اظہر سید
بہت شاندار دور تھا ۔ارمی چیف کا سمدھی بزنس ایمپائر چلا رہا تھا ۔ائی ایس آئی چیف ہاؤسنگ سوسائٹیوں پر قبضہ کرنے کی دھمکیاں دے کر مال جمع کرتا تھا۔ایجنسی چیف کا بھائی زمینوں پر قبضوں میں مصروف تھا ۔وزیراعظم توشہ خانہ کے تحائف بیچ رہا تھا ۔وزیراعظم کی بیوی ہاؤسنگ اسکیم کے مالک سے ہیرے کی انگوٹھیاں وصول کرتی تھی ۔
بیوی کی سہیلی ٹرانسفر تبادلوں کے بزنس میں دونوں ہاتھوں سے کمائی میں مصروف تھی ۔
بلین ٹری کے نام پر صوبے کو وفاقی محاصل سے ملنے والا حصہ آپس میں تقسیم ہوتا تھا ۔پشاور میٹرو کے نام پر اربوں روپیہ جیبوں میں ڈال لئے گئے تھے ۔
نظام انصاف میں چیف جسٹس پارٹی ٹکٹ بیچ کر مال جمع کر رہا تھا ۔لندن ڈیم فنڈ ریزنگ میں پیسے جمع کر کے انیل مسرت کے زریعے لندن میں فلیٹ خریدے جا رہے تھے ۔
ایک جج اتنے پیسے بنا رہا تھا اس کا نام ہی ٹرکاں والا پر گیا تھا ۔
صحافیوں کی الگ لاٹری نکل آئی تھی ۔میاں بیوی کی جوڑی کے گھر شام کو محفل جمتی ۔ لندن فلیٹ، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف پراپیگنڈہ کی نئی ٹیکنیکس پر گفتگو ہوتی ۔
ایک یوٹیوبر پنجاب بھر میں بل بورڈ کے ٹھیکوں سے دھڑا دھڑ پیسے بنا رہا تھا۔
ایک اپنے آن لائن رسالے میں امیج بلڈنگ کے نام پر کروڑوں کے اشتہار وصولتا تھا ۔
پارلیمنٹ ایک کرنل کے اشارے پر قانون سازی کرتی تھی ۔سینٹ میں واضح اکثریت کے باوجود اپوزیشن کا امیدوار ہار جاتا تھا ۔
ریاست کے تینوں ستون پارلیمنٹ،عدلیہ اور انتظامیہ ہی ریاست کو گھن کی طرح کھا رہے تھے ۔چوتھا ستون کہاں پیچھے رہتا میڈیا کی پانچوں انگلیاں گھی اور سر کراہی میں تھا۔
پاؤں کے انگوٹھوں سے ووٹ لینے والا ڈپٹی اسپیکر بنا دیا گیا تھا اور حکم امتناعی پر سارا وقت گزار گیا ۔
ایم آئی چیف جو سب کچھ جانتا تھا ائی ایس آئی چیف بھی رہ چکا تھا اسے گرجرانوالہ کی کور دے کر ایک ٹائلوں والا اس کے پیچھے لگا دیا "مجھ سے رشوت مانگی ہے"
چند کمانڈر ہڑبڑا کر جاگ گئے "ملک ٹوٹ جائے گا"
چیف کو بتا دیا کھیل ختم کیا جائے ۔یہ چند سرپھرے محب وطن کمانڈر ہی تھے جنہوں نے چیف کی تین ماہ اور چھ ماہ ایکسٹنشن کا دانہ چگتے سے بھی انکار کر دیا۔
قریبی لوگوں کو ڈرایا لانگ کورس والا چیف نہ بنا تو شارٹ کورس والا کسی کو نہیں چھوڑے گا۔کمانڈروں کے گروپ نے واضح کر دیا
جو بھی آئے نو ایکسٹنشن ۔ وزیراعظم فیصلہ کرے گا۔
دھمکی دی چیف جسٹس جونئیر چیف کے خلاف کیس شنوائی کیلئے منظور کر لے گا ادارے میں بیرونی مداخلت ہو جائے گی ۔
جواب ملا دیکھ لیں گے ۔پھر دیکھ لیا گیا ۔عدالت خود چور تھی ایک ہی ملاقات پر سہم گئی ۔ڈر گئی ۔بھاگ گئی ۔
نیا چیف آ گیا۔ نیا پاکستان بن گیا۔نادہندگی ٹال دی گئی ۔نو مئی کو چین آف کمانڈ توڑنے کی سازش کی گئی ،چین آف کمانڈ نے ہی اسے ناکام بنا دیا۔
پالتو اینکروں کی لال کی گئی بیشتر ملک سے بھاگ گئے ۔
غلیظ ججوں کو ایک ایک کر کے ٹھکانے لگایا گیا۔
آئینی ترامیم سے عدلیہ کے دانت اور ناخن نکال دئے گئے ۔
جسے اثاثہ بنایا تھا ۔جو جماعت گملے میں اگائی تھی ۔اسے دھوپ ،پانی اور ہوا سے محروم کر دیا گیا ۔
مسائل ہیں۔مشکلات ہیں لیکن سب خلوص کے ساتھ ماضی کی غلطیاں درست کرنے میں مصروف ہیں ۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
واپس کریں