دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
بلوچستان کی جنگ آزادی ۔ اظہر سید
اظہر سید
اظہر سید
بلوچستان میں کوئی آزادی کی جنگ نہیں لڑی جا رہی ۔بیرون ملک بیٹھے بلوچ عسکریت پسند راہنما نوجوان بلوچوں کو پاکستان اور چین مخالف مغربی دنیا کے مفادات کیلئے ایندھن بنا رہے ہیں۔
بیرون ملک بیٹھی بلوچ عسکریت پسند قیادت تمام حقائق سے اچھی طرح واقف ہےکہ وہ پاکستانی فوج کو تنگ کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے ۔
بھارتی بھی اچھی طرح جانتے ہیں پاکستان کے پنتالیس فیصد رقبہ والے بلوچستان میں ابادی محض چار فیصد ہے اور وہ بھی منقسم ہے ۔جس قدر طاقتور پاکستانی فوج ہے چار فیصد کی بجائے سو فیصد بلوچ ابادی بھی ہو فوج کو شکست دینا ممکن نہیں کہ ہمسایہ میں بنگلادیش کی طرح کوئی بھارت نہیں۔
ایک طرف ایران ہے ۔دوسری طرف ساحل مکران ہے ۔تیسری سمت افغانستان ہے ۔سب سے بڑی بات دنیا کی حقیقی معاشی اور سائنسی سپر پاور چینیوں کی سی پیک اور گوادر بندرگاہ کی صورت طاقتور موجودگی ہے ۔
ہتھیار اٹھانے والے نوجوان بلوچوں کو صرف مفادات کے تنور میں جلایا جا سکتا ہے اور کچھ نہیں ہو سکتا۔
وفاق کی رقبہ کے لحاظ سے سب سے بڑی اکائی میں ابادی ہی محض چار فیصد ہے جن میں سے پچاس فیصد پختون ہیں۔ہزارہ اور پنجابی ہیں۔صرف بلوچ ابادی کی بات کریں تو اکثریت ایرانی بلوچستان میں ہے ۔
ایک بڑا حصہ جنوبی پنجاب کے بلوچوں پر مشتمل ہے ۔
بلوچستان کے اندر ہتھیار اٹھانے والے بلوچ کل بلوچ ابادی کا نصف فیصد بھی نہیں ۔کیا یہ ممکن ہے تین چار ہزار بلوچ عسکریت پسند سات لاکھ طاقتور فوج کو چیلنج کر سکیں اور آزادی حاصل کر سکیں ؟ نہیں ممکن کہ بلوچستان کی بلوچ ابادی کی اکثریت بھی بھلے عسکریت پسندوں سے ہمدردی رکھتی ہو کچھ نہیں کر سکتی ۔
یہ حقائق بیرون ملک بیٹھ کر بلوچ نوجوانوں کو تاریک راہوں میں مروانے والے لیڈر اچھی طرح جانتے ہیں لیکن اپنی پیراڈائز زندگی کیلئے انتہائی سفاکی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
فوج اور بلوچ عسکریت پسندوں میں تصادم پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا ماضی میں بھی یہ فوج سے لڑتے آئے ہیں۔کم تعداد ،بڑے رقبہ اور منقسم آبادی کی وجہ سے پہلے بھی ناکام ہوتے آئے ہیں ۔اب بھی ناکام ہونگے ۔
مٹھی بھر بلوچ عسکریت پسندوں کو مدد ایران،افغانستان سے ملتی تھی ۔اس مرتبہ گوادر کو دوبئی بندرگاہ کیلئے خطرہ سمجھنے والے خلیجی ممالک بھی انکی مدد کر رہے ہیں۔
پاکستان اور چین سب جانتے اور سمجھتے ہیں۔ایران دوست بنایا جا چکا ہے ۔افغانی ملڑے گھٹنے ٹیک چکے ہیں۔
خلیجی ممالک کی سوڈان اور یمن میں پٹائی شروع ہو چکی ہے ۔
ایرانی ملڑوں کے خلاف موجودہ ایرانی تحریک کامیاب بھی ہو جائے بلوچ عسکریت پسند کچھ نہیں کر پائیں گے ۔
بھارت بنگلادیش اور پاکستان میں ڈیڑھ سے پونے دو ارب انسان بستے ہیں۔دنیا کے صاف پانی کا صرف چار فیصد دنیا کی اس ایک تہائی ابادی کو میسر ہے ۔
بھارت کی ایک ارب سے زیادہ ابادی کو پیٹ بھرنے کیلئے فوڈ باسکٹ پنجاب،ہریانہ اور راجھستان ہے ۔
پاکستان کی ستائیس کروڑ ابادی کی فوڈ باسکٹ پنجاب اور سندھ ہے۔
یہ سارا علاقہ صاف پانی کی شدید کمی کا شکار ہو چکا ہے ۔گلیشیر پگھل رہے ہیں ۔مستقبل کے پانی کی فراہمی کے قدرتی نظام تیزی سے ایک ہولناک منظر بننے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
مستقبل قریب کے ان خطرات سے نپٹنے کا ایک ہی طریقہ بچا ہے ۔پاک بھارت مذاکرات یا پھر پاک بھارت خوفناک جنگ ۔
جنگ ہوئی تو بھی قحط سالی سے بچنے کیلئے جنگ کے بعد بات چیت ہی ہو گی ۔
یہ سب کچھ اگلے چند سالوں میں ہونے جا رہا ہے ۔
جب مستقبل کی خوفناک نقشہ گری سامنے ہو تو کونسی بلوچ جنگ آزادی اور کون سا آزاد بلوچستان ۔
موجودہ بلوچ عسکریت پسندی اگلے چند ماہ میں ختم کر دی جائے گی ۔
تحریک طالبان کے دہشت گردوں کو جس طرح مارا جا رہا ہے ہمیں لگتا ہے اگلے چھ آٹھ ماہ میں خارجیوں کی دہشت گردی بھی ختم ہو جائے گی ۔
پاک بھارت امن مذاکرات جلد شروع ہو گئے تو خارجی دہشتگردی اور بلوچ عسکریت پسندی بھی جلد ختم ہو جائے گی ۔
بھارتی وزیر خارجہ کہنہ مشق اور جہاندیدہ سفارتکار ہیں۔خالدہ ضیا کے جنازہ کے موقع پر پاکستانی اسپیکر قومی اسمبلی سے خود آکر ملنا اور ہاتھ ملانا تیزی سے تبدیل ہوتے حقائق کے تناظر میں دیکھا جائے تو نیا سال پاکستان کیلئے کامیابیوں اور کامرانیوں کا سال ثابت ہو گا ۔
واپس کریں