اظہر سید
ایجنسی والوں سے دوستی ہو بہت ساری ایسی باتیں پتہ چلتی ہیں جو بظاہر عوامی اضطراب کا باعث ہوتی ہیں لیکن حقیقت میں ملک کے مفاد میں ہوتی ہیں۔
ہے بھی پتہ چلتا ہے مخالف ایجنسی والے دس ہزار ڈالر میں ایجنٹ بناتے ہیں اور ہمارے والوں کے پاس ہزار ڈالر بھی مشکل سے ہوتے ہیں۔
ہمارے والے پھر پیسے نہ ہونے کی وجہ سے لنگور کی دم درخت سے باندھ کر پٹائی کرتے ہیں ۔ہینگ لگتی ہے نہ پھٹکری رنگ بھی چوکھا آتا ہے ۔
پٹائی والا ڈنڈا تو تین ڈالر میں مل جاتا ہے ،باندھنے کا کام ہنر مندی اور فنکاری سے ہوتا ہے اور ہمارے والے فطری فنکار ہیں ۔
کبھی بھارتیوں کی مقبوضہ کشمیر میں باندھ کر پٹائی کرتے ہیں، کبھی خالصتان کے ڈنڈے کے ساتھ مارتے ہیں ۔
کبھی سوویت یونین کو افغان ڈنڈے کے ساتھ دل کھول کر پیٹتے ہیں اور کبھی امریکیوں اور ناٹو ممالک کی اسی ڈنڈے کے ساتھ بینڈ بجاتے ہیں۔
امارات والے بلوچ عسکریت پسندوں کی چپکے چپکے مدد کر کے سمجھتے تھے گودار پورٹ روک لیں گے لیکن انہیں ہماری فنکاری اور ہنر مندی کا پتہ اب چلے گا ۔
سعودی عرب اور امارات نے حوثی باغیوں کے خلاف مل کر یمن میں حملہ کیا تھا ہم نے پہلے ایران اور سعودیہ میں دوستی کرائی پھر وہاں جا کر سب کو ایک اتحاد میں پرو دیا ۔
سب کو سعودی جھنڈے تلے کھڑا کر کے اماراتی اسلحہ بردار جہاز اڑا دئے ۔اتحاد میں نئے نئے شامل ہونے والے لیبیا آرمی چیف کی ہلاکت کا بدلہ بھی لے لیا اور اماراتیوں کو اکیلا بھی کر دیا۔
اب شیخ صاحب راتوں رات یمن سے بھاگے ہیں اور سعودی عرب کی دھاک بھی بیٹھ گئی ہے ۔
اب بلوچ عسکریت پسندی ختم ہو گی ۔ایران پہلے ہی پیچھے ہٹ گیا تھا۔ افغانی ملڑے کی طبیعت بھی صاف ہو چکی ہے ۔اخری سہارا اماراتی شیخ تھے ۔باز نہ آئے جلد ہی انکی دم بھی باندھ کر تین ڈالر کا ڈنڈا خرید لیا جائے گا۔
کھسماں نوں کھانے
واپس کریں