دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
یہ بت بھی مسمار کرنا پڑے گا
ناصر بٹ
ناصر بٹ
بیانیہ کیسے بنایا جاتا ہے ۔ایمان مزاری کے خلاف یہ کیس 12 اگست 2025 کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (NCCIA) نے PECA (پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ) کے تحت درج کیا تھا، جب الزام لگایا گیا کہ ایمان مزاری اور ان کے شوہر نے سوشل میڈیا پوسٹس میں ریاستی اداروں کی خلاف ورزی اور نفرت انگیز مواد شیئر کیا۔
مقدمے کی مختلف سماعتیں اگست، ستمبر، اکتوبر، دسمبر 2025 تک عدالت میں ہوئیں، جن میں استغاثہ اور دفاع دونوں نے دلائل دیے، اور کئی بار سماعت ملتوی بھی ہوئی۔ دفاع کی جانب سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں چیلنجز بھی دائر کیے گئے۔
اکتوبر 2025 میں فردِ جرم عائد کی گئی اور 29 اکتوبر 2025 کو ہادی علی چٹھہ کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ مقدمے میں مختلف قانونی توجہات اور وارنٹس کی تعمیل کے احکامات بھی آئے۔
کچھ دن پہلے عدم پیشی پر عدالت نے وارنٹ گرفتاری جاری کیے مگر ایمان مزاری اور انکے شوہر نے فرار کا راستہ اختیار کیا۔
عدالت نے 24 جنوری 2026 کو کیس کا فیصلہ سنایا، جس میں ایمان مزاری اور ان کے شوہر دونوں کو مجموعی طور پر 17 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی۔
کچھ لوگ بڑی دردمندی سے یہ بھی فرما رہے ہیں کہ ایک ٹویٹ پر 17 سال قید۔
کیا واقعی؟
اگر کوئی بندہ کینسر کے مریض کی آخری سٹیج پر ہو
ہسپتال میں اسے آکسیجن لگی ہو
حالت بہت نازک ہو
اسے کھانسی آ جائے اور اسکا دم نکل جائے تو آپ کیا کہیں گے کہ کھانسی سے مر گیا؟
خاتون کا ٹریک ریکارڈ کیا کسی سے ڈھکا چھپا ہے؟
کبھی بلوچ ڈھ شر غردوں کی آڑ میں ڈرامہ
کبھی پشتینی ٹوپی اوڑھ کے یہ جو د ہ شت غردی ہے کے نعرے لگانا
جہاں چار لوگ اکٹھے دیکھے محترمہ کا انقلاب جوش مارنا شروع کر دیتا تھا
ایک ٹویٹ ؟
کوئی ایک ٹویٹ سے ایسا انقلابی کیسے بن گیا جس کے لیے آج کچھ لوگوں کی غم سے ہچکی بندھ گئی ہے؟
انقلاب خون مانگتا ہے صرف ہیٹر لگا کر کمبل اوڑھے انقلابی گانے ہی نہیں سنے جاتے۔
پیکا قانون درست ہے یا غلط مگر موجود ہے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ سزا غلط ہوئی قانون کی صریحاً خلاف ورزی کے مصدقہ ثبوت موجود ہیں عدالت میں پیش بھی کئے گئے۔
سزا تو ملنا تھی سو ملی۔
باقی نیک چال چلن کی یقین دہانی اب بھی کہیں نہیں گئی دے دی گئی تو اپیل میں ضمانت مل جائیگی تب تک انقلاب انجوائے کریں اور ہمارا ایک پرانا قول یاد کریں کہ
ٹٹو کبھی انقلابی نہیں ہوتے۔
دوسری تصویر میں یہی محترمہ نواز شریف کو نااھل قرار دیے جانے پر خوشی کا اظہار کرتی ہوئی فرماتی ہیں
It's game over baby
کوئی کچھ بھی کہے ہم اب کھل کر کہیں کہیں گے
Inqalab over baby
Face the music.
پوسٹ کی دم یہ ہے کہ مالکوں کو عاصمہ جہانگیر بھی اچھی نہیں ملی اور ونڈر بوائے کی طرح یہ بت بھی مسمار کرنا پڑے گا۔
واپس کریں