اظہر سید
اب جو معافیاں مانگ کر ریلیف لے رہا ہے سیاستدانوں کی وکٹ پر کھیلتا سیاست بچ جاتی ،جماعت بچ جاتی اور ووٹ بینک بھی برباد نہ ہوتا ۔ہفتے دس دن بعد یوٹیوبرز اور یوتھیوں پر جو بجلی گرنا ہے نہ گرتی ۔
ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین مالکوں سے جتنی معافیاں مانگ لیں اب واپسی ممکن نہیں ۔عمران خان کی کل کمائی یہی ہے جان بچ جائے اور باقی کے دن ٹریان خان کے ساتھ سکون سے گزار لے سیاست کی اجازت اب نہیں ملے گی ۔
جھوٹ دھوکہ اور فراڈ سے جو ووٹ بینک بنا تھا مالکوں نے ہی بنا کر دیا تھا ۔اس نے اتنا بڑا سیاسی اثاثہ مالکوں سے سینگ پھنسا کر برباد کر دیا ۔
اسی طرح کا ووٹ بینک اور سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کو چیلنج کرنے کیلئے میاں نواز شریف کو بھی دی گئی تھی لیکن انہوں نے گڈ کاپ بیڈ کاپ کا کھیل کامیابی سے کھیلا ۔مالکوں سے سینگ پھنسا کر جمہوریت کا پرچم بلند رکھا اور گڈ کاپ شہباز شریف کے زریعے مالکوں سے بنا کر بھی رکھی ۔
عمران خان نے دو فاش غلطیاں کیں ۔سوشل میڈیا کے زریعے مالکوں کو شکست دینے کی ٹھانی ۔فوج کو براہ راست نشانہ بنا کر اپنی سیاسی قسمت اسی طرح کھوٹی کر لی جس طرح الطاف حسین نے کی تھی ۔
جو ریلیف ملتا نظر آرہا ہے وہ رو رو کر معافیاں مانگنے کے بعد مل رہا ہے مالکوں کو چیلنج کرنے سے نہیں مل رہا ۔
نو ستاروں نے بھٹو کو پھانسی گھاٹ پر پہنچا دیا تھا، لیکن نصرت بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو نے انہی نو ستاروں کو ساتھ ملا کر ایم آر ڈی کی تحریک چلائی اور سیاست میں اپنی جگہ برقرار رکھی ۔
پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا ووٹ بینک ہی ایک دوسرے کی دشمنی پر مبنی تھا لیکن دونوں سیاسی جماعتوں نے میثاق جمہوریت کے زریعے ایک دوسرے کو تحفظ دیا اور مالکوں کو مسلسل چیلنج بھی ۔پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی سیاست ہی تھی مالکوں نے عمران خان کی شکل میں نیا گھوڑا میدان میں اتارا ۔
یہ گھوڑا اصل میں سیاستدان تھا ہی نہیں خچر تھا "گدھے سے تھوڑا بہتر"
جنہوں نے مالکوں سے بچانا تھا انہی کو چور ڈاکو کہتا رہا ۔چور ڈاکو تو پیپلز پارٹی اور ن لیگ والے بھی ایک دوسرے کو کہتے تھے لیکن آج بھی ہائی برڈ نظام میں صدر وزیراعظم بن کر سیاست سیاست کھیل رہے ہیں ۔
اس خچر کو آصف علی زرداری نے بار بار بچانے کی کوشش کی ۔اس خچر کو مولانا فضل الرحمٰن نے بار بار بچانے کی کوشش کی ۔
اس خچر کو مسلم لیگ ن نے بار بار بچانے کی کوشش کی لیکن یہ ہوا کے گھوڑے پر سوار تھا لیکن تھا خچر ۔سیاستدانوں کی وکٹ پر اجاتا ایک بڑے ووٹ بینک والی سیاسی جماعت کے طور پر سیاست بچا لیتا اور یوں رو رو کر معافیاں مانگ مانگ کر ریلیف لینے سے بچ جاتا ۔
نو مئی کو اس نے جو کچھ کیا ۔سوشل میڈیا کے زریعے مالکوں کو جس طرح عاجز کیا اس کو ریلیف مل جانا ہی بہت بڑی چیز ہے ۔سیاست ختم اور قوم کو نیا الطاف حسین مبارک ۔
واپس کریں