دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاکستان زندہ باد ۔اظہر سید
اظہر سید
اظہر سید
ن لیگ اور پیپلز پارٹی والے ناحق لڑتے ہیں ،مسٹر ٹن پرسنٹ،سرے محل، ایس جی ایس کوٹیکنا ، لندن فلیٹ اور مرحومہ تحریک لبیک سب ہتھیار تھے جو ریاست کی ملکیت برقرار رکھنے کیلئے استمال ہوتے تھے ۔
ثاقب نثار یا کھوسہ اکلوتے پالتو نہیں اس حمام میں جسٹس منیر،ارشاد حسن ،افتخار چوہدری، مولوی مشتاق ایسے بہت سارے منصف ننگے نہا رہے ہیں۔
استمال کرنے والے تو ایسے ہنر مند ہیں جے سندھ کا نعرہ لگانے والے جی ایم سید کو مرشد بنا لیتے تھے ۔
ہم کیو ایم بنانے کے پیچھے اردو سپیکنگ نوجوانوں کی بھلائی نہیں تھی پیپلز پارٹی کو چیلنج کرنا تھا۔
جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گیا داغ
کے پیچھے پنجاب سے محبت نہیں تھی پنجاب میں پیپلز پارٹی کے ووٹ بینک کو لوٹنا تھا ن لیگ کا ووٹ بینک بنانا تھا ۔
جنرل باجوہ ،جنرل فیض کا پالتو ججوں اور ففتھ جنریشن پلاٹون کی مدد سے نواز شریف،اصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن کو گالیاں دینا،چور ڈاکو مشہور کرنا اور سیکورٹی رسک بتانا ایک نوسر باز کو لیڈر بنانے کیلئے تھا ۔
میثاق جمہوریت کے ہوتے ہوئے مالکوں سے ریاست کی ملکیت واپس لینے کا سنہری موقع نوسر باز کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر کے ضائع کر دیا گیا ۔
اب مالکان بہت طاقتور ہیں۔بین الاقوامی حالات واقعات مالکان کو بہت زیادہ طاقت فراہم کر چکے ہیں ۔
جمہوریت اب نہیں آئے گی ۔جمہوریت تو دنیا کے مہذب سمجھے جانے والے مغربی ممالک میں بھی نہیں ہے ۔
خلق خدا نے کبھی راج کیا ہے نہ کرے گی ۔انسانی حقوق اور آئین قانون کی باتیں صرف کتابوں میں اچھی ہیں حقیقت یکسر مختلف ہے۔
فوج پر تنقید کرنا بند کریں اور پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگائیں ۔
واپس کریں