اظہر سید
سوویت یونین اور امریکہ کی افغانستان موجودگی سے نپٹنے کیلئے خیبرپختونخوا سے افغانستان تک مذہب بنیادی ہتھیار کے طور پر استعمال ہوا ۔چار دہائیوں تک مسلسل استعمال نے مذہب کو پختون معاشرے کے ڈی این اے میں شامل کر دیا ہے ۔ منشیات فروشی،اغلام بازی ،کار چوری،اسمگلنگ سمیت دنیا بھر کے جرائم ہونگے لیکن ساتھ ساتھ مذہب ناگزیر شہ کے طور پر موجود ہو گا ۔
مذہب کی ڈی این اے میں شمولیت نے خواتین کو پختون معاشرہ کا وہ اچھوت بنا دیا ہے جن کے بازاروں میں نکلنے سے مذہب خطرہ میں پڑ جاتا ہے لیکن پنجابی سندھی یا دوسری قومیت کی خواتین بازاروں میں نکلیں وہ پختونوں کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کا باعت ہوتی ہیں ۔معاشرے کی نصف ابادی پر پابندیوں نے خوبصورت لڑکوں سے انسیت بھی پختون معاشرے میں شامل کر دی ہے ۔خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقہ جات سے افغانستان تک کم عمر خوبصورت پختون لڑکوں کو اپنے ساتھ رکھنا گویا فخر اور مردانگی کا استعارہ ہے ۔
سوویت یونین تحلیل ہو گیا ۔امریکہ واپس چلا گیا لیکن مذہب پوری طاقت سے موجود ہے ۔پاکستان کے مالکان پالیسی شفٹ سے مذہب کے استمال کو چھوڑ بھی دیں افغانستان کی وجہ سے پاکستان کی جان نہیں چھوٹے گی ۔
خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں کوئی سیاسی جماعت کوئی لیڈر اتنی طاقت نہیں رکھتا پختون معاشرے کو مذہبی بنیاد پرستی سے نجات دلا سکے ۔خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات کے ساتھ سندھ اور خاص طور پر پنجاب میں مذہب کو تقویت دینے کیلئے مذہبی جماعتوں کو طاقت فراہم کی گئی تھی ۔اب کوئی بھی مذہبی انتہا پسندی سے محفوظ نہیں ۔ شیعہ ہو یا قادیانی ایک بہت بڑی تعداد انہیں واجب القتل سمجھتی ہے ۔بھٹو حکومت میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے باوجود انہیں بطور ثواب قتل کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا ۔شیعہ کافر بھی قرار نہیں دئے جاتے تھے ۔
دعا دیں جنرل ضیا الحق کے دور کو جس میں فرقہ واریت کا جن بوتل سے نکالا گیا ۔اب صرف شیعہ اور قادیانی ہی کافر نہیں مخالف فرقے اور گروہ کو بھی کافر قرار دے کر مارا جا سکتا ہے ۔
خود کش حملے اس وقت ختم ہونگے جب معاشرہ انتہا پسندی سے اعتدال پسندی کی طرف بڑھے گا ۔
ریاستی مقاصد کیلئے مذہب کو جس طرح استعمال کیا اسکی قیمت تو ادا کرنا ہی ہے ۔امام بارگاہ کا موجودہ خودکش حملہ بھی ایک قیمت ہی ہے ۔
واپس کریں