دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
سفر کا ہنر—— داد صدیقی ——
اللہ داد صدیقی
اللہ داد صدیقی
سفر میں
دورانِ سفر
رختِ سفر میں
کچھ ایسا ہنر چاہتا ہوں
جو راستوں کو بھی
میرے ہونے کی خوشبو دے۔
تمت بالخیر ہو جائے
یہ بار آوریِ دعا،
یہی مختصر خواہش
میرے دل کی گہرائی میں
چپ چاپ پلتی رہتی ہے۔

میں چاہتا ہوں
دلنشیں اندازِ سفر
جہاں تھکن بھی
کسی نرم لمس کی مانند اُترے،
جہاں قدموں کی چاپ
خود اپنا راستہ لکھے،
جہاں دوری بھی
کسی بدلتی ہوئی روشنی کی طرح
حوصلہ بخش لگے۔
میں چاہتا ہوں
کہ یہ سفر
کوئی نقش چھوڑ جائے
اقلیدسی نہیں،
دل کی زمین پر
دائرہ بناتا ہوا،
ایک ایسی واپسی
جس میں سب کچھ نیا
اور سب کچھ اپنا لگے۔
واپس کریں