دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ڈھابے کی چائے ۔اللہ داد صدیقی
اللہ داد صدیقی
اللہ داد صدیقی
یہ ذکر اُن روز و شب کا ہے
جب دل پر عشق کا پہلا سایہ تک نہ گزرا تھا،
اور عمرِ رواں نے
نوخیزی کی پہلی موج میں
جاں و دل کو اک عجب سرشاری بخشی تھی۔
وہ وقت—
جب خواہشیں تازہ ہوا کی طرح
ہر سمت دوڑتی پھرتی تھیں،
اور ہم اہلِ جنوں
اپنے ہی شوق کے امین تھے۔
نہ کسی کا خوف،
نہ کسی آہِ شکستہ کا اندیشہ۔
جسم پر تھکن کا غبار تک نہ پڑتا،
اور روح میں
آوارگی کی مٹھاس ایسے گھلی ہوئی تھی
جیسے کسی پرانے دیوان کے ورقوں میں
مشکِ ناب کی خوشبو۔
راہیں پھیلی ہوئی،
منزلیں بے نیاز،
اور ہم—
ہر سمت کے مسافر۔
جس موڑ پہ دل چاہا، رک گئے،
جس سمت نے آواز دی،
چل دیے۔
ان ہی دنوں
ہر ڈھابہ ہمارے لیے
اِک مختصر خانقاہ ٹھہرتا،
جہاں مٹی کے پیالے سے اٹھتی
چائے کی سوندھی بھاپ
دل کی بے سمتی پر
لطیف سا نور کھینچ دیتی۔
ہم چائے کا گھونٹ یوں بھرتے
گویا یہ جامِ فرحت ہو،
جس سے سفر کی گرد اتر جائے،
اور رگوں میں
تازہ ہمت کی لہریں اتر آئیں۔
پیالہ میز پر رکھ کر
ہم پھر چل دیتے—
یوں جیسے منزلیں
قدموں کی چاپ کی منتظر ہوں۔
ہَوا پیچھے سے دھکیلتی،
راہ آگے سے بلاتی،
اور دل—
صرف سفر ہونے پر راضی رہتا۔
پاؤں کے آبلے
چھوٹے چھوٹے زخم سہی،
مگر جوانی کی تندی میں
یہ بھی لطف دیتے—
کہ محنت کا پہلا درجہ
ہم نے انہی سے سیکھا۔
جب پھٹتے
تو ایک انوکھی راحت بخشتے،
جیسے جسم نے
اپنی حدیں پہچانی ہوں۔
اس عہد میں
جگر پر گھاؤ کا دستور نہ تھا،
دل شیشہ سہی
پر اتنا نازک نہ تھا۔
غم اگر کوئی تھا
تو فقط اتنا
کہ اگلا پڑاؤ کہاں ہوگا؟
یا چائے کی خوشبو
کتنی دیر ساتھ چلے گی؟
آج جب یادوں کی گلی میں
پلٹ کر دیکھتا ہوں
تو محسوس ہوتا ہے
کہ وہ ڈھابے، وہ بھاپ، وہ چائے—
سب نے دل کی کتاب پر
ایسے نقوش چھوڑے
جو وقت کے سیلاب میں بھی مٹ نہیں پاتے۔
اب چائے کا وہ ذائقہ
دل کے کسی پوشیدہ گوشے میں
چراغ کی طرح ٹمٹماتا رہتا ہے،
اور جب کوئی سرد ہوا چلتی ہے
تو وہی پرانا سفر
وہی بے فکری
وہی آبلوں کی تازگی—
سب ایک دم سے
دل کی دہلیز پر آ کھڑے ہوتے ہیں۔
اور میں
اپنے آپ کو
پھر سے اسی نوخیز مسافر کی صورت پاتا ہوں—
جس کے قدموں میں آبلے تھے،
مگر دل میں کوئی زخم نہ تھا۔
واپس کریں