اظہر سید
عمران خان کے متعلق عمومی تاثر یہی تھا چند ماہ قید برداشت نہیں کر سکے گا ۔رہائی کیلئے فوج سے بات چیت کی درخواستیں کرنا شروع کر دے گا ۔عیش و عشرت میں زندگی گزارنے والا مختلف بیماریوں کا شکار ہو جائے گا ۔ایسا کچھ نہیں ہوا۔عمران خان نے ایک عظیم راہنما کے طور پر قید کا سامنا کیا ۔قید کے دوران مسلسل ورزشوں سے خود کو سپر فٹ رکھا ۔اج بھی تہتر سالہ عمران خان اکیس سال کے نوجوان سے زیادہ فٹ ہے ۔
اعلی عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی میں اپنی اہلیہ سے محبت ،جوش اور جذبہ کے ساتھ تنہائی میں ملاقاتیں کرتا ہے ۔
ڈیل اور مذاکرات کیلئے اعلی ترین جگہوں سے جتنی بھی کوششیں ہوئیں عمران خان نے عوام کے ووٹ کی حفاظت کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیشہ مسترد کیں اور ایک انچ پیچھے ہٹنے کیلئے تیار نہیں ۔
مالکان اتنے بڑے ووٹ بینک اور سوشل میڈیا کے اس جن سے کوئی معاملہ کرنے پر ہمیشہ آمادہ رہے لیکن عمران خان اپنے موقف پر چٹان کی طرح کھڑے ہیں ۔
عمران خان صحت مند ہیں ۔اپنی سوچ اور فیصلوں پر سختی سے قائم ہیں۔مرشد کی کمر میں کوئی درد نہیں ہوتا۔مرشد کی نظریں گویا چیتے ایسی ہیں سکس بائے سیون ۔عمران خان نے جس دلیری ،جرات اور پامردی سے قید و بند کا سامنا کیا آصف علی زرداری کی جرات اور پامردی سے برابر کا مقابلہ کیا۔
عمران خان کے وکلا نے عدالت میں نظر کمزور ہونے کا بیان دیا ۔ایک بڑے راہنما کے متعلق اس بیان پر سپریم کورٹ اور حکومت کو جھکنا پڑا ۔ڈاکٹروں کی ٹیم نے تفصیلی جائزہ لے کر پوری قوم پر واضح کر دیا ڈٹ کر کھڑا ہے کپتان ۔صحتمند اور چاک و چوبند ہے ۔
مرشد اپنی جرات ،دلیری اور پامردی کی وجہ سے تاریخ کے صفحات میں اپنا نام جلی حروف میں لکھوا چکا ہے ۔
مالکوں نے بارہا بات چیت کے پیغامات بھجوائے ،کپتان کا ہر بار ایک ہی اصولی موقف رہا "بات چیت صرف سیاستدانوں سے ہو گی اور بس ۔
واپس کریں