اظہر سید
عمران خان کو کچھ بھی کہیں لیکن یہ نہیں جھٹلایا جا سکتا وہ ایک حقیقت ہے ۔اس کے ووٹرز کو کم عمر،کم عقل یوتھیا کچھ بھی کہیں سارے ووٹر پاکستانی ہیں اور بہت بڑی تعداد میں ہیں۔یہ سچ ہے اسے پاکستان مخالف قوتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے ۔بھارتی آپریشن سیندور میں پاکستان پر حملہ کریں حمائت پی ٹی آئی سے ملے گی ۔
بلوچ عسکریت پسند حملہ کریں حمائت پی ٹی آئی اکاؤنٹس سے ملے گی ۔پاکستان معاشی کامیابی حاصل کرے ،خارجہ محاز پر کشتوں کے پشتے لگا دے طنز اور تنقید پی ٹی آئی اکاؤنٹس سے ہو گی ۔
ایپسٹن فائلز میں ننگی تصاویر سامنے آجائیں ایسا کلٹ بن گیا ہے ایک بہت بڑے میڈیا ہاؤس کا بیورو چیف اینکر جواز دے گا
"دوسرے کون سا اچھے تھے"
مالکوں نے لیڈر بنائے ۔جنرل ایوب نے بھٹو بنایا اور جنرل ضیا نے نواز شریف ۔دونوں باغی ہوئے ایک ایوب خان پر کشمیر فروخت کرنے کا الزام لگا کر اور دوسرا غلام اسحاق خان کے خلاف تقریر کر کے ۔دونوں باغی تو ہوئے لیکن دونوں نے کبھی بطور ادارہ فوج کو ہدف نہیں بنایا ۔نوسر باز مالکوں کی واحد تخلیق ہے جس میں مالکوں نے ففتھ جنریشن وار کا تجربہ کیا اور ایک فرقہ بن گیا جو نوسر باز کی طرح اپنے ہی مالکوں کے سروں پر مسلسل برس رہا ہے ۔
ففتھ جنریشن وار کے اس تجربہ سے دنیا بھر کے مالکوں "ریاست کے اندر ریاست والے "کو پتہ چل گیا ہے اندھا فرقہ بنایا جا سکتا ہے ۔جھوٹ ،دھوکہ اور فراڈ کے زریعے ووٹ بینک تخلیق کیا جا سکتا ہے ۔
صرف پاکستانی مالکوں نے زرائع ابلاغ کے مہلک ہتھیاروں کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال نہیں کیا امریکی مالکوں نے اسی ہتھیار سے ٹرمپ کو ووٹ بینک بنا کر دیا اور اب اسے استمال کر رہے ہیں ۔
بھارتی مالکوں نے انہی ہتھیاروں سے راہول گاندھی کو ولن اور نریندر مودی کو ہیرو بنایا ۔
امریکہ اور بھارت میں ووٹ بینک تو بنا ،معاشرے میں نفرت اور انتہا پسندی میں اضافہ بھی ہوا لیکن سب کچھ کنٹرول میں رہا ۔پاکستان میں ووٹ بینک چونکہ کلٹ بن چکا ہے اس لئے کنٹرول میں بھی نہیں ۔
اب اس ووٹ بینک کو بھگتنا ہے ۔جب تک بڑا بت نہیں توڑا جاتا
واپس کریں