دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ویل ڈن مریم نواز
ناصر بٹ
ناصر بٹ
ہر موقعے پر اپنا لچ تلنا ،ہر چیز کو سیاست زدہ بنانا،ہر خوشی میں اپنا گند گھولنا ان کلٹ زدہ زومبیز نے اپنا فرض سمجھ رکھا ہے۔
ایک مدت کے بعد پنجاب حکومت نے بسنت منانے کی اجازت دی ہے اور اسکے حفاظتی اقدامات پر کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے ساتھ ساتھ انتظامیہ کا کام دوگنا سے بھی بڑھ چکا ہے اسکے باوجود بسنت کسی معصوم جان کا نذرانہ لیے بغیر گذر جائے اسکی کوئی گارنٹی نہیں جس کا بوجھ بھی حکومت نے اٹھانا ہے مگر ان کلٹ زدہ زومبیز کو اس میں بھی اپنی سیاست گھسانی ہے۔
کوئی ان مجاہدوں سے پوچھے کہ قیدی نمبر 48 کیا نیازی کھوتا تصویروں والی پتنگیں اڑانے سے رہا ہو گا؟
اور جو کام تم لوگ کر سکتے ہو وہ کوئی اور کیوں نہیں کر سکتا؟
پھر بسنت کی شکل کیا ہو گی
کچھ لوگ نواز شریف کی تصویروں والی پتنگیں اڑا رہے ہونگے
کچھ لوگ مریم نواز کی
کچھ نیازی کی تصویروں والی پتنگیں اڑاتے پائے جائیں گے اور اکا دکا جیالے بھٹو اور بے نظیر کی تصویروں والی۔
پھر کیا یہ ایک موسمی تہوار رہ جائیگا؟
اور کیا اس طریقہ کار سے لڑائی جھگڑے شروع نہیں ہو جائیں گے؟
یوتھیے معاشرے کا وہ گند ہیں جنہیں مانجے سے ہی اٹھانا پڑتا ہے اسی لیے حکومت نے سیاسی نعروں تصویروں والی پتنگیں اڑانا جرم قرار دیا ہے جسے یوتھیے خوف پر مبنی فیصلہ کہہ رہے ہیں۔
یہ صرف ڈنڈے کے قابل ہیں ان سے کسی قسم کی رو رعایت نہیں ہونی چاہیے۔
واپس کریں