اپنی بربادی کے طریقے کھینچ کھینچ کے گھر لانا ہمارا پرانا مشغلہ ہے۔
ناصر بٹ
دنیا میں کہیں بھی کوئی مسلہ پیدا ہو اتنا مسلہ وہاں کے لوگوں کو نہیں ہوتا جہاں کا مسلہ ہے جتنا پاکستان میں پیدا ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں کچھ لوگ پھر اس مسلے پر اپنا زیادہ سے زیادہ نقصان کرانے پر تل جاتے ہیں۔۔
کوئی پاکستان کو غیرت کے نام پر ڈٹ جانے اور اسکے بدلے جو بھی نقصان ہو اسے قبول کرنے کی وکالت کر رہا ہوتا ہے تو کوئی پاکستان کو اسلامی دنیا کا مسیحا بنا کے پاکستان کے ذمے اسلام کو بچانے کی ذمہ داری ڈال رہا ہوتا ہے۔
یہاں اگر کسی کو کسی بات سے فرق نہیں پڑتا تو وہ پاکستان کے اپنے مفادات ہیں وہ جائیں بھاڑ میں پاکستان ان لال بجکھڑوں کے نسخہ ہائے غیرت مندی سے بچتا ہے یا تباہ ہوتا ہے یہ انکا پرابلم نہیں۔
یہ جو کچھ لوگوں کے خیال میں پاکستان دنیا کا کوئی طرم خان ملک ہے پہلے تو وہ اپنی حالت پر ایک نظر دوڑا لیں کہ اس ملک میں کون کون سے مسائل موجود ہیں اور ہم کسطرح ان مسائل میں الجھے ہوئے ہیں انہیں حل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
فلس3 کا مسلہ ایک دیرینہ مسلہ ہے جو کئی دھائیوں سے موجود ہے اور وہاں کے لوگوں نے جتنی بربادی دیکھی ہے اسکی کوئی مثال نہیں ملتی۔
اس مسلے کا حل صرف طاقت سے ممکن تھا جو عالم اسلام کے پاس موجود نہیں تو جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات لازم تھا کسی کے پاس کوئی اور حل ہوتا تو آج تک سامنے آ چکا ہوتا۔
فلس3 کے لاکھوں لوگ مروا دیے مگر عالم اسلام کی غیرت خدا جانے اب بھی بچی ہے یا نہیں۔
بطور مسلم ملک پاکستان فلس3 کی جو مدد ممکن ہو سکتی تھی وہ کرتا آیا ہے اور کر رہا ہے ہر چند کہ اس مسلے سے براہ راست عالم عرب جڑا ہے اور انکے اقدامات بھی سب کے سامنے ہیں۔
ٹرمپ کی پیس کمیٹی سامنے آئی تو اس میں عالم اسلام کے تمام بارسوخ ملک شامل ہو گئے پاکستان کا شروع سے یہ موقف رہا کہ ہم اپنے عرب بھائیوں کی منشا کے مطابق اس میں شامل ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کریں گے۔
سعودی عرب،یو اے ای،کویت ،قطر،ترکی،مصر، انڈونیشیا ،اردن جیسے بڑے اسلامی ممالک بورڈ آف پیس نامی امن کمیٹی میں شامل ہو چکے ہیں مگر وہاں کسی کی غیرت کو کوئی مسلہ درپیش نہیں ہوا جس کے بعد پاکستان نے بھی اس کمیٹی میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
اس کمیٹی کے پس پردہ مقاصد کیا ہیں یہ تو خدا ہی جانتا ہے مگر سامنے جو مقاصد رکھے گئے وہ کچھ یوں ہیں
1-عالمی امن و استحکام کا فروغ، جنگ زدہ یا غیر مستحکم علاقوں میں دیرپا امن قائم کرنا۔
2-گازہ میں جنگ بندی اور امن عمل کی نگرانی، تنازعات کے حل اور عبوری حکمرانی کو منظم کرنا۔
3-نظم و نسق اور تعمیر نو، بنیادی ڈھانچے اور معاشی ترقی کے لیے گازہ کی تعمیر نو میں مدد۔
4-بین الاقوامی شراکت داری ،ممالک اور اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا۔
5-روایتی عالمی اداروں کے ساتھ تعلقات، اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرنا، متوازی ڈھانچہ قائم کرنا۔
6-فنڈنگ اور ممبرشپ، امن عمل کے لیے مالی وسائل اور مستقل رکنیت کی فراہمی۔
7-عالمی امن کے لیے فریم ورک ،قانونی حکمرانی، تشدد کے خاتمے، اور وسائل کی منظم تقسیم کے لیے ایک جامع ڈھانچہ۔
اب بظاہر یہ مقاصد ایسے نہیں کہ کسی کو اس سے اختلاف ہو مگر یہاں وہ وہ باتیں نکال کے سامنے لائی جا رہی ہیں جن کا شاید کمیٹی بنانے والوں کو بھی علم نہ ہو۔
کچھ لوگ اس کمیٹی کی وجہ سے اقوام متحدہ کا کردار ختم ہونے کی باتیں بھی کر رہے ہیں
بات پھر وہی آتی ہے کہ کیا یہ سب مسائل اقوام متحدہ کی موجودگی میں ہی پیدا نہیں ہوئے اور دھائیوں سے چلتے ا رہے ہیں کیا اکھاڑ لیا اقوام متحدہ نے؟
او بھائی اقوام متحدہ ہو یا کوئی اے بی سی امن کمیٹی دنیا میں سکہ رائج الوقت طاقت ہوتی ہے وہ جس کے پاس ہو وہ غالب ہوتا ہے کوئی اقوام متحدہ یا کوئی امن کمیٹی اسکا کچھ اکھاڑ نہیں پاتی اگر آپ کے پاس طاقت ہے تو آپ کو بھی کسی کمیٹی یا اقوام متحدہ کی ضرورت نہیں پڑے گی سب آپ کے اقدامات کے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے۔
چھوڑ دیں یہ فالتو کی بڑھک بازی اور کچھ عرصہ عالم اسلام کی ذمہ داری کسی اور کو بھی پوری کرنے دیں ہم نے عالم اسلام کی ٹھیکیداری میں بہت بربادی کروا لی۔
فیصلہ سازوں کو خدا جانے کس بات کی معزرت خواہی ہے ٹکا کر کہیں کہ ہاں کیا ہے فیصلہ اور آئیندہ بھی پاکستان کے مفادات پر مبنی جو بھی فیصلہ ہو گا وہ کریں گے ہمارے لیے پاکستان کے مفادات سب سے پہلے ہیں۔
ایویں ریں ریں لگا رکھی ہے۔
واپس کریں