیاط اور بھی ضروری ہے۔
خریدار کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ بائیک کی زیادہ سے زیادہ رفتار کیا ہے، بریک کس معیار کے ہیں، شاکس مضبوط ہیں یا نہیں، واٹر پروفنگ موجود ہے یا نہیں، اور کمپنی کی سروس ورکشاپ حقیقت میں موجود بھی ہے یا صرف اشتہاروں میں۔
بہت سے لوگ صرف پٹرول بچانے کے حساب سے الیکٹرک بائیک خرید لیتے ہیں مگر لوڈشیڈنگ، لمبا چارج ٹائم، بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اور بیٹری کی محدود عمر جیسے عوامل کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
اس وقت پاکستان میں الیکٹرک بائیکس ایک اچھی متبادل ٹیکنالوجی بن سکتی ہیں، خاص طور پر شہری استعمال، ڈیلیوری سروس اور مختصر فاصلے کے لیے۔
لیکن انہیں “جادوئی حل” سمجھ لینا غلطی ہو گی۔
الیکٹرک بائیک خریدنے سے پہلے کم از کم یہ سوال ضرور پوچھیں
بیٹری کس کمپنی کی ہے؟
بیٹری کی اصل وارنٹی کتنی ہے؟
کتنے چارج سائیکلز ہیں؟
نئی بیٹری کتنے کی ملے گی؟
موٹر کتنے واٹ کی ہے؟
حقیقی رینج کتنی ہے؟
پارٹس اور سروس کہاں ملے گی؟
چارجر معیاری ہے یا نہیں؟
اور سب سے اہم… کمپنی دو سال بعد موجود بھی ہو گی یا نہیں؟
ورنہ سستا سودا چند ماہ بعد مہنگا بوجھ بن جاتا ہے۔
پاکستان میں الیکٹرک وہیکلز کا مستقبل ضرور ہے، مگر صرف تب جب صارف جذبات اور اشتہاروں کی بجائے معلومات اور تحقیق کی بنیاد پر فیصلہ کرے۔
واپس کریں